ظفر اقبال — اوراب کچھ تازہ کلام:۔

اوراب کچھ تازہ کلام:۔

کوئی بھی اختیار اچھا برا چلنے نہیں دیتا
وہ سب کچھ کر رہا ہے اورپتاچلنے نہیں دیتا
اندھیرا بھی ہے،پتوں  پرپسینہ بھی،مگراس نے
سحر روکی ہوئی ہے اور ہوا چلنے نہیں دیتا
کبھی اٹھوا رہاہے  سارا سودا ہی دکانوں  سے
کبھی بازار میں  سکہ مرا چلنے نہیں  دیتا
وہاں  درپیش ہے سارے سمندر کا سفر ہم  کو
سفینے کو جہاں  خود ناخدا چلنے نہیں  دیتا
ہمارے   ہاتھ  ہی اس نے  نہیں  باندھے ہوئے  وہ  تو
کسی کی بھی یہاں  اپنے سوا چلنے نہیں دیتا
بہت کچھ بند ہے اوراس گھڑی کچھ کہہ نہیں سکتے
کہ چلنے دے رہاہے کیا توکیاچلنے نہیں دیتا
وہ لے کرچل رہاہے سب کواپنی سرپرستی میں
کسی کواپنی مرضی سے جدا چلنے نہیں  دیتا
کھڑا ہوں  اور مرے آگے رکاوٹ بھی نہیں  کوئی
جو سچ پوچھیں  تو مجھ کوراستہ چلنے نہیں دیتا
ظفر،زنجیر میرے پاؤں  میں  ہے میری اپنی ہی

مجھے آگے مرا رنگ نوا چلنے نہیں  دیت

ظفر  اقبال

ا

ظفر اقبال — اوراب کچھ تازہ کلام:۔

اوراب کچھ تازہ کلام:۔

کوئی بھی اختیار اچھا برا چلنے نہیں دیتا
وہ سب کچھ کر رہا ہے اورپتاچلنے نہیں دیتا
اندھیرا بھی ہے،پتوں  پرپسینہ بھی،مگراس نے
سحر روکی ہوئی ہے اور ہوا چلنے نہیں دیتا
کبھی اٹھوا رہاہے  سارا سودا ہی دکانوں  سے
کبھی بازار میں  سکہ مرا چلنے نہیں  دیتا
وہاں  درپیش ہے سارے سمندر کا سفر ہم  کو
سفینے کو جہاں  خود ناخدا چلنے نہیں  دیتا
ہمارے   ہاتھ  ہی اس نے  نہیں  باندھے ہوئے  وہ  تو
کسی کی بھی یہاں  اپنے سوا چلنے نہیں دیتا
بہت کچھ بند ہے اوراس گھڑی کچھ کہہ نہیں سکتے
کہ چلنے دے رہاہے کیا توکیاچلنے نہیں دیتا
وہ لے کرچل رہاہے سب کواپنی سرپرستی میں
کسی کواپنی مرضی سے جدا چلنے نہیں  دیتا
کھڑا ہوں  اور مرے آگے رکاوٹ بھی نہیں  کوئی
جو سچ پوچھیں  تو مجھ کوراستہ چلنے نہیں دیتا
ظفر،زنجیر میرے پاؤں  میں  ہے میری اپنی ہی

مجھے آگے مرا رنگ نوا چلنے نہیں  دیت

ظفر  اقبال

ا

Leave a Reply