منیر نیازی کے حوالے سے کچھ مزید
|
Saturday, February 17, 2007
|
|
منیر نیازی کے حوالے سے کچھ مزید
|
![]() |
ایک روسی شاعر کے بارے میں منقول ہے کہ ایک دفعہ وہ ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے اپنی ایک طویل نظم سنارہا تھا کہ بیچ میں کسی جگہ بھول گیا اور چپ ہو گیا لیکن کم و بیش تمام حاضرین نے یک زبان ہو کر وہ نظم جو انہیں زبانی یاد تھی سنانا شروع کر دی اور اس وقت تک سناتے رہے جب تک وہ ختم نہیں ہوگئی۔
منیر نیازی کی نظمیں اورغزلیں بھی اکثرسامعین اور ناظرین کو ازبرہوا کرتی تھیں ۔ منیر نیازی بھی سناتے سناتے اکثر بھول جاتے تو لوگ خود انہیں یاد دلاتے بیشک یہی چیز کسی شاعر کی بڑائی کا واحد پیمانہ ہو سکتی ہے اور مقبول ہوجانا بھی کسی شاعر کو عارضی اور وقتی طور پر ہی سند عطا کرتا ہے لیکن لوگوں کے دلوں میں کسی شاعر کا گھر کر جانا بھی کوئی معمولی بات نہیں ہوتی کہ وہ شاعر کو اور کچھ نہیں تو ایک امتیازی شان ضرورفراہم کرتی ہے منیر نیازی کی شخصیت اور ان کے حوالے سے ہمیں اختلاف کرنے کا پورا حق حاصل ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے میرٹ کو بھی نظر انداز کرنے کا کوئی جواز نہیں ۔ اس سلسلے میں دوسری مثال احمدفراز کی ہے جس کی شائقین ادب میں غیر معمولی مقبولیت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا بلکہ ایک زمانے تک تو اسے باقاعدہ ایک کریز کی بھی حیثیت حاصل رہی ہے ۔
جہاں تک آپسی اختلافات کا تعلق ہے تو ان کا معاملہ یوں ہے کہ سب بہر طور زندگی تک ہی کے چونچلے ہیں دولوگ جب تک زندہ ہوں ان کی حیثیت دودروازوں کی سی ہوتی ہے جس میں سے پھول بھی جھڑتے ہیں اور چاند ماری بھی ہوا کرتی ہے لیکن اگر ان میں سے ایک اس دنیائے فانی سے سدھار جائے تو ایک دروازہ بند ہو جاتا ہے اور قدرتی طور پر چاند ماری کا سلسلہ بھی موقوف ہوجاتا ہے اور اگر نہیں ہوتا تو اسے ہوجانا چاہیے اس لئے بھی کہ دوسرا فریق اس چاند ماری کا جواب دینے کيلئے موجود نہیں ہوتا اور وہ اپنے تمام تر اسلحے بارود سمیت منوں مٹی کے نیچے پہنچ چکا ہوتا ہے ہمارے کچھ دوست ایسے ضرور ہوں گے کہ مرحوم اپنی زندگی میں یا تو انہیں تسلیم نہیں کرتے تھے یا ان کی بول چال ان کے ساتھ بند تھی بلکہ یہ بھی ہو سکتاہے کہ منیر نیازی نے ان کے بارے میں کچھ ناروا کلمات بھی کہہ رکھے ہوں ۔
ہماری روایات اور چلن تو یہ ہے کہ آدمی کوزندگی ایسے گزارنی چاہیے کہ اس کے مرنے کے بعد لوگ اچھے لفظوں سے یاد کریں لیکن یہ کلیہ بالعموم عام لوگوں کيلئے ہے جبکہ ایک بڑے شاعر پر اس کلیئے کا اطلاق اس لئے بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اس کا کام ہی ایسا ہوتا ہے کہ آپس میں رقابت اور اعتراف و عدم اعتراف کی لہربھی ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے جو بالآخر افسوسناک حد تک راسخ بھی ہو کر رہتی ہے لیکن ایک جینوئن تخلیق کار کو اس ضمن میں بھی بالعموم لائسنس ہی دیا جاتاہے جو خود لائسنس دینے والے کی بھی کشادہ ظرفی کا مظہر ہوتا ہے حالانکہ ایک اصیل شاعر کو جیسا کہ منیر نیازی بہر حال تھا اس کی چند اں ضرورت بھی نہیں ہوتی بلکہ خود تلخیاں فراموش کر دینے والے کی عزت میں اس سے اضافہ ہوتاہے ویسے بھی یہ تقسیم اس طرح کی ہوتی ہے کہ ایک فر یق کی زندگی کی صف لپیٹے جانے کے بعداسے خود بخود ہی ختم ہو جانا چاہیے عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی کے مرجانے کے بعد اس کے فن کا اعتراف اگر بنتا ہے تو اسے زندگی کے دوران جاری رہنے والی شکر رنجیوں بلکہ مخاصمتوں کے باوجود کر گزرنا چاہیے ۔
منیر نیازی کا پلس پوائنٹ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ اس کا قصور بھی ہے کہ وہ ایسے ہم عصروں سے اتنا بڑا کیوں تھا کیونکہ اگر آپ واقعتا اتنے بڑے ہوں بھی توآپ کا عصر اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت اور تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتا المیہ یہ ہے کہ کم و بیش ہر شاعر اپنے آپ کو اپنے عہد کا سب سے بڑا شاعر سمجھتا ہے حالانکہ اکثر اوقات ایسا نہیں ہوتا ہے لیکن اس کی مجبوری بھی ہے کیونکہ یہی احساس اسے اپنا سفر جاری رکھنے پر بھی اکساتا رہتا ہے چنانچہ اگر بدقسمتی سے کوئی بڑا یعنی اس سے بڑا شاعر نکل بھی آئے تو وہ اس کيلئے اس حد تک باعث پریشانی ہوتا ہے کہ یہ پریشانی رفتہ رفتہ باقاعدہ نفرت میں تبدیل ہو جاتی ہے اور نہیں تو کم از کم اسے یہ گمان ضرور ہوتا ہے کہ اس کے عہد میں کوئی بڑاشاعر پیدا بھی کیونکر ہو سکتا ہے اور پھر خود اس سے بھی بڑا یہ ایک تشویش انگیز بلکہ افسوسناک روش ہے کیونکہ بالآخر ہم سب نے مر جانا ہے کسی نے آگے اور کسی نے پیچھے کتنا آگے اور کتنا پیچھے اس کی خبر کسی کو نہیں ہوتی معاف کردینا بہت اچھی بات لیکن ایک ستم ظریف کا کہنا یہ بھی ہے کہ معاف کر دینا بڑی بات ہے لیکن معاف نہ کرنا اس سے بڑی بات ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ دوست اس مقولے پر عمل پیرا ہوں ۔
منیر نیازی کا جنازہ اتنا بڑا تھا کہ گاڑیاں کنٹرول کرنے کے لئے باقاعدہ ٹریفک پولیس کا انتظام کرنا پڑا وہ ایک جشن کا سماں تھا اور شہر کا ہر چھوٹا بڑا ادیب اس میں شامل دکھائی دیتا تھا میں نے اجمل نیازی سے کہا کہ نہ صرف یہ تمہارا اور میرا ذاتی نقصان ہے بلکہ اس سارے ہجوم کا فرداً فرداً بھی ذاتی نقصان ہے اور ان سب لوگو ں کو جن میں شاید کوئی بھی اس کا رشتے دار نہیں تھا اس کا میرٹ ہی قریب و دور سے کھینچ کر لا یا تھا ورنہ ہمارے معاشرے میں ایک آرٹسٹ کی جو قدرورمنزلت پائی جاتی ہے وہ اسی ایک بات سے ظاہر ہے کہ نور جہاں جیسی بڑی فنکارہ جو اپنی زندگی میں ملکہ ترنم کے خطاب سے سرفراز کی گئی کراچی میں اس کے جنازے میں بمشکل دو درجن افراد شریک ہو پائے تھے اور یہ وہ نورجہاں تھی جس کے پاؤں کی مٹی لتا منگیشکر اپنی مانگ پر چھڑکتی تھی چنانچہ منیر نیازی جتنا جنازہ اگر میسر آسکتا تو اس موقعے پرکس کامرجانے کو جی نہ چاہتا ہوگا ؟
میرے اور منیر نیازی کے بھی آپس میں اختلافات تھے اور ہم اپنے انٹرویوز اور تحریوں میں اس کے اظہار میں بخل سے کام نہ لیتے تھے لیکن اس کے فن سے منحرف ہونے کا میں تصور بھی نہیں کرسکتا اور وہ اگر اپنے سوا کسی کو شاعر نہیں سمجھتا تھا تو اس کا بھی اسے حق حاصل تھا اوراس صورت میں بھی اس کے ہنر سے منحرف ہونا میرے لئے ممکن نہیں تھا احمدندیم قاسمی اپنے آخری دنوں میں مجھ سے سخت کبیدہ خاطر تھے جس پر انہوں نے نہایت درشت بلکہ توہین آمیز ردعمل کااظہار بھی کیا تھا لیکن میرا ایک تعزیتی کالم “روزنامہ جناح” اور ایک مضمون سہ ماہی “ادبیات” کے ندیم نمبرمیں شائع ہوا جبکہ میرے کالم پر عطاء الحق قاسمی کا تبصرہ یہ تھا کہ ندیم کی موت پر لکھی جانے والی تحریروں میں سے وہ بہترین تھی حالانکہ میں بھی ان کے خلاف لکھ کر اپنا سکور برابر کرسکتا تھا لیکن میں نے ایسا نہیں کیا البتہ ان کے فن پر میرے جو اپنے خیالات اور تحفظات ہیں انہیں ظاہر کرنے کا مجھے ہر وقت حق حاصل ہے جبکہ یہی اصول منیر نیازی پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔
چنانچہ اپنے پہلے بیان کی طرف لوٹتے ہوئے اگر منیر نیازی کے کھاتے میں قبول عام کے نمبر کاٹ بھی لئے جائیں تو خواص کے لئے بھی وہ اتنا ہی البیلا شاعر تھا اور جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک طباع اور رجحان ساز شاعر تھا اور طبقہ شعراء میں وہ سردار مانا جاتا تھا ماسوائے چندنہایت قلیل مستشنیات کے حتیٰ کہ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں اس کے اسلوب کے پیروی کرنے کے بھی کوشش کی جاتی رہی مختصر نظم جہاں اس کا طرہ امتیاز رہی وہاں غزل میں بھی مصحفی جیسے اساتذہ سے براہ راست متاثر ہونے کے باوجود وہ اس صنف سخن میں بھی اپنی ایک طرز نکالنے میں کامیاب رہا چنانچہ روایت کی مضبوط زمین پر کھڑا ہونے کے باوصف اس کے اشعار میں جو جدید طرز احساس وافر مقدار میں پایا جاتا ہے یہ اس کا خصوصی کنٹری بیوشن تو ہے ہی اس کی شان امتیاز بھی اسی سے قائم ہوئی ۔
بدلہ لیا حسرت اظہار سے ہم نے
آغاز کیا اپنے ہی افکار سے ہم نے
Posted on February 17th, 2007 by adil
Filed under: General

Leave a Reply