اب ایک بسنتی غزل۔

اب ایک بسنتی غزل۔
طلسم ہوش ربا میں  پتنگ اڑتی ہے
کسی عقب کی ہوا میں  پتنگ اڑتی ہے
چڑھے ہیں  کاٹنے والوں  پہ لوٹنے والے
اسی ہجوم بلا میں  پتنگ اڑتی ہے
پتنگ اڑانے سے کیا منع کر سکے زاہد
کہ اس کی اپنی عبا میں  پتنگ اڑتی ہے
کہیں  چھتوں  پہ بپا ہے بسنت کا تہوار
کہیں  پہ تنگئی جا میں  پتنگ اُڑتی ہے
کہیں  فلک پہ سرکتی ہے سرسراتی ہوئی
کہیں  دلوں  کی فضا میں  پتنگ اڑتی ہے
کھلا ہے اس پہ کچھ ایسے بہار کا موسم
ہے رخ پہ رنگ، قبا میں  پتنگ اڑتی ہے
یہ خواب ہے کہ الجھتا ہے اور خوابوں  سے
یہ چاند ہے کہ خلا میں  پتنگ اُڑتی ہے
امید وصل میں  سو جائیں  ہم کبھی تو، ظفر
ہماری خواب سرا میں  پتنگ اڑتی ہے

2 Responses to “اب ایک بسنتی غزل۔”

  1. عادل بھائی
    کیا ’سمت‘ کے اگلے شمارے کے لیے یہ غزلیں لے سکتا ہوں؟
    لیکن پہلے یہ بات کہ آپ عادل منصوری ہی ہیں نا؟
    اعجاز

  2. لیکن مکمل پڑھی تو معلوم ہوا کہ اس میں مقطع بھی ہے اور غزلیں ظفر اقبال صاحب کی ہی ہیں۔ شکریے اور اس بلاگ کے حوالے سے ’سمت‘ میں شائع کر دوں؟ اگر جواب نہ ملا تو میں اسے اجازت اور رضامندی سمجھوں گا۔
    اعجاز عبید

Leave a Reply