اوراب ایک تازہ غزل۔

اوراب ایک تازہ غزل۔
گم ہوتے گئے آپ ہی امکان ہمارے
مشکل ہوئے جو کام تھے آسان ہمارے
بکھرے ہو کہاں  ، اے خس و خاشاک  تمنا
غائب ہو کدھر ، اے سروسامان ہمارے
دریاؤں  سے اب سوکھتا ہی جائے گا پانی
اور پھیلتے جائیں گے بیابان ہمارے
ہوگا نہیں  موجود تواضع کیلئے کچھ
رک جائیں گے اب آپ ہی مہمان ہمارے
بازار ہیں  اب ان کی جگہ رونق ہر شہر
یوں  ختم ہوئے خود ہی گلستان ہمارے
بندے بھی درآمدکیے جائیں گے کہ سارے
شیطان ہوئے جاتے ہیں  انسان ہمارے
باہر سے ہی مضبوط نظر آتے ہیں  لیکن
اندر سے یہی جسم ہیں  بے جان ہمارے
 معصوم ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اب تک
دشمن ہیں  ان احوال سے ان جان ہمارے
چوروں  کی ، ظفر ، کوئی ضرورت نہیں  باقی
مامور ہیں  اب خود ہی نگہبان ہمارے   

 

اوراب ایک تازہ غزل۔

اوراب ایک تازہ غزل۔
گم ہوتے گئے آپ ہی امکان ہمارے
مشکل ہوئے جو کام تھے آسان ہمارے
بکھرے ہو کہاں  ، اے خس و خاشاک  تمنا
غائب ہو کدھر ، اے سروسامان ہمارے
دریاؤں  سے اب سوکھتا ہی جائے گا پانی
اور پھیلتے جائیں گے بیابان ہمارے
ہوگا نہیں  موجود تواضع کیلئے کچھ
رک جائیں گے اب آپ ہی مہمان ہمارے
بازار ہیں  اب ان کی جگہ رونق ہر شہر
یوں  ختم ہوئے خود ہی گلستان ہمارے
بندے بھی درآمدکیے جائیں گے کہ سارے
شیطان ہوئے جاتے ہیں  انسان ہمارے
باہر سے ہی مضبوط نظر آتے ہیں  لیکن
اندر سے یہی جسم ہیں  بے جان ہمارے
 معصوم ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اب تک
دشمن ہیں  ان احوال سے ان جان ہمارے
چوروں  کی ، ظفر ، کوئی ضرورت نہیں  باقی
مامور ہیں  اب خود ہی نگہبان ہمارے   

 

One Response to “اوراب ایک تازہ غزل۔”

  1. Adaab
    aap ka blog urdu unicode wrting main dykh kar khushi huwee.
    aap ky colums parhta rehta houn Express main. jnab aap kay blog ka urdu hulyaa kuch theek nahi.
    aap apnay blog ka theme urdu main karna chahian to
    http://urduhome.com/?cat=8
    iss rabt say apni pasand ka urdu theme hasil kar lain.
    wslam

Leave a Reply