“نہ قفس نہ آشيانہ” شبنم شکيل کے افسانے
|
|
|
“نہ قفس نہ آشيانہ” شبنم شکيل کے افسانے
|
![]() |
راہ چلتے دو مسافراکٹھا ہوئے تو ايک نے دوسرے سے پوچھا “تم نے کبھی بھوت ديکھا ہے ؟”
“نہيں، تم نے کبھی ديکھا ہے ؟” دوسرے نے پوچھا
“ہاں ” يہ کہہ کر وہ غائب ہو گيا !
اسے دنيا کا مختصر ترين افسانہ قرار ديا گيا ہے ويسے افسانے کو شارٹ سٹوری يا مختصر افسانہ ہی کہا جاتا ہے کيونکہ اگر وہ اس مدار سے نکل جائے تو طويل مختصر افسانہ ،يا اگر بات اس سے بھی بڑھ جائے تو ناول کہلاتا ہے ہم نے بھوت تو کبھی نہيں ديکھا ليکن شبنم شکيل کے افسانوں کا مجموعہ” نہ قفس نہ آشيانہ” ضرور ديکھا ہے اور ہميں يقين ہے کہ وہ بھوت نہيں ہے ورنہ کب کا غائب ہو چکا ہوتا کيونکہ يہ ميرے پاس کافی عرصے سے پڑا ہے اور اسی طرح سے موجود ہے البتہ اس کی باری ذرا دير سے آئی ہے ليکن شايد اسے دير آید درست آید بھی نہ کہا جاسکے کيونکہ ايماندار انہ خدشہ يہی ہے کہ يا تو شبنم نے اتنا انتظار کرنے کے بعد مجھ پر لعنت بھيج دی ہوگی يا اس کا خون کھولنا شروع ہو چکا ہوگا تاہم ناراض خواتين راضی عورتوں سے زيادہ اچھی لگتی ہيں ۔
اسی طرح پچھلے دنوں ميں نے ثمينہ راجہ کے نئے شعری مجموعے پر کالم بنايا تو اس نے پڑھ کر مجھے فون کيا اور باقاعدہ ڈانٹ پلائی کہ آپ نے ميری نظموں پر کوئی اظہار خيال ہی نہيں کيا اور يہ کہ اگر آپ نے ميری نظم “عشقيں” پڑھ لی ہوتی تو آپ اس پر اظہار خيال کئے بغير نہ رہ سکتے ميں کھسيانا تو ضرور ہو گيا کہ ميری چوری پکڑی گئی تھی تاہم شايد ميں ياسمين حميد والے کالم ميں کہہ چکا ہوں کہ ميں کتاب اتنی ہی پڑھتا ہوں جتنی کالم لکھنے کے لئے کافی ہو کيونکہ کالم ہوتا ہے کوئی باقاعدہ تبصرہ نہيں ہوتا چنانچہ ميں نے اس کا ادھار چکانے کے لئے کتاب کو ادھر ادھر کافی ڈھونڈا ليکن ملی نہيں۔ شايد اس کا کوئی مداح اٹھا ہی لے گيا ہو پھر بھی اميد ہے کہ کتاب کہيں نہ کہيں سے مل ہی جائے گی اور اس ميں وہ نظم بھی پڑھ گزروں گا واضح رہے کہ ميں نے ياسمين حميد کی نظموں ہی کا ذکر کيا تھا اور اس کی غزلوں پر پھر کبھی بات کر نے کا کہہ کر وقتی طور پر سرخرو ہو گيا تھا۔
شبنم کی يہ کتاب بھی کوئی اٹھالے گيا تھا جو مجھے دوبارہ منگوانا پڑی لوگ دراصل بغير اجازت کے کتاب اٹھالے جانے بلکہ چرا لے جانے کو بھی چوری نہيں سمجھتے ايک صاحب لکھتے ہيں اکثر لوگ کتاب ادھار لے جا کر واپس نہيں کرتے ميری لائبريری ايسی کتابوں سے بھری پڑی ہے بلکہ بعض کتابيں تو ايسی ہوتی ہيں کہ آپ کی زبردست خواہش ہوتی ہے کہ کوئی انہيں اٹھالے جائے يا چرالے جبکہ آپ آنے جانے والوں کو اس کا موقع بھی فراہم کرتے ہيں يا خشوع وخضوع سے دست بہ دعا ہو جاتے ہيں کہ کوئی ہاتھ کی صفائی دکھا ہی جائے تو کتاب سے گلو خلاصی ہو کہ آخر آپ آنے جانے والوں کو زيادہ سے زيادہ کتنی کتابيں تحفے کے طور پر دے سکتے ہيں ؟
حال ہی ميں متعدد شاعرات نے افسانہ نويسی کی وادی ميں قدم رکھا ہے جن ميں شبنم شکيل کے علاوہ بشریٰ اعجاز کا نام بھی ذہن ميں آرہا ہے جبکہ بشریٰ تو پنجابی زبان ميں بھی شعر کہتی ہيں اس لئے ظاہر ہے کہ انہوں نے پنجابی ميں بھی کہانياں لکھی ہوں گی شعر کہنے والوں سے بجا طور پر يہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ عمدہ نثر ہی لکھيں گے اور يہ توقع اکثر اوقات پوری بھی ہو تی ہے اس کتاب ميں کل گيارہ افسانے شامل ہيں اور لطيفہ يہ ہے کہ اپنی کم فرصتی کے باوجود ميں يہ پوری کتاب پڑھ گيا ہوں حالانکہ اس سے بھی کوئی خاص فرق نہيں پڑتا کيو نکہ فکشن پڑھنے کے معاملے ميں خاصا تنگ دست واقع ہوا يوں جبکہ اس پر کوئی معقول رائے ظاہر کر نا تو ميرے لئے اور بھی مشکل ہے لہٰذا اس کتاب کے بارے ميں بھی ميری رائے فکشن کے ايک باقاعدہ قاری ہی کی ہو سکتی ہے ۔
جس طرح شعراء بلکہ نوجوان شعرا بالخصوص اپنی عمدہ غزل يا دوچار بہتر غزليں آغاز ميں رکھ ديتے ہيں تاکہ پہلا تاثر قاری پر ذرا بہتر طور پر جم سکے اسی طرح شبنم نے بھی يہ چالاکی ضرور روا رکھی ہے کہ اپنی بہترين کہانی بعنوان ايک سيارے کے لوگ” اس نے پہلے نمبر پر رکھی ہے جو بلاشبہ اس کی بہترين کہانی ہے بلکہ اگر ايک قاری کی رائے کوئی اعتبار رکھتی ہو تو اس کہانی کو دنيا کی بہترين کہانيوں ميں رکھا جاسکتا ہے کيونکہ انسان کے اندر، وہ جيسا بھی ہو، جونيکی، خير اور ہمدردی کا جذبہ قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے اس کی عکاسی نہايت خوبصورت طريقے اور ہنر مندی سے کی گئی ہے “وہ دو گھنٹے” بھی ايک عمدہ افسانہ ہے جس کے کريکٹر زرينہ سے سعادت حسين منٹو کی کردار سازی ياد آتی ہے جو کہ اس نے اسی طرح کے لاتعداد اور زبردست کردار اردو افسانے کو دئيے ہيں دراصل ہوتا يہ ہے کہ جب ايک غير معمولی شاعر يا اديب ظہور پذير ہوتا ہے تو وہ دوسرے شاعروں يا اديبوں کا راستہ ايک طرح سے بند کر ديتا ہے اور منٹو نے بھی يہی کچھ کيا تھا۔
“سودا” ايک اور عمدہ افسانہ ہے بلکہ اگر دوسرے افسانے غير معمولی نہيں تو کسی لحاظ سے معمولی بھی نہيں ہيں اصل خوشی کی بات تو يہ ہے کہ تجرید اورعلالت کے رطب ویابس کو جھيلتی ہوئی کہانی اب اپنے اصل کی طرف لوٹ رہی ہے ورنہ تو افسانہ ايک بجھارت اورچیستاں ميں تبديل ہو کر رہ گيا تھا بيشک شعر وادب کا صحيح حسن ابہام ہی ميں پوشيدہ ہے ليکن شاعری کی طرح افسانے کی شرط بھی يہ ہے کہ وہ عوام اور خواص، دونوں کی سطح پر اپيل کرتا ہو جبکہ قاری کا کم ازکم تقاضا، جو اس کا حق بھی ہے يہ ہے کہ افسانہ قابل مطالعہ ضرور ہو اور ايک دلچسپ ريڈنگ ضرور ليا کرے يہ نہيں کہ آدمی افسانہ پڑھنا شروع کرے اور سرپکڑ کر بيٹھ جائے حال ہی ميں “دنيا زاد” کراچی ميں جناب خالد مسعود خان کے تين افسانے پڑھنے بلکہ ايک مشقت سے گزرنے کا اتفاق ہوا اور اسی نتيجے پر پہنچا کہ اگر موصوف کے پاس کہنے کو کچھ نہيں تھا تو اتنے صفحے سياہ کر نے کی کيا ضرورت تھی ہوسکتا ہے کہ فکشن کا کوئی نقاد اٹھے اور انہيں شاہکار افسانے قرار دے دے کيونکہ ميں تو اپنے حدود وقيود کا اظہار پہلے ہی کر چکا ہوں۔
چنانچہ ان افسانوں کی کاميابی يہی کيا کم ہے کہ يہ قاری کو ساتھ لے کر چلتے ہيں اور کہيں اکتاہٹ کا احساس نہيں ہوتا اس مجموعے میں اور بھی قابل ذکر افسانے ضرور موجود ہيں ليکن عرض کيا ناکہ يہ کوئی تبصرہ يا تجزيہ نہیںہے اور مجھے يقين ہے کہ آپ اسے کالم ہی سمجھ کر پڑھ رہے ہيں کتاب کا انتساب شبنم کے مياں شکيل کے نام ہے جبکہ پس سرورق پر شبنم کی عمدہ تصوير اور ڈاکٹر سليم اختر کی تحسينی رائے درج ہے اسے سنگ ميل پبلی کيشنر لاہور نے نہايت عمدہ گيٹ اپ اور ميک اپ ميں شائع کيا ہے اور کوئی سوا سو صفحات پر مشتمل تحفہ کتاب 180روپے ميں دستياب ہے خدا کرے شاعری کے ساتھ ساتھ شبنم شکيل يہ سلسلہ بھی جاری رکھے ۔
Posted on February 23rd, 2007 by adil
Filed under: General

Leave a Reply