قاضی صاحب کے لئے ایک کالم
|
Sunday, February 25, 2007
|
|
قاضی صاحب کے لئے ایک کالم
|
![]() |
شعر و شاعری کا شوق کم و بیش ہر شخص کو ہوتا ہے بلکہ حق تو یہ ہے کہ ہر تھوڑا بہت پڑھا لکھا آدمی بھی عمر کے کسی حصے ، خصوصی زمانہ طالب علمی میں خواہ وہ کتنے بھی مختصر عرصے کيلئے کیوں نہ ہو، شاعر ہوتا ہے یا کم از کم اپنے آپ کو ایک شاعرانہ فضا میں محسوس ضرور کرتا ہے زیادہ تر حضرات تو تخلص اختیار کرنے تک ہی محدود رہتے ہیں جو زیادہ تر زمانہ طالب علمی میں فرداً فرداً طلباء کو ان کے کسی صاحب ذوق ٹیچر نے عطاء کر دیا ہوتا ہے مثلاًتم غلام رسول آزاد ہو، تم صابر علی کمال ہو وغیرہ وغیرہ جبکہ بعض حضرات تمام عمر نہیں تو ایک مدت تک بے وزن شاعر ی کرتے رہتے ہیں جو زیادہ تر وہ اپنے یا اپنے دوستوں تک ہی محدود رکھتے ہیں جو اس حد تک خود بھی شاعر ہوتے ہیں ۔
نثر لکھنے والے، خاص طور پر صحافی حضرات یا اخبارات کے غیر صحافی مضمون نویس حضرات کی اکثریت اپنی تحریروں کو برمحل اشعار سے مزین کرنا ضروری سمجھتی ہے البتہ اکثر اوقات شعر غلط نقل کیا گیا ہوتا ہے یا اس کی ترتیب اس طرح سے رکھی گئی ہوتی ہے کہ شعر یا مصرع خارج از وزن ہو جاتا ہے لیکن چونکہ ان کا اصل مسئلہ شاعری نہیں ہوتا اس لئے وہ شعر کو صحیح پڑھنے یا درست طور پر نقل کرنے میں بھی کوئی خاص ترددروا نہیں رکھتے حتیٰ کہ بعض مضامین کے عنوان تک مصرعوں کی صورت میں ہوتے ہیں جن میں مصرع کا حلیہ بگاڑ کر ہی پیش کیا گیا ہوتا ہے اور جانکاری رکھنے والے حضرات بھی یا تو اس کا نوٹس نہیں لیتے یا خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتے ہیں ۔
یہ تو صورت احوال ہے ایسے زعماء کی جو شاعری کا درک نہیں رکھتے یا اس کی باریکیوں کی پروا نہیں کرتے افسوس تو ان حضرات پر آتا ہے جو خود صاحب کتاب شاعر ہونے کے باوجود اس سلسلے میں لاپروائی سے کام لیتے ہیں اب کافی عرصے سے اخبارات میں جہاں کالموں کی بھر مار نظر آتی ہے وہاں پر اخبار میں قطعے کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے اور بعض شعراء کی خدمات مستقل طور پر حاصل کی جاتی ہیں ۔ہمارے ایک سینئر دوست جو ایک کثیر الاشاعت قومی روزنامے میں عرصہ دراز سے قطعہ نویسی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور متعدد شعری مجموعوں کے مصنف بھی ہیں اکثر اوقات ان کے قطعے کا کوئی نہ کوئی مصرع خارج از وزن ہوتا ہے شاید وہ سمجھتے ہوں کہ قطعہ تو بہر حال قطعہ ہی ہوتا ہے اس میں اتنی باریکیاں چھانٹنے کی کیا ضرورت ہے حالانکہ ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں شائع ہونے والے اخبار کو اس زیادتی کا مرتکب نہیں ہونا چاہیے مشاعرے میں تو بے وزن مصرع یا شعر پکڑا جاتا ہے لیکن ایڈیٹر یا مالک اخبار کيلئے شعر شناس ہونا ضروری نہیں ہوتا نہ ہی ہر ظفر علی خان یا شورس کا شمیری ہوتا ہے کئی برس پہلے جب میں اسی اخبارمیں لکھتا تھا تو میں نے اس برزگ قطعہ نویس کا نوٹس لیتے ہوئے ایک تحریر اپنے کالم کے بجائے ڈپٹی ایڈیٹر کو دی تو انہوں نے اسے چھاپنے سے معذرت کردی تھی شاید ان کی مصلحت کا تقاضا بھی یہی تھا میرا خیال ہے کہ صاحب کے ساقط الوزن اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے پوری کتاب تحریر کی جا سکتی ہے اور یہ بھی کہ ایک شاعر کو اس صورت حال پر آزردہ ہونے کا پورا پورا حق حاصل ہے ۔
اس طولانی تمہید کا مقصد اس کے برعکس ہی سمجھ لیجئے کہ آج مورخہ 20فروری کے اخبار میں ہمارے دیرینہ کرم فرما محترم قاضی حسین احمد صاحب کا ایک مضمون بعنون “عالم اسلام کے خلاف ایک خطرناک منصوبہ ” شائع ہوا جس میں صاحب موصوف نے علامہ اقبال کا یہ فارسی قطعہ نقل کیا ہے ۔
شبے پیش خدا بگر بستم زار
مسلمانان چرا زارند و خوارند
ندا آدو نمی دانی کہ ایں قوم
دلے دارندو محبوبے ندار ند
جو حالات اوپر بیان کئے گئے ہیں ان کے پیش نظر ایک سیاسی لیڈر سے ہرگز یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ قاعدہ اور بر محل قطعہ اتنی صحت کے ساتھ پیش کریں گے اسی سے یہ بات بھی ذہن میں آئی کہ قاضی صاحب اگر شعر وادب کا ایسا اعلیٰ ذوق رکھتے ہیں تو کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ سیاست کی وادی پرخار میں کشٹ اٹھانے کے بجائے وہ کوئی ادبی کیرئیر اختیار کرتے جس پر وہ اپنی آزادانہ مرضی کوبھی بروئے کار لا سکتے تھے چہ جائے کہ اب انہیں ہر مسئلے پر اپنے رفیق کار مولانا فضل الرحمان صاحب کا نہ صرف مرہون منت ہونا پڑتا ہے بلکہ قاضی صاحب کوئی آزادنہ قدم اٹھانا بھی چاہتے ہیں تو مولانا انہیں ایک دیوار کی طرح سامنے کھڑے نظر آتے ہیں اور لوگ حضرت مولانا کے ساتھ ساتھ قاضی صاحب قبلہ کو بھی شک و شبہ کی نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں بہرحال یہ تازہ غزل قاضی صاحب ہی کے حسن ذوق کی نذر ہے …
انکار ہمارا ہے نہ اقرار ہمارا
ہونا ہی یہاں اب تو ہے بے کار ہمارا
فرمان ہی اپنے کی نہیں ہے کوئی توقیر
اونچا تو بہت ہے یہاں دربار ہمارا
زخموں سے گزرتے ہوئے جھونکے سحر و شام
رکھتے ہیں یہ گھر خوب ہوا دار ہمارا
لیتا ہے کوئی چیز نہ دیتا ہے کوئی دام
ٹھنڈا ہے لگایا ہوا بازار ہمارا
ہم دوسروں کے کام بھلا آئیں گے کیونکر
خود سے ہی نہیں کوئی سرو کار ہمارا
لاچار سے بیٹھے ہیں اس امید پہ کب سے
ہو جائے کوئی آکے مددگار ہمارا
ٹھہرائے ہوئے قافلے کو دھوپ میں اور خود
سوتا ہے کسی سائے میں سالار ہمارا
اب پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں باقی
احوال ہے ایسا ہی لگاتار ہمارا
دشمن کے ظفر، دوست ہیں اوردوست کے دشمن
اب آن کے پختہ ہوا کردار ہمارا
Posted on February 25th, 2007 by adil
Filed under: General

horoof kat kat kar aarhae hain-