سہ ماہی “قرطاس” گوجرانوالہ کا تازہ شمارہ
|
Tuesday, March 27, 2007
|
|
سہ ماہی “قرطاس” گوجرانوالہ کا تازہ شمارہ
|
![]() |
زیر نظر پرچہ نواں شمارہ ہے جو سالنامے کے طور پر شائع کیا گیا ہے جو کم و بیش ساڑھے پانچ سو صفحات پر مشتمل ہے، اور جسے شاعر جان کاشمیری گزشتہ دو برسوں سے باقاعدگی کے ساتھ چھاپ رہے ہیں ۔ مراکز سے دور ایسی کاوشیں انتہائی قابل تعریف ہیں ۔ بیشک اکثر جریدے ایڈیٹر حضرات اپنی ہی پروجیکشن کے لئے نکالتے ہیں ، لیکن اگر ایسا ہو بھی تو اس سے بہت سے دوسرے ادباء شعرا کی گنجائش ساتھ ساتھ نکلتی رہتی ہے۔ جان کاشمیری ہمارے سینئر شعراء میں شمار ہوتے ہیں اور اگر ان کا چلن یہی رہا تو امید ہے کہ وہ بہت جلد گوجرانوالہ مکتب فکر کی بھی بنیاد رکھتے نظر آتے ہیں ۔ نیز اس پرچے کی صحت مندانہ صحافت سے اندازہ ہوتا ہے کہ گوجرانوالہ جہاں ایک بڑا صنعتی مرکز ہے وہاں ادب کے میدان میں بھی پیچھے نہیں ہے۔
پچھلے چند برسوں میں متعدد معیاری رسائل کا اضافہ ہوا ہے اور کچھ بند ہوئے ہیں ۔ ہمارے دوست اور مختصر نظم کے بہت عمدہ شاعر نصیر احمد ناصر معاملات دل میں کچھ ایسے الجھے کہ “تسطیر” کو بند کرتے ہی بنی حالانکہ اس نے معیاری ادبی رسائل میں اپنا ایک مقام اور شناخت بنالی تھی۔ لیکن اسی نواح سے ہمارے ایک اور شاعر دوست علی محمد فرشی نے “سمبل” کے نام سے ایک ضخیم اور خوبصورت پرچہ نکال کر سب کو حیران کر دیا اور “تسطیر” کی کمی پوری کر دی۔ ایڈیٹر اگر خود بھی کسی صنف ادب میں طبع آزمائی کرتا ہو تو ادیب برادری کے ساتھ اس کا تعلق پہلے ہی سے استوار رہتا ہے اور معیاری تخلیقات حاصل کرنے کے لئے اسے کچھ زیادہ دقت پیش نہیں آتی۔ زیادہ تر مدیر حضرات تو اپنی جان ہی پر کھیلتے ہیں اور پانچ سات ایشو نکال کر اور تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں جبکہ کچھ شمارے ایڈیٹر کے بیمار پڑ جانے یا انتقال کر جانے کے سبب بند ہو جاتے ہیں ۔ “تسطیر” کا ذکر اوپر آ چکا ہے۔ اس کی دوسری مثال مشہور ممتاز جریدے “فنون” کی ہے جو احمد ندیم قاسمی صاحب کی رحلت کے باعث کم و بیش بندش ہی کی صورت حال سے دو چار ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق “فنون” کا سارا حساب کتاب منصورہ احمد کے پاس تھا، جنہیں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ “فنون” تو پہلے ہی خسارے میں جا رہا تھا، حساب کتاب کیسا؟ تیسری مثال معروف رسالے “اوراق” کی ہے جو “فنون” ہی کے ہم قدم چلا آ رہا تھا لیکن ڈاکٹر وزیر کی مسلسل علالت اور پیرانہ سالی کے باعث سست روی کا شکار ہو کر سال میں بمشکل ایک شمارہ چھپ جاتا ہے جو بھی بہت غنیمت ہے۔
حصہ مضامین میں ڈاکٹر وزیر آغا، ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر انور سدید اور ڈاکٹر ضیاء الحسن سمیت بہت سے وقیع نام شامل ہیں اور اس مختصر کالم میں ان مضامین کا فرداً فرداً تذکرہ ناممکن ہے جبکہ اس شمارے کی خصوصیت اظہر جاوید میر ماہنامہ “تخلیق” لاہور کا گوشہ ہے جو ان کی شاعری سمیت نثری و ادبی خدمات کا تفصیلی مطالعہ پیش کرتا ہے جسے صاحب موصوف کی مختلف شخصیتوں کے ساتھ اتروائی گئی متعدد تصاویر سے مزین کیا گیا ہے اور جس کے لئے آرٹ پیپر کا خصوصی استعمال کیا گیا ہے۔ اظہر جاوید خاموشی اور خوداری سے اردو ادب کی جو خدمت سالہا سال سے کر رہے ہیں یہ گوشہ ان کی مذکورہ کاوشوں کے مناسب اعتراف کی حیثیت رکھتا ہے جس میں متعدد خواتین و حضرات نے نظم و نثر میں اپنا اپنا خراج تحسین ادا کیا ہے۔
افسانوں کے علاوہ حصہ نثر میں خالد فتح محمد نے وزیر آغا کی مشہور نظم “بارہواں کھلاڑی” کا تجزیہ پیش کیا ہے جبکہ تراجم کا حصہ بھی برقرار ہے۔ شعرائے کرام کی فہرست حسب توقع بہت طویل ہے جو محسن احسان سے لے کر افتخار عارف اور احمد صغیر صدیقی تک پھیلی ہوئی ہے یہ صرف غزل گو حضرات ہیں جبکہ نظموں کی اشاعت میں بھی کنجوسی سے کام نہیں لیا گیا۔ حصہ غزل میں سے قارئین کی تفنن طبع کے لئے کچھ اشعار
یہ دشواری تو آسانی کا خمیازہ ہے، ورنہ
بہت ہی سہل تھا ہم کو بہت دشوار ہونا
حرف تردید سے پڑ سکتے ہیں سو طرح کے پیچ
سادہ ایسے بھی نہیں ہیں کہ وضاحت کریں ہم
دن نکلنے کو ہے، چہروں پہ سجا لیں دنیا
صبح سے پہلے ہر اک خواب کو رخصت کریں ہم
(افتخار عارف)
کہاں گئے وہ لہجے دل میں پھول کھلانے والے
آنکھیں دیکھ کے خوابوں کی تعبیر بتانے والے
کسی تماشے میں رہتے تو کب کے گم ہو جاتے
اک گوشے میں رہ کر اپنا آپ بچانے والے
ایک بے یقیں لہجہ خوف سے لرزتا تھا
اک چھپی ہوئی حیرت حیرتوں سے باہر تھی
(عزم بہزاد)
کوئی غم ہے مری خوشیوں پہ نظر ہے جس کی
کوئی دریا مرے شہروں کے پتے پوچھتا ہے
کسی صورت نہیں تھا سر جھکا دینے پہ تیار
شجر کو دیر تک طوفان میں رہنا نہیں تھا
(احمد صغیر صدیقی)
میں اگلی بار تجھے ساتھ لے کر جاؤں گا
مجھے ابھی تو کہیں اور ہو کے جانا ہے
یہ لوگ مجھ سے ترا بار بار پوچھتے ہیں
مجھے بتا تو سہی ان کو کیا بتانا ہے
(رانا سعید دوشی)
پہلے یہ منظر نظر آتا تھا مجھ کو دور سے
اب میں خود موجود ہوں منہ زور طغیانی کے بیچ
(عاطف کمال رانا)
تجھے یہ دستکیں دینے کا شوق کب سے ہوا
ہمارا در تو تجھے دیکھ کر کھٹکتا ہے
(ساگر احمد)
جان کاشمیری کو اپنے پاس پڑوس کے نئے اور عمدہ شعراء شاہین عباس، نوید رضا اور اظہر عباس وغیرہ کا تعاون بھی حاصل کرنا چاہئے اس سالنامے کی قیمت صرف سو روپے ہے اور جان کاشمیری اس کاوش پر مبارکباد کے مستحق ہیں ۔
Posted on March 27th, 2007 by adil
Filed under: General

Leave a Reply