دوسری زندگی ……..یاسمین حمیدکا کل کلام

 
دوسری زندگی ……..یاسمین حمیدکا کل کلام

 
zafar-iqbal.jpg
 
 
 
 
 

میں ایک کاہل ، غیر منظم اورغیر ذمہ دار آدمی ہوں ۔ کتابیں جو میرے پاس آتی ہیں ان کی رسید دینا میری سرشت ہی میں شامل نہیں ۔ ہر کتاب بھیجنے والا میری رائے کا طلب گار ہوتا ہے جسے میں ہرگز سند نہیں سمجھتا اور نہ ہی دوسروں کو سمجھنا چاہیے ظاہر ہے کہ رائے مجھے اپنے کالم ہی کے ذریعے دینا ہوتی ہے چنانچہ کچھ کتابیں اس سعادت سے محروم بھی رہ جاتی ہیں اصولی طور پر ادارتی صفحہ پر سیاسی اور معاشرتی مسائل پر مشتمل تحریریں ہی شائع ہونی چاہئیں لیکن اخبار کی مروت کی وجہ سے مہینے میں میرے دو چار اس طرح کے کالم بھی نکل جاتے ہیں جس سے میرے منہ کا ذائقہ بھی تبدیل ہو جاتا ہے اور شاید قاری کا بھی۔ بہرحال ہر کتاب پر رائے دینا میرے لئے ممکن بھی نہیں ہوتا نہ ہی یہ کوئی تبصرہ یا تجزیہ ہوتا ہے بلکہ کتاب کا صرف ذکرہو جاتا ہے یہ چھپ گئی ہے اور مجھے کیسی لگی ہے وغیرہ وغیرہ ۔
 یاسمین حمید اب ہمارے ممتاز اور سینئر لکھنے والوں میں شمار ہوتی ہیں غزل،نظم اور نثری نظم میں اہل ادب سے اپنا لوہا منواچکی ہیں میں پہلے بھی ان کے مجموعوں پر گاہے بگاہے اپنی رائے دے چکا ہوں اب “دوسری زندگی “کے عنوان سے انہوں نے اپنے چاروں شعری مجموعوں کو یکجا کردیا ہے تاہم سن اشاعت کے حوالے سے انہوں نے ان کی ترتیب کو الٹا دیا ہے چنانچہ جو قاری ان کے فن کاارتقائی جائزہ لینا چاہے وہ اس کتاب کو الٹی طرف سے بھی شروع کر سکتا ہے کتاب کا پس سرورق نامور نقاد شمس الرحمان فاروقی نے لکھا ہے جبکہ فلیپ ہماری سربرآوردہ افسانہ نگار خالدہ حسین کا تحریر کردہ ہے۔ عمدہ گیٹ اپ اور انتہائی خوبصورت سرورق کے ساتھ سات سو صفحات پرمحیط یہ کتاب دانیال کراچی نے شائع کی ہے جس کی قیمت ساڑھے سات سو روپے رکھی گئی ہے ان دونوں بڑی شخصیات نے شاعرہ کی کھل کر دی جس کے اعادہ کی ضرورت ہے نہ گنجائش ۔
مذکورہ بالا ہرسہہ اصناف سخن پر میں بساط بھر اپنے خیالات اور تحفظات کا اظہار کرتا ہوں ایسا لگتا ہے کہ آج کل لکھی جانے والی غزل کا معتدبہ حصہ نزع کے عالم میں ہے جبکہ نظم اپنے جواز کيلئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے بلکہ اگر یہ بھی کہا جائے تو کچھ ایسا غلط نہ ہوگا کہ اپنی درماندگی کے باوجود غزل نظم کے راستے کی دیوار بنی ہوئی ہے کیونکہ ہمارا قاری جو بنیادی طور پر غزل اور ئنٹیڈ ہے نظم اس کے گلے سے ٹھیک طرح سے اتر نہیں رہی بے شک نظم نے اپنی روایتی اور پابند حیثیت اور ہیت کو ترک کرکے اپنے آپ کو اپ ڈیٹ کیا ہے لیکن یہ صنف بوجوہ رعایتی نمبروں ہی کے بل بوتے پرکھڑی ہے اور غزل کی طرح ہمارے  لہو میں رچنے بسنے کيلئے اسے ایک مزید اور مناسب عرصہ درکار ہوگا نیز جیسا کہ میں پہلے بھی کہیں عرض کر چکا ہوں غزل کو اس گئی گزری حالت میں بھی نظم کے مقابلے میں سہولت حاصل ہے کہ اس کا شعر دومصرعوں ہی میں اپنا حساب بے باک کر دیتا ہے جبکہ نظم پانچ سے لے کر پچاس مصروں پرمشتمل ہو سکتی ہے اس صورت میں کہ قاری کے پاس شاعری کو دینے کيلئے بہت کم وقت رہ گیا ہے اور جو روز بروز مزید کم ہورہا ہے ۔
عمدہ شاعری کيلئے وہ نظم ہو یا غزل قاری تلاش نہیں کرنا پڑتا بلکہ قاری خود اس کی تلاش میں رہتا ہے اور کہیں نہ کہیں سے اسے ڈھونڈ بھی نکالتا ہے چنانچہ بری غزل اور بری نظم کی طرح اعلیٰ درجے کی نظم اور غزل بھی کہی جارہی ہے لیکن مقدار میں آٹے میں نمک کے برابر ہے اور شاعری اس بات سے صرف نظر کرکے تخلیق کی جارہی ہے کہ اس کا کوئی جواز اور ضرورت بھی ہے یا نہیں اچھی شاعری اور اچھا تاثر مل جاتا ہے لیکن عمدہ شاعری اوراعلیٰ درجے کا شاعر خا ل خال  ہی نظر آئے گا۔ بے شک ہمارے ہاں ہر طرح کی شاعری کا قاری دستیاب ہے لیکن زندہ رہنے والی تازہ مختلف اور جاندارشاعری جو وقت کی ضرورت ہے اس کے حوالے سے ہمارا ہاتھ خاصا تنگ ہے شاعر جس اندرونی مجبوری کے تحت شعر کہتا ہے اس کے مظاہرے نت نئے شائع ہونے والے مجموعوں میں دیکھے جا سکتے ہیں جو شعر کی صورتحال سے مایوس کرنے کيلئے کافی ہیں بہت سی خواتین و حضرات عمر بھر موزوں گوئی ہی کو شاعری سمجھ کر اپنااور اپنے جیسے قارئین کا کام چلاتے رہتے ہیں ۔
تاہم اچھے  ،بہت اچھے اوربرے اور بہت برے کا حساب ساتھ ساتھ ہوتا رہتا ہے لیکن شاعری کا عموعی معیاریقینی طور پر رو بہ زوال ہے جو بھی شعری مجموعہ دیکھیں عام طور پر فنی نقائص سے پاک اور نک سکھ سے درست ہونے کے باوجود مطلوبہ تازگی سے محروم نکلتا ہے اور یار لوگ پامال راستوں پرہی سفر کرتے نظر آتے ہیں جبکہ اصل شاعری ہمیشہ سے نئے راہ گزاروں  کی مقتضی رہی ہے لیکن نیا راستہ نکالنا بھی کوئی آسان کم نہیں ہے اس کيلئے جرأت بھی درکار ہوتی ہے اور قوانین بھی اصل مسئلہ بھی یہی ہے کہ شاعری ہر پندرہ بیس سال کے بعد اپنا فیشن تبدیل کرنے پر مجبور ہوتی ہے اور اس کے کھیتوںکی سیرابی کيلئے نئے پانیوں کی ضرورت درپیش رہتی ہے جس کيلئے شاعر کو خود ہی چشمہ کھودنا ہوتا ہے جبکہ شاعری کو اخلاقی اقدار میں بھی محبوس کردیا گیا ہے ۔ حضرت امیر خسرو ؒ کا قول ہے کہ نیک طبع شاعر اپنی تازہ غزلوں سے ایک سفینہ تیار کرتا ہے لیکن وہ سفینہ دریا پار نہیںکرسکتا چنانچہ شاعر جب تک کسی طوفان سے آشنا نہیں ہوتا اس کی موجوں میں اضطراب نہیں آسکتا۔
یاسمین حمید کی شاعری ایسی ہی ہے جیسے اسے ہونا چاہیے تھا بلکہ یوں کہناچاہیے کہ جیسی ایک خاتون کی شاعری ہونی چاہیے یعنی نہایت شریفانہ ، متین اور نجیب الطرفین لہذا اسے اسی تناظر میں دیکھناچاہیے اپنے جن مسائل و خصائل کا میں نے ابتداء میں ذکر کیا ہے ان میں ایک یہ بھی ہے کہ اکثر کتابیں میں پوری پڑھ بھی نہیں پاتا اور اتنی ہی پڑھتا ہوں جتنی میں کالم آرائی کيلئے ضروری اور کافی سمجھتا ہوں اور اگر شاعری پڑھے جانے کے قابل ہو تو یہ سلسلہ بعد میں بھی چلتا رہتا ہے اس کتاب کے سرسری مطالعہ سے مجھي” تھوک دی میں نے یہ نظم” بطور خاص اچھی لگی جو کچھ اس طرح سے ہے ” تھوک دی  میں نے یہ نظم “لوچاٹ لو اسے ، اپنی لمبی زبان سے ، میں نے صبر کیا ، اور تمہارا نام بدل دیا، میں نے آگ پھانک لی ، اورتمہیں سمندر نہ سمجھا ، میں نے اپنے خاکستری رنگ پر غور کیا ، اور  تمہارے خون کی رنگت پر ہنسی ، پی لیا میں نے اپنا آنسو ، اور سوکھ گئی صحرا کی طرح ، کاٹ لی میں نے رات، اور صبح کا انتظار نہ کیا، پھوڑ دئیے چراغ ، اور جلالئے اپنے ہاتھ ، اڑا دی ان کی راکھ ، ساتویں آسمان پر ،جہاں سے کوئی پلٹ کر آنا نہیں چاہتا ، سیپیوں سے موتی چن کر ، اچھال دئیے میں نے سمندر میں ، اور بھرلیں کانچ سے اپنے مٹھیاں ، تم نے کبھی خالص خون کی رنگت دیکھی ہے ؟ نہیں ، یہ زخم نہیں، ڈھانپ دیا  زخم کو ، اوربھر دیا گھاؤکو اپنے ہی گوشت سے دان کر دیں اپنی آنکھیں ، اور اپنے جسم کے ٹکروں سے ، ایک اور انسان بنایا ، اگر میں خدا ہوتی  تو اس میں روح پھونک دیتی ، سبحان اللہ کیا نظم ہے نثری نظم کہنے والوں کيلئے ایک مثالی نمونہ ہو سکتی ہے اب اس کو ایک مختصر آزاد نظم بعنوان “تکمیل “دیکھئے۔
“بلا کی بھیڑمیں ، میں نے جو تم سے بات کی ، بے لفظ تھی، لیکن مجھے معلوم ہے ، تم سن رہے تھے ” یاسمین حمید کی غزلوں پر بات ادھارر ہی۔

دوسری زندگی ……..یاسمین حمیدکا کل کلام

 
دوسری زندگی ……..یاسمین حمیدکا کل کلام

 
zafar-iqbal.jpg
 
 
 
 
 

میں ایک کاہل ، غیر منظم اورغیر ذمہ دار آدمی ہوں ۔ کتابیں جو میرے پاس آتی ہیں ان کی رسید دینا میری سرشت ہی میں شامل نہیں ۔ ہر کتاب بھیجنے والا میری رائے کا طلب گار ہوتا ہے جسے میں ہرگز سند نہیں سمجھتا اور نہ ہی دوسروں کو سمجھنا چاہیے ظاہر ہے کہ رائے مجھے اپنے کالم ہی کے ذریعے دینا ہوتی ہے چنانچہ کچھ کتابیں اس سعادت سے محروم بھی رہ جاتی ہیں اصولی طور پر ادارتی صفحہ پر سیاسی اور معاشرتی مسائل پر مشتمل تحریریں ہی شائع ہونی چاہئیں لیکن اخبار کی مروت کی وجہ سے مہینے میں میرے دو چار اس طرح کے کالم بھی نکل جاتے ہیں جس سے میرے منہ کا ذائقہ بھی تبدیل ہو جاتا ہے اور شاید قاری کا بھی۔ بہرحال ہر کتاب پر رائے دینا میرے لئے ممکن بھی نہیں ہوتا نہ ہی یہ کوئی تبصرہ یا تجزیہ ہوتا ہے بلکہ کتاب کا صرف ذکرہو جاتا ہے یہ چھپ گئی ہے اور مجھے کیسی لگی ہے وغیرہ وغیرہ ۔
 یاسمین حمید اب ہمارے ممتاز اور سینئر لکھنے والوں میں شمار ہوتی ہیں غزل،نظم اور نثری نظم میں اہل ادب سے اپنا لوہا منواچکی ہیں میں پہلے بھی ان کے مجموعوں پر گاہے بگاہے اپنی رائے دے چکا ہوں اب “دوسری زندگی “کے عنوان سے انہوں نے اپنے چاروں شعری مجموعوں کو یکجا کردیا ہے تاہم سن اشاعت کے حوالے سے انہوں نے ان کی ترتیب کو الٹا دیا ہے چنانچہ جو قاری ان کے فن کاارتقائی جائزہ لینا چاہے وہ اس کتاب کو الٹی طرف سے بھی شروع کر سکتا ہے کتاب کا پس سرورق نامور نقاد شمس الرحمان فاروقی نے لکھا ہے جبکہ فلیپ ہماری سربرآوردہ افسانہ نگار خالدہ حسین کا تحریر کردہ ہے۔ عمدہ گیٹ اپ اور انتہائی خوبصورت سرورق کے ساتھ سات سو صفحات پرمحیط یہ کتاب دانیال کراچی نے شائع کی ہے جس کی قیمت ساڑھے سات سو روپے رکھی گئی ہے ان دونوں بڑی شخصیات نے شاعرہ کی کھل کر دی جس کے اعادہ کی ضرورت ہے نہ گنجائش ۔
مذکورہ بالا ہرسہہ اصناف سخن پر میں بساط بھر اپنے خیالات اور تحفظات کا اظہار کرتا ہوں ایسا لگتا ہے کہ آج کل لکھی جانے والی غزل کا معتدبہ حصہ نزع کے عالم میں ہے جبکہ نظم اپنے جواز کيلئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے بلکہ اگر یہ بھی کہا جائے تو کچھ ایسا غلط نہ ہوگا کہ اپنی درماندگی کے باوجود غزل نظم کے راستے کی دیوار بنی ہوئی ہے کیونکہ ہمارا قاری جو بنیادی طور پر غزل اور ئنٹیڈ ہے نظم اس کے گلے سے ٹھیک طرح سے اتر نہیں رہی بے شک نظم نے اپنی روایتی اور پابند حیثیت اور ہیت کو ترک کرکے اپنے آپ کو اپ ڈیٹ کیا ہے لیکن یہ صنف بوجوہ رعایتی نمبروں ہی کے بل بوتے پرکھڑی ہے اور غزل کی طرح ہمارے  لہو میں رچنے بسنے کيلئے اسے ایک مزید اور مناسب عرصہ درکار ہوگا نیز جیسا کہ میں پہلے بھی کہیں عرض کر چکا ہوں غزل کو اس گئی گزری حالت میں بھی نظم کے مقابلے میں سہولت حاصل ہے کہ اس کا شعر دومصرعوں ہی میں اپنا حساب بے باک کر دیتا ہے جبکہ نظم پانچ سے لے کر پچاس مصروں پرمشتمل ہو سکتی ہے اس صورت میں کہ قاری کے پاس شاعری کو دینے کيلئے بہت کم وقت رہ گیا ہے اور جو روز بروز مزید کم ہورہا ہے ۔
عمدہ شاعری کيلئے وہ نظم ہو یا غزل قاری تلاش نہیں کرنا پڑتا بلکہ قاری خود اس کی تلاش میں رہتا ہے اور کہیں نہ کہیں سے اسے ڈھونڈ بھی نکالتا ہے چنانچہ بری غزل اور بری نظم کی طرح اعلیٰ درجے کی نظم اور غزل بھی کہی جارہی ہے لیکن مقدار میں آٹے میں نمک کے برابر ہے اور شاعری اس بات سے صرف نظر کرکے تخلیق کی جارہی ہے کہ اس کا کوئی جواز اور ضرورت بھی ہے یا نہیں اچھی شاعری اور اچھا تاثر مل جاتا ہے لیکن عمدہ شاعری اوراعلیٰ درجے کا شاعر خا ل خال  ہی نظر آئے گا۔ بے شک ہمارے ہاں ہر طرح کی شاعری کا قاری دستیاب ہے لیکن زندہ رہنے والی تازہ مختلف اور جاندارشاعری جو وقت کی ضرورت ہے اس کے حوالے سے ہمارا ہاتھ خاصا تنگ ہے شاعر جس اندرونی مجبوری کے تحت شعر کہتا ہے اس کے مظاہرے نت نئے شائع ہونے والے مجموعوں میں دیکھے جا سکتے ہیں جو شعر کی صورتحال سے مایوس کرنے کيلئے کافی ہیں بہت سی خواتین و حضرات عمر بھر موزوں گوئی ہی کو شاعری سمجھ کر اپنااور اپنے جیسے قارئین کا کام چلاتے رہتے ہیں ۔
تاہم اچھے  ،بہت اچھے اوربرے اور بہت برے کا حساب ساتھ ساتھ ہوتا رہتا ہے لیکن شاعری کا عموعی معیاریقینی طور پر رو بہ زوال ہے جو بھی شعری مجموعہ دیکھیں عام طور پر فنی نقائص سے پاک اور نک سکھ سے درست ہونے کے باوجود مطلوبہ تازگی سے محروم نکلتا ہے اور یار لوگ پامال راستوں پرہی سفر کرتے نظر آتے ہیں جبکہ اصل شاعری ہمیشہ سے نئے راہ گزاروں  کی مقتضی رہی ہے لیکن نیا راستہ نکالنا بھی کوئی آسان کم نہیں ہے اس کيلئے جرأت بھی درکار ہوتی ہے اور قوانین بھی اصل مسئلہ بھی یہی ہے کہ شاعری ہر پندرہ بیس سال کے بعد اپنا فیشن تبدیل کرنے پر مجبور ہوتی ہے اور اس کے کھیتوںکی سیرابی کيلئے نئے پانیوں کی ضرورت درپیش رہتی ہے جس کيلئے شاعر کو خود ہی چشمہ کھودنا ہوتا ہے جبکہ شاعری کو اخلاقی اقدار میں بھی محبوس کردیا گیا ہے ۔ حضرت امیر خسرو ؒ کا قول ہے کہ نیک طبع شاعر اپنی تازہ غزلوں سے ایک سفینہ تیار کرتا ہے لیکن وہ سفینہ دریا پار نہیںکرسکتا چنانچہ شاعر جب تک کسی طوفان سے آشنا نہیں ہوتا اس کی موجوں میں اضطراب نہیں آسکتا۔
یاسمین حمید کی شاعری ایسی ہی ہے جیسے اسے ہونا چاہیے تھا بلکہ یوں کہناچاہیے کہ جیسی ایک خاتون کی شاعری ہونی چاہیے یعنی نہایت شریفانہ ، متین اور نجیب الطرفین لہذا اسے اسی تناظر میں دیکھناچاہیے اپنے جن مسائل و خصائل کا میں نے ابتداء میں ذکر کیا ہے ان میں ایک یہ بھی ہے کہ اکثر کتابیں میں پوری پڑھ بھی نہیں پاتا اور اتنی ہی پڑھتا ہوں جتنی میں کالم آرائی کيلئے ضروری اور کافی سمجھتا ہوں اور اگر شاعری پڑھے جانے کے قابل ہو تو یہ سلسلہ بعد میں بھی چلتا رہتا ہے اس کتاب کے سرسری مطالعہ سے مجھي” تھوک دی میں نے یہ نظم” بطور خاص اچھی لگی جو کچھ اس طرح سے ہے ” تھوک دی  میں نے یہ نظم “لوچاٹ لو اسے ، اپنی لمبی زبان سے ، میں نے صبر کیا ، اور تمہارا نام بدل دیا، میں نے آگ پھانک لی ، اورتمہیں سمندر نہ سمجھا ، میں نے اپنے خاکستری رنگ پر غور کیا ، اور  تمہارے خون کی رنگت پر ہنسی ، پی لیا میں نے اپنا آنسو ، اور سوکھ گئی صحرا کی طرح ، کاٹ لی میں نے رات، اور صبح کا انتظار نہ کیا، پھوڑ دئیے چراغ ، اور جلالئے اپنے ہاتھ ، اڑا دی ان کی راکھ ، ساتویں آسمان پر ،جہاں سے کوئی پلٹ کر آنا نہیں چاہتا ، سیپیوں سے موتی چن کر ، اچھال دئیے میں نے سمندر میں ، اور بھرلیں کانچ سے اپنے مٹھیاں ، تم نے کبھی خالص خون کی رنگت دیکھی ہے ؟ نہیں ، یہ زخم نہیں، ڈھانپ دیا  زخم کو ، اوربھر دیا گھاؤکو اپنے ہی گوشت سے دان کر دیں اپنی آنکھیں ، اور اپنے جسم کے ٹکروں سے ، ایک اور انسان بنایا ، اگر میں خدا ہوتی  تو اس میں روح پھونک دیتی ، سبحان اللہ کیا نظم ہے نثری نظم کہنے والوں کيلئے ایک مثالی نمونہ ہو سکتی ہے اب اس کو ایک مختصر آزاد نظم بعنوان “تکمیل “دیکھئے۔
“بلا کی بھیڑمیں ، میں نے جو تم سے بات کی ، بے لفظ تھی، لیکن مجھے معلوم ہے ، تم سن رہے تھے ” یاسمین حمید کی غزلوں پر بات ادھارر ہی۔

Leave a Reply