“سمبل”2کی اشاعت


zafar-iqbal.jpg

“سمبل” کا دوسرا شمارہ وقت پر شائع ہو گيا ہے اور يہ بساغنيمت ہے ،حصہ غزل اور مضامين البتہ توقعات کے مطابق نہيں  غزليں  ايک ہی طرح کی ہيں  سپاٹ اور بے جان، کہ ايک ہی شاعر کی تخليق لگتی ہيں  غزل پر ايک عرصے سے جو برا وقت آياہوا ہے ،ميں  اس  پرحسب  توفيق حال دہائی کرتا رہتا ہوں  کہ يہ جو ٹريش کے انبار لگائے جارہے ہيں  اور ايک دوسرے کی جگالی کی جارہی ہے اس سلسلے ميں  قدرے خدا ترسی کا مظاہرہ کيا جائے اور اگر اس طرح کی اس انداز ميں  بلکہ اس سے بہتر شاعری پہلے کی جاچکی ہے تو اس شاعری کا آخر کيا جواز ہے جبکہ جہاں  تہاں  محض شعر موزوں  کر نے ہی کو شاعری سمجھا جارہا ہے شعر وادب ميں  رعايتی نمبر نہيں  چلتے جيسا کہ پروفيسر گوپی چند نارنگ نے جيت پر کار کی غزلوں  کی تحسين کے سلسلے ميں  کيا ہے اور اس بات سے صرف نظر کر گئے ہيں  کہ ان کے ممدوح شاعر سے شعر بن بھی پاتا ہے يا نہيں  بيشک نارنگ صاحب بنيادی طور پر نثر کے آدمی ہيں  ليکن شاعری پر بھی وہ گہری نظر رکھتے ہيں  ۔
شعبہ مضامين بھی کم وبيش ايک جيسا ہے جس ميں  ادق موضوعات کو مزيد ادق انداز ميں  زير بحث لايا گيا ہے ادب کو اگر ذہنی مشق يا بيگار بنا ديا جائے تو اس سے اديب کا اپنارعب داب تو قائم ہو جاتا ہے ليکن اس کے ساتھ ساتھ ادب پارے کی تخليق کا مقصد بھی فوت ہو جاتا ہے جبکہ مضمون نگار کا کمال بلکہ غرض تو يہ ہے کہ وہ مشکل مضمون کو بھی عام فہم طريقے سے بيان کر ے تاکہ زيادہ سے زيادہ قارئين اس سے مستفيد ہو سکيں  انگريزی ادب کے حوالوں  کی بھرمار سے اديب کااپنا شوق تو پورا ہو جاتا ہے ليکن تحرير بھی گنجلگ اور ناقابل مطالعہ ہو کر رہ جاتی ہے غالب کے فارسی خطوط کے تراجم سے بھی ماسوائے بوريت کے کچھ حاصل نہيں  ہوتا البتہ غالب کی پيچيدہ بيانی کی دھاک ضرور بيٹھ جاتی ہے آخر مضمون نگار نارنگ کا سااسلوب تحرير کيوں  اختيار نہيں  کر سکتے کہ کم از کم ابلاغ کا تردد تو روا رکھا جاسکے …شاعری ميں  جو جادو جگاتا ہے نثر ميں  ايسا نہيں  کرسکتا نہ ہی قاری اس کے لئے تيار ہوتا ہے کہ مضمون کے ساتھ مضمون نگار کا اپنا بوجھ بھی اس پر لاد ديا جائے ناصر عباس نےئر کی تحرير سميت پہلے چار مضامين اس کی واضح اور افسوس ناک مثاليں  ہيں  جنہيں  سز ا کے طور پر پڑھا جاسکتا ہے شمس الرحمن فاروقی، ڈاکٹر خورشيد رضوی اور ذکريا شاز وغيرہ جو کچھ کہہ رہے ہيں  کم از کم اس کی سمجھ تو آتی ہے جبکہ محولہ بالا تحريریں  قاری کے لئے بھی پريشانی کا باعث بنتی ہيں  وہ عام قاری ہو يا خاص۔
حصہ نظم البتہ بسا غنيمت ہے اور ماسوائے چند ايک کے ،سبھی نظميں  رسالے کے معيار کے مطابق ہيں  ناصرشہزاد کے دونوں  گيت بطور خاص بہت خوبصورت ہيں  تشويشناک امر يہ ہے کہ گيت کی روايت ہمارے ہاں  سے مفقود ہوتی جارہی ہے جس کی جگہ غالباً حمد، نعت اور سلام ومنقبت وغيرہ نے لے لی ہے گيت اگر باقی ہے تو پنجابی کے لوک گيتوں  کی حد تک، جن سے شاديوں  اور ديگر تہواروں  پر بھی کام چلايا جاتا ہے اردو ياہندی کے بھی وہی پرانے گيت ہی چل رہے ہيں  جو شادی کی مختلف رسومات پر کام آتے ہيں  بلکہ ان مواقع پر بھی متعلقہ فلمی گيتوں  کا چلن عام ہو چکا ہے مزيد براں ،ناصر شہزاد کے علاوہ گيت شايد کسی اور شاعر کا سروکار بھی نہيں  رہ گيا ہے ناصر شہزاد کی غزل بھی ايک الگ اور قدرے مختلف پيرايہ اظہار کی حامل ہے۔
پرچے ميں متعدد نثری نظميں  بھی شامل ہيں  نظم نثری ہو يا آزاد، اس کا سائز مزيد مختصر ہونا بيحد ضروری ہے علی محمد فرشی کو اگر علی محمد فرشی بنايا ہے تو اس کی مختصر نظموں  نے جو اس کی پہچان کا بھی درجہ رکھتی ہيں  قاری اپنی بے پناہ مصروفيات کی وجہ سے روز بروز اختصار پسندی کی طرف آرہا ہے اور وہ ڈيڑھ دوصفحوں  کی نظم کا متحمل نہيں  ہو سکتا غزل کی بڑھتی ہوئی مقبوليت کی ايک وجہ يہ بھی ہے کہ اس کا ہرشعردو  مصرعوں  کی ايک مکمل نظم کی حيثيت رکھتا ہے نثری نظم بہرحال اپنا جواز مانگتی ہے اور يہ جواز ماسوائے ابرار احمد کے ديگر شعراء کی نظموں  ميں  موجود بھی ہے کہ جو زور اور وفور نثری نظم کا متقاضی ہے وہ ابرار احمد کی نظموں  ميں  دستياب نہيں  ہوتا نيز يہ نظميں  تو عمدہ نثر کی بھی تشکيل نہيں  کرتيں   چہ جائيکہ  يہ نثری نظميں  کہلا سکيں  علاوہ ازيں  نثری نظم کو نثری ترتيب ميں  ہونا چاہيے جيسا کہ مثلاً احمد ہميش کی نظم ہے  کيونکہ نثری ترتيب ميں  نہ ہو تو يہ آزاد يعنی موزوں  نظم کا دھوکہ ديتی ہے اور قاری کو خاصی پريشانی کے بعد پتا چلتا ہے کہ يہ تو نثری نظم ہے ۔
ڈاکٹر احسن فاروقی پر آصف فرخی ،نوشاد علی پر آفتاب اقبال شميم کا مضمون اور ذکريا شاز کے قلم سے نوبل انعام يافتہ برطانوی نژاد اديب ہيرلڈ پنٹر کا تعارف اور ايوارڈ وصول کر نے کے موقعہ پر اس کی تقريرخاصے کی چيزيں  ہيں  گے بی کے عنوان کے تحت لکھی گئی علی محمدفرشی کی نظم کا تجزيہ يسٰين آفاقی نے کيا ہے بہتر ہوتا اگر ايڈيٹر کے بجائے کسی دوسرے شاعر کی نظم کو اس کا موضوع بنايا جاتا ۔
يا کم از کم ان کا آغاز کسی اور شاعر سے کيا جاتا افسانے میں نہيں پڑھ سکا جبکہ رشيد امجد اور طاہر ہ اقبال وغيرہ کے نام ہی اس بات کے ضامن ہيں کہ معياری ہوں گے 400صفحوں پر مشتمل اس نہايت عمدہ رسالے کی قيمت 150روپے رکھی گئی ، ہے جو مناسب  ہے  اب چند منتخب اشعار:۔
نام پر تيرے رگ جاں سے صدا آتی ہے
ورنہ يہ ساز تو چھڑتا نہيں مضراب سے بھی
(ثمينہ راجہ)
ہم وہ معصوم پرندے ہيں ترے گنبد کي
جن کو دنيا نے خطرناک سمجھ رکھا ہے
(خاور اعجاز)
بادل      با رش والے    موسم خواہش والے
آسمان خوش نہيں زمين سے کچھ
ہو گيا ہے غلط کہيں سے کچھ
( زکريا شاز)
زندگی خرچ ہوئی اپنی صفائی ديتے
ايک دن ميں نہيں منظور کيا ميں نے مجھے
(انجم سليمی)
پھر اس کے بعد کہاں ديکھ پاؤں گا خود کو
ميں اپنا آخری ديدار کرنے آيا ہوں
( شہاب صفدر)
پس اک تماشائے بود و نابوود چل رہا ہے
بدن سے ہوتا ہوا کہانی سے جا رہا ہوں
(

Leave a Reply