منیر نیازی

zafar Zafar Iqbal

فیض احمد فیض کے انتقال کے بعد اتنے تھوڑے عرصے میں یہ بہت بڑا صدمہ ہے جس سے معاصر شاعری دو چار ہوئی ہے۔ میں نے محُبی افتخار عارف سے کہا کہ نماز جنازہ دو بجے بعد دوپہر ہے اگر آ سکو تو ضرور آنا کہ یہ منیر نیازی جیسوں ہی کی جُوتیوں کا صدقہ ہے جو اچھا شعر کہہ رہے ہو۔ وہ خود شوکت صدیقی کے لیے تعزیتی اجلاس میں پھنسے ہوئے تھے، بتایا کہ دفتر جا رہا ہوں ، وہاں جا کر صورت حال دیکھوں گا کہ کیا بنتی ہے۔ گزشتہ شام اِدھر الحمرا میں سعیّد محمد جعفری کی کتاب”تیر نیم کش” کی رُونمائی تھی جس کی صدارت منیر نیازی کو کرنا تھی لیکن وقت ہونے پر بھی وہ نہ آئے تو میرے استفسار پر اس جلسے کے ناظم اصغر ندیم سیّد نے بتایا کہ “ان کی طبیعت خراب ہے اس لیے وہ نہیں آرہے۔ چنانچہ صدارت کی ذمہ داری انتظار حسین کو سونپی گئی۔ اُس وقت، بلکہ اس اجلاس کے خاتمے تک کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ اس وقت جناح ہسپتال میں ہیں اورزندگی موت کی کشمکش میں مبتلا۔
کج شہر دے لوک وی ظالم سن،
کچھ مینوں مرن دا شوق وی سی
ابھی چند ہی روز پہلے وہ اولڈ راوینز کی طرف سے منعقد کیے گئے ایک مشاعرے کی صدارت کر رہے تھے جس کا مختصر احوال میں بیان کر چکا ہوں ۔ حسبِ معمول مضمحل تھے لیکن بظاہر بشاش بھی نظر آ رہے تھے، مگر وہ اگلی سی بات نہیں رہ گئی تھی کہ جس محفل میں بیٹھے ہوں ، برجستہ جملے بازی سے اپنی موجودگی کا پورا پورا احساس دلا رہے ہوں ۔ سانس کی تکلیف بڑھ گئی تھی، اور گاہے گاہے استعمال کے لیے سانس کو سہولت دینے والا آلہ جیب میں رکھتے۔ فرشی مشاعروں میں بھی کُرسی کا تقاضہ کرتے کہ فرش پر بیٹھنے میں دشواری محسوس کرتے۔ اگرچہ کافی عرصے سے شعر کہنا ترک کر رکھا تھا لیکن اُن کی موجودگی ہی بہت تھی کہ وہ ہیں تو سہی۔ پڑھتے ہوئے اکثر بھول جاتے لیکن سامعین کو چونکہ اُن کا سارا ہی کلام بالعموم،بعض معروف و مقبول نظمیں بالخصوص اَزبر ہوتیں ، اس لیے زیادہ مشکل پیش نہ آتی۔ پھر وہ اس قباحت سے بچنے کے لیے اپنا کوئی مجموعہ کلام بھی ساتھ لانے لگے۔
یہ دلدوز خبر اچانک سنی اور اندر ہی ایک فلم سی چلنے لگی اور ساٹھ کی دہائی میں شروع ہونے والا وہ دور تصویریں بن کر چمکنے دمکنے لگا جو ساہیوال میں ، (جو اس وقت منٹگمری تھا) اس کے ساتھ گزرا تھا اور “جوگی ہوٹل “جن کی صُحبتوں سے آباد ہُوا کرتا تھا۔ منیر نیازی اُن دنوں اپنا رسالہ: “سات رنگ” وہاں سے نکالتے تھے۔ مجید امجد کی طویل تعیناتی وہاں سونے پر سہاگہ تھی۔ ان دو بڑے شاعروں کے علاوہ بھی وہ شہر اُن دنوں کافی پُر رونق رہا کرتا کہ جعفر شیرازی، بشیر احمد بشیر، گوہر ہوشیار پوری، یٰسین قدرت، اکرم خاں قمر اور کئی دوسرے حضرات اسی کہکشاں کے ستارے تھے۔ کچھ عرصے کے لیے نذیر ناجی کا قیام بھی وہاں رہا جبکہ اسرار زیدی جو مفتی ضیاء الحسن کا روزنامہ “خدمت” ایڈٹ کیا کرتے تھے، ابھی اُن دنوں وہیں تھے۔
منیر نیازی کی مثال اس لیے نہیں دی جا سکتی کہ وہ بے مثال اور اپنی مثال آپ تھا۔ شاعری کی معلوم تاریخ میں اس جیسے شاعر کا کوئی سراغ نہیں ملتا اور ایسا لگتا ہے کہ آئندہ کے لیے بھی یہ باب ایک طویل عرصے تک بند ہی رہے گا۔ اپنی شعری فضا کا خالق وہ خود تھا، حالانکہ اس وقت اور اب بھی، یار لوگ بنی بنائی اور پامال راہوں ہی کے مسافر چلے آرہے ہیں ۔ فیض کے بعد وہ واحد شاعر ہے جس نے اپنے ہم عصروں کے علاوہ بعد میں آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کیا، حتٰی کہ آنے والی نسلیں بھی اس کی سحر کاریوں سے متاثر اور مستفید ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گی۔ وہ خود پسند ضرور تھا لیکن اس کے لیے ایسا ہونا بھی بے جواز ہر گز نہیں تھا۔ جو اپنے میدان میں یگانہ ویکتا تھا،اُسے خود پسند بھی اتنا ہی ہونا تھا۔ اُسے کوئی اپنے جیسا نظر نہیں آتا تھا، اس لیے کہ کوئی اُس جیسا تھا ہی نہیں ۔ چنانچہ انتہائی خوش طبع ہونے کے باوجود وہ ایک حد تک مردم بیزار بھی تھا، اور جس کا وہ اظہار بھی کرتا ۔
عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اُکتائے ہوئے رہنا
شعری مصروفیات نہ ہونے کے باوجود وہ گھر سے کم کم ہی نکلتا اور اپنی کم آمیزی کا شعار برقرار رکھتا۔ وہ مشاعروں میں اپنے شاعر ساتھیوں سے خود تو داد وصول کرتا لیکن خود یہ کام فیاضی سے نہیں کرتا تھا جس سے دیگر شعراء اس سے کھنچے کھنچے بھی رہتے جبکہ کئی بار تو مشاعرے میں شریک شعراء نے یہ فیصلہ کیا کہ انہوں نے منیر نیازی کو داد نہیں دینی، لیکن اس نے کبھی اس کی پروا نہیں کی۔ اس لحاظ سے وہ کوئی سر چشمہ فیض نہیں تھا لیکن اس کی شاعری بجائے خود اتنا بڑا منبع فیض تھی کہ جس کا جی چاہے اس سے سیراب ہو سکتا تھا۔ فقرے باز ایسا کہ اس کے کہے، بلکہ کسے ہوئے بے شمار جُملے تو ضرب المثل کی حیثیت اختیا ر کر چکے ہیں ۔ ان کے علاوہ متعدد الفاظ اور تراکیب ایسی تھیں جو اُس نے گھڑ رکھی تھیں اور جنہیں وہ اپنی گفتگو میں استعمال بھی کرتا تھا، اُسی سے مخصوص تھیں ۔
حق تو یہ ہے کہ وہ کسی کو اپنے علاوہ شاعر سمجھتا ہی نہیں تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ ایک طرح سے اُس نے یہ اعلان بھی کر رکھا تھا جو بہت حد تک غلط نہیں تھا کیونکہ شاعری ایک طویل عرصے سے جس تیزی سے زوال پذیر ہو رہی ہے، وہ واحد شاعر تھا جو ان مشکل حالات میں نہ صرف ڈیلیور کر رہا تھا، بلکہ سب کے لیے ایک نمونہ اور چیلنج بھی بنا ہوا تھا۔ اس کے کلام میں جو تاثیر اور طبّاعی تھی وہ بہت کم لوگوں کے نصیب میں آئی ۔ اُسے خوب معلوم تھا کہ وہ کتنا بڑا شاعر ہے، جیسا کہ ہر شاعر کو پتا ہوتا ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔ چونکہ شعر اور مزاح کا تعلق بنیادی ہے، اس لیے وہ ان دونوں نعمتوں سے مالا مال تھا جبکہ کسی زمانے میں اس نے نیم فکاہی کالم بھی اخبارات میں لکھے، اور یہ سلسلہ اس نے ساہیوال میں اپنے رسالي”سات رنگ” ہی میں شروع کر دیا تھا۔
اس نے کچھ عرصہ پبلشنگ کا کام بھی کیا جو آگے نہ چل سکا جبکہ اس نے زندگی میں کوئی کام ٹک کرکیا ہی نہیں ، شاید اس لیے کہ شاعری اور ایسی شاعری جو وہ تخلیق کر رہا تھا، ایک اتنا بڑا کام تھا کہ اُسے اور کسی کام کا خیال ہی کب آ سکتا تھا۔ چنانچہ معاشی مشکلات بھی اُسے ہمیشہ درپیش رہیں اور وہ اپنے پبلشرز کا بھی ہمیشہ شاکی رہا بلکہ بعض تو اُسے بتائے بغیر ہی اس کے مجموعے چھاپ دیتے تھے۔ چنانچہ کتابوں کی تھوڑی بہت رائلٹی جو اُسے میسّر آتی، اُسی پر اُس کاگزارہ تھا یا ٹیلی ویثرن کی مشاورت سے چند ہزار روپے اُسے ہر ماہ مل جاتے، علاوہ ازیں مشاعروں سے اُسے جو”زرِ کثیر” دستیاب ہوتا۔ اچھے وقتوں میں ، بلکہ اپنی آبائی اراضی فروخت کر کے البتہ اس نے لاہور میں ایک خوبصورت گھر ضرور بنا لیا تھا۔مزید برآں ، اس کی سہولت کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایک نئی گاڑی معہ پٹرول و ڈرائیور عطاکر رکھی تھی جس سے بھی اپنی گوشہ نشینی کے باعث زیادہ لطف اندوز نہ ہو سکا تھا۔ وہ اولاد سے محروم تھا اور اسکی ہمیشہ زندہ رہنے والی کتابیں ہی صحیح معنوں میں اُس کی اولاد کا درجہ رکھتی ہیں ۔ منیر نیازی پر ہمیشہ اور بہت کچھ لکھا جاتا رہے گا۔ یہ تو کوئی باقاعدہ تعزیتی کالم بھی نہیں کیونکہ فوری طور پر تو ایسے صدمے کا اظہار بھی کچھ آسان نہیں ہوتا، چنانچہ منیر نیازی کا یہ قرض مجھ پر بھی واجب ہے، خدا اس کی ادائی کی توفیق عطا کرے!

منیر نیازی

zafar Zafar Iqbal

فیض احمد فیض کے انتقال کے بعد اتنے تھوڑے عرصے میں یہ بہت بڑا صدمہ ہے جس سے معاصر شاعری دو چار ہوئی ہے۔ میں نے محُبی افتخار عارف سے کہا کہ نماز جنازہ دو بجے بعد دوپہر ہے اگر آ سکو تو ضرور آنا کہ یہ منیر نیازی جیسوں ہی کی جُوتیوں کا صدقہ ہے جو اچھا شعر کہہ رہے ہو۔ وہ خود شوکت صدیقی کے لیے تعزیتی اجلاس میں پھنسے ہوئے تھے، بتایا کہ دفتر جا رہا ہوں ، وہاں جا کر صورت حال دیکھوں گا کہ کیا بنتی ہے۔ گزشتہ شام اِدھر الحمرا میں سعیّد محمد جعفری کی کتاب”تیر نیم کش” کی رُونمائی تھی جس کی صدارت منیر نیازی کو کرنا تھی لیکن وقت ہونے پر بھی وہ نہ آئے تو میرے استفسار پر اس جلسے کے ناظم اصغر ندیم سیّد نے بتایا کہ “ان کی طبیعت خراب ہے اس لیے وہ نہیں آرہے۔ چنانچہ صدارت کی ذمہ داری انتظار حسین کو سونپی گئی۔ اُس وقت، بلکہ اس اجلاس کے خاتمے تک کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ اس وقت جناح ہسپتال میں ہیں اورزندگی موت کی کشمکش میں مبتلا۔
کج شہر دے لوک وی ظالم سن،
کچھ مینوں مرن دا شوق وی سی
ابھی چند ہی روز پہلے وہ اولڈ راوینز کی طرف سے منعقد کیے گئے ایک مشاعرے کی صدارت کر رہے تھے جس کا مختصر احوال میں بیان کر چکا ہوں ۔ حسبِ معمول مضمحل تھے لیکن بظاہر بشاش بھی نظر آ رہے تھے، مگر وہ اگلی سی بات نہیں رہ گئی تھی کہ جس محفل میں بیٹھے ہوں ، برجستہ جملے بازی سے اپنی موجودگی کا پورا پورا احساس دلا رہے ہوں ۔ سانس کی تکلیف بڑھ گئی تھی، اور گاہے گاہے استعمال کے لیے سانس کو سہولت دینے والا آلہ جیب میں رکھتے۔ فرشی مشاعروں میں بھی کُرسی کا تقاضہ کرتے کہ فرش پر بیٹھنے میں دشواری محسوس کرتے۔ اگرچہ کافی عرصے سے شعر کہنا ترک کر رکھا تھا لیکن اُن کی موجودگی ہی بہت تھی کہ وہ ہیں تو سہی۔ پڑھتے ہوئے اکثر بھول جاتے لیکن سامعین کو چونکہ اُن کا سارا ہی کلام بالعموم،بعض معروف و مقبول نظمیں بالخصوص اَزبر ہوتیں ، اس لیے زیادہ مشکل پیش نہ آتی۔ پھر وہ اس قباحت سے بچنے کے لیے اپنا کوئی مجموعہ کلام بھی ساتھ لانے لگے۔
یہ دلدوز خبر اچانک سنی اور اندر ہی ایک فلم سی چلنے لگی اور ساٹھ کی دہائی میں شروع ہونے والا وہ دور تصویریں بن کر چمکنے دمکنے لگا جو ساہیوال میں ، (جو اس وقت منٹگمری تھا) اس کے ساتھ گزرا تھا اور “جوگی ہوٹل “جن کی صُحبتوں سے آباد ہُوا کرتا تھا۔ منیر نیازی اُن دنوں اپنا رسالہ: “سات رنگ” وہاں سے نکالتے تھے۔ مجید امجد کی طویل تعیناتی وہاں سونے پر سہاگہ تھی۔ ان دو بڑے شاعروں کے علاوہ بھی وہ شہر اُن دنوں کافی پُر رونق رہا کرتا کہ جعفر شیرازی، بشیر احمد بشیر، گوہر ہوشیار پوری، یٰسین قدرت، اکرم خاں قمر اور کئی دوسرے حضرات اسی کہکشاں کے ستارے تھے۔ کچھ عرصے کے لیے نذیر ناجی کا قیام بھی وہاں رہا جبکہ اسرار زیدی جو مفتی ضیاء الحسن کا روزنامہ “خدمت” ایڈٹ کیا کرتے تھے، ابھی اُن دنوں وہیں تھے۔
منیر نیازی کی مثال اس لیے نہیں دی جا سکتی کہ وہ بے مثال اور اپنی مثال آپ تھا۔ شاعری کی معلوم تاریخ میں اس جیسے شاعر کا کوئی سراغ نہیں ملتا اور ایسا لگتا ہے کہ آئندہ کے لیے بھی یہ باب ایک طویل عرصے تک بند ہی رہے گا۔ اپنی شعری فضا کا خالق وہ خود تھا، حالانکہ اس وقت اور اب بھی، یار لوگ بنی بنائی اور پامال راہوں ہی کے مسافر چلے آرہے ہیں ۔ فیض کے بعد وہ واحد شاعر ہے جس نے اپنے ہم عصروں کے علاوہ بعد میں آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کیا، حتٰی کہ آنے والی نسلیں بھی اس کی سحر کاریوں سے متاثر اور مستفید ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گی۔ وہ خود پسند ضرور تھا لیکن اس کے لیے ایسا ہونا بھی بے جواز ہر گز نہیں تھا۔ جو اپنے میدان میں یگانہ ویکتا تھا،اُسے خود پسند بھی اتنا ہی ہونا تھا۔ اُسے کوئی اپنے جیسا نظر نہیں آتا تھا، اس لیے کہ کوئی اُس جیسا تھا ہی نہیں ۔ چنانچہ انتہائی خوش طبع ہونے کے باوجود وہ ایک حد تک مردم بیزار بھی تھا، اور جس کا وہ اظہار بھی کرتا ۔
عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اُکتائے ہوئے رہنا
شعری مصروفیات نہ ہونے کے باوجود وہ گھر سے کم کم ہی نکلتا اور اپنی کم آمیزی کا شعار برقرار رکھتا۔ وہ مشاعروں میں اپنے شاعر ساتھیوں سے خود تو داد وصول کرتا لیکن خود یہ کام فیاضی سے نہیں کرتا تھا جس سے دیگر شعراء اس سے کھنچے کھنچے بھی رہتے جبکہ کئی بار تو مشاعرے میں شریک شعراء نے یہ فیصلہ کیا کہ انہوں نے منیر نیازی کو داد نہیں دینی، لیکن اس نے کبھی اس کی پروا نہیں کی۔ اس لحاظ سے وہ کوئی سر چشمہ فیض نہیں تھا لیکن اس کی شاعری بجائے خود اتنا بڑا منبع فیض تھی کہ جس کا جی چاہے اس سے سیراب ہو سکتا تھا۔ فقرے باز ایسا کہ اس کے کہے، بلکہ کسے ہوئے بے شمار جُملے تو ضرب المثل کی حیثیت اختیا ر کر چکے ہیں ۔ ان کے علاوہ متعدد الفاظ اور تراکیب ایسی تھیں جو اُس نے گھڑ رکھی تھیں اور جنہیں وہ اپنی گفتگو میں استعمال بھی کرتا تھا، اُسی سے مخصوص تھیں ۔
حق تو یہ ہے کہ وہ کسی کو اپنے علاوہ شاعر سمجھتا ہی نہیں تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ ایک طرح سے اُس نے یہ اعلان بھی کر رکھا تھا جو بہت حد تک غلط نہیں تھا کیونکہ شاعری ایک طویل عرصے سے جس تیزی سے زوال پذیر ہو رہی ہے، وہ واحد شاعر تھا جو ان مشکل حالات میں نہ صرف ڈیلیور کر رہا تھا، بلکہ سب کے لیے ایک نمونہ اور چیلنج بھی بنا ہوا تھا۔ اس کے کلام میں جو تاثیر اور طبّاعی تھی وہ بہت کم لوگوں کے نصیب میں آئی ۔ اُسے خوب معلوم تھا کہ وہ کتنا بڑا شاعر ہے، جیسا کہ ہر شاعر کو پتا ہوتا ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔ چونکہ شعر اور مزاح کا تعلق بنیادی ہے، اس لیے وہ ان دونوں نعمتوں سے مالا مال تھا جبکہ کسی زمانے میں اس نے نیم فکاہی کالم بھی اخبارات میں لکھے، اور یہ سلسلہ اس نے ساہیوال میں اپنے رسالي”سات رنگ” ہی میں شروع کر دیا تھا۔
اس نے کچھ عرصہ پبلشنگ کا کام بھی کیا جو آگے نہ چل سکا جبکہ اس نے زندگی میں کوئی کام ٹک کرکیا ہی نہیں ، شاید اس لیے کہ شاعری اور ایسی شاعری جو وہ تخلیق کر رہا تھا، ایک اتنا بڑا کام تھا کہ اُسے اور کسی کام کا خیال ہی کب آ سکتا تھا۔ چنانچہ معاشی مشکلات بھی اُسے ہمیشہ درپیش رہیں اور وہ اپنے پبلشرز کا بھی ہمیشہ شاکی رہا بلکہ بعض تو اُسے بتائے بغیر ہی اس کے مجموعے چھاپ دیتے تھے۔ چنانچہ کتابوں کی تھوڑی بہت رائلٹی جو اُسے میسّر آتی، اُسی پر اُس کاگزارہ تھا یا ٹیلی ویثرن کی مشاورت سے چند ہزار روپے اُسے ہر ماہ مل جاتے، علاوہ ازیں مشاعروں سے اُسے جو”زرِ کثیر” دستیاب ہوتا۔ اچھے وقتوں میں ، بلکہ اپنی آبائی اراضی فروخت کر کے البتہ اس نے لاہور میں ایک خوبصورت گھر ضرور بنا لیا تھا۔مزید برآں ، اس کی سہولت کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایک نئی گاڑی معہ پٹرول و ڈرائیور عطاکر رکھی تھی جس سے بھی اپنی گوشہ نشینی کے باعث زیادہ لطف اندوز نہ ہو سکا تھا۔ وہ اولاد سے محروم تھا اور اسکی ہمیشہ زندہ رہنے والی کتابیں ہی صحیح معنوں میں اُس کی اولاد کا درجہ رکھتی ہیں ۔ منیر نیازی پر ہمیشہ اور بہت کچھ لکھا جاتا رہے گا۔ یہ تو کوئی باقاعدہ تعزیتی کالم بھی نہیں کیونکہ فوری طور پر تو ایسے صدمے کا اظہار بھی کچھ آسان نہیں ہوتا، چنانچہ منیر نیازی کا یہ قرض مجھ پر بھی واجب ہے، خدا اس کی ادائی کی توفیق عطا کرے!

Leave a Reply