اور اب يہ تازہ ترين۔
اور اب يہ تازہ ترين۔
بيٹھے رہے اور بن نہ سکی بات ہماری
کيا کيجئے اتنی ہی تھی اوقات ہماری
کچھ اپنے سوا ہم کو دکھائی نہيں ديتا
رہتی ہے فقط پيش نظر ذات ہماری
دشنام ہے ، رسوائی ہے اور طعنہ اغيار
ہوتی ہے تو اضع يہی دن رات ہماری
خوش فہم ہوں جتنے بھی زيادہ ،مگر اے کاش
تصديق تو کرتے کبھی حالات ہماری
ممکن ہی نہيں اپنے مقدر کا بدلنا
جب تک کہ بدلتی نہيں عادات ہماری
سو جوتے بھی کھانا پڑے ، سو پياز بھی ہم کو
اکثر رہی ايسی ہی مدارات ہماری
اب ان کے اشارات کی تکميل ہے لازم
جن کے لئے ہونا تھيں ہدايات ہماری
دشمن کو يہ مژدہ ہو کہ زحمت نہ اٹھائے
خود اپنے مخالف ہيں مہمات ہماری
اوروں سے چلن کوئی الگ ہے ظفر ، اپنا
مشہور ہیں عالم میں حکایات ہماری
Posted on February 28th, 2007 by adil
Filed under: General
Leave a Reply