نثری نظم کے بارے میں کچھ مزید

نثری نظم کے بارے میں کچھ مزید


zafar-iqbal.jpg

محمد اظہار الحق میرے ان دوستوں میں سے ہیں جو ہمیشہ میرے دل کے قریب رہے ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کی مدح خوانی کا شرف بھی حاصل ہے شاید اسی لئے ہم ایک دوسرے کے بارے میں بے لاگ رائے کا بھی اظہار کر دیا کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایسی باتیں ہمارے قلبی تعلق پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں مثلاً شب خون (مرحوم) میں میری ایک طویل غزل پر اس کا تبصرہ یہ تھا کہ کیا یہ واقعی میری ہے ؟ اگلے روز اس کا فون آیا کہ اس نے نثری نظموں کے ایک مجموعے کے بارے میں میرا کالم پڑھا ہے جس میں اس کی نثری شاعری کا کوئی تذکرہ نہیں تھا اور یہ کہ کیا مجھے اس کا تازہ مجموعہ “پانی پہ بچھا تخت ” نہیں ملا تو میں نے کہا کہ ملا تو ضرور تھا لیکن شاید کتابوں کے انبار میں کہیں گم ہو گیا جس پر اس نے اپنی کتاب دوبارہ بھیجی ہے ۔
جیساکہ جملہ احباب جانتے ہیں نثری نظم کی بابت میرے اپنے خیالات وتحفظات ہیں نظم نثری ہویا موزوں بدقسمتی سے غزل ہمیشہ ان کے راہ کی دیوار بن کر کھڑی ہوتی ہے بنیادی وجہ یہ ہے اس انتہائی مصروف دنیامیں قاری کے پاس شعر و ادب کيلئے وقت ہی کم ہوا کرتاتھا اب مزید کم ہو گیا ہے چنانچہ غزل کا ہر شعر چونکہ دو مصروں کی ایک مکمل نظم ہوتا ہے اور غزل جتنے بھی اشعار پر مشتمل ہو قاری اپنے حساب سے ایک وقت میں اتنی ہی نظموں سے سرفراز ہو جاتا ہے جبکہ دویا تین صفحوں پر پھیلی نظم بالعموم اس کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوتی ماسوائے مستثنیٰ قسم کے قارئین کے ۔
چنانچہ نظم بھی اگر ذوق و شوق سے پڑھی جائے تو چار چھ مصروںکی مختصر  نظم قاری چونکہ بوجوہ غزل اورینٹڈ ہوتا ہے اس لئے وہ اختصارہی کو ترجیح دیتا ہے اس کی مثال ٹیسٹ میچ اور ون ڈے انٹر نیشنل کے تناظر میں نسبتاً زیادہ قابل فہم ہے کہ رش اور حد سے زیادہ رش ون ڈے میچ دیکھنے والوں ہی کا ہوتا ہے جبکہ ٹیسٹ میچوں میںسٹال زیادہ پررونق نہیں ہوتے اسی طرح منیر نیازی اور محمد علی فرشی کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان کی مختصر نظمیں ہی ہیں اور ون ڈے میچوں کی روز بروز بڑھتی ہوئی مقبولیت بھی اسی رجحان کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔
جہاں تک نثری نظم کا تعلق ہے اور اظہار نے اپنی کتاب پر یہ چٹ بطور خاص چسپاں کرکے بھیجی ہے کہ نثری نظمیں طالب توجہ ہیں تو میری ناقص رائے میں نثری نظم میں اگر وزن کا اہتمام نہیں کیا گیا ہوتا تو اس میں کم از کم شاعری تو ہونی چاہیے کیونکہ یہی چیز نثری نظم کو نظم بنا سکتی ہے محض ایک بیانیہ عبارت جس میںبے شک موضوع بھی قابل ذکر ہو اور اس کی کیفیت بھی موجود ہو تو بھی یہ چیزیں اسے نظم بنانے سے قاصر ہیں جب تک کہ اس میں شاعری نہ ہو کیونکہ شاعر اگر نثر ہی میں ہم کلام ہو رہا ہے تو کم از کم اتنا تو معلوم ہو کہ ایک شاعر بات کر رہا ہے ۔ دوسرے ،جیسے کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ اگر نثری نظم کہلانے کے باجود یہ نثر ہے تو اسے الگ الگ جملوں کی جگہ پیراگراف کی صورت میں کیوں پیش نہیں کیا جاتا کیونکہ ایک تحریر کو محض فقروں میں تقسیم کرنے سے تو نثری نظم نہیں بن سکتی میں نے ایک جگہ کہیں یہ بھی کہا ہے نثری نظم میں زور بیان بطورخاص بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ وہ وزن کی غیر موجوگی کی بھی کسی حد تک تلافی کر دیتا ہے اور اس صفت کو ایک جواز بھی فراہم کرتا ہے اس لحاظ سے وحید احمد کی نظمیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں مثلاً “ہم شاعر ہوتے ہیں ” جو اگر چہ موزوں نظم ہے ۔
بہت سے نثری نظم لکھنے والے شعرائے کرام کے علم میں یہ بات بھی ہونی چاہیے کہ نظم میں زبان کا استعمال اس طرح سے نہیں ہوتا جس طرح سے نثر میں ہوتا ہے چنانچہ نثری نظم کو جہاں شاعری ہونے پر اصرار ہے وہاں استعمال زبان کے اس فرق کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا بصورت دیگر اور کیا طریقہ ہوگا جس سے اسے نثر سے مختلف کہا جا سکے مثلاً نصف صدی پہلے بھی ہمارے ہاں یہ کام غالباً ادب لطیف کے نام پر ہوتا رہا ہے لیکن اس کے نظم ہونے کا دعویٰ کبھی نہیں کیا گیا زیادہ سے زیادہ یہ ایک طرح کے جذباتی اظہار کی ایک صورت ہوتی تھی جس کا اندازہ کسی حد تک شاعرانہ ضرور رہا ہے ۔
نثری نظم اپنے موزوں نہ ہونے کی کوتاہی کی بناء پر نہ صرف اپنے اندر ایک زور دار بہاؤ کی متقاضی ہے بلکہ قاری کو بھی اپنے ساتھ بہا لے جانے کی قدرت رکھتی ہو اور یہ اس سے کوئی ناجائز مطالبہ نہیں ہے ۔ کیونکہ اس کے علاوہ اس میں اور کوئی خوبی بمشکل ہی پیدا کی جاسکتی ہے نہ ہی یہ مطالبہ میں غزل گو کی حیثیت سے کررہا ہوں کیونکہ غزل اور غزل گوؤں سے میرے مطالبات الگ سے موجود ہیں اور نہ ہی میرا نثری نظم سے یہ تقاضا ہے کہ وہ قاری پر اسی طرح سے اثر انداز ہو جس طرح سے کہ غزل ہوتی ہے بلکہ یہ کہ نثری نظم اگر زور دار نہیں ہے اور شاعری سے بھی خالی ہے تو محض ایک نثر کا ٹکڑا ہے، اور ،بس ۔
ان نظموں میں ایک نظم …کی نذر بھی ہے جو کہ نظم کے ایک بہت عمدہ شاعر ہیں تاہم مجھے یہ اچھی طرح سے یا دنہیں ہے کہ وہ نثری نظم بھی لکھتے ہیں یا نہیں اسی طرح ایک نظم افتخار عارف کی نذر ہے لیکن افتخار کی کوئی نثری نظم شاید ہی کبھی میری نظر سے گزری ہو اس لئے بہتر ہوتا کہ اظہار کوئی موزوں نظم افتخار کی نذر کرتے ۔میں نے اپنے مذکورہ کالم میں نسرین انجم بھٹی کی نثری نظموں کا حوالہ دیا تھا اس کے علاوہ نصیر احمد کی بھی نثری نظمیں غالباً دنیا زاد ہی میں میری نظر سے گزری ہیں عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایسی ہی کاوشوں کی بناء پر میں نثری نظم کا قائل ہوا ہوں ۔یہ تو تھے نثری نظم کے حوالے سے میرے ابتدائی اور ناقص خیالات البتہ اظہار کی نثری نظموں پر اپنی رائے میں کسی اور موقعہ کيلئے اٹھا رکھتا ہوں ۔ بشرط زندگی۔

Leave a Reply