ظفر اقبال ۔۔۔ غزل

غزل ۔۔۔۔۔ ظفر اقبال

غزل ۔۔۔ ظفر اقبالؑؑ

Ghazal - Zafar Iqbal

Zafar Iqbal Ghazal

 
Zafar Iqbal
 
 
       

ادب لطیف،دنیازاد ،ادبی دنیا،پنچم اورمعاصرشاعری کے تازہ شمارے

ادب لطیف،دنیازاد ،ادبی دنیا،پنچم اورمعاصرشاعری کے تازہ شمارے

zafar-iqbal.jpg

ممتاز ماہنامے “ادب لطیف لاہور”  کی اشاعت کو70 سال سے اوپر ہوچکے ہیں جوچوہدری برکت علی مرحوم نے جاری کیاتھا اوراب صدیقہ بیگم کی ادارت میں باقاعدگی سے شائع ہورہاہے حال ہی میں اس کاشمارہ اپریل منظر عام پرآیاہے جسے حسب معمول معروف لکھنے والوں  کاتعاون حاصل ہے اورجن میں احمدفراز سے لے کرڈاکٹر ضیاء الحسن تک شامل ہیں  دیگرمضامین  نظم ونثر کے علاوہ محمدفیصل مقبول عجزکامضمون اردوزبان۔ جدید دور کاوسیلہ اظہار منیراحمد فردوسی کامضمون “حاصل گھاٹ،ایک دانشکدہ اوررضوان عظیم کاسفرنامہ راوی چین لکھتاہے “خاصے کی چیزیں  ہیں ۔
کتابی سلسلہ “دنیازاد” جسے ڈاکٹر آصف فرخی کراچی سے نکالتے ہیں  کاانیسواں  شمارہ بھی شائع ہوگیا ہے جس کے لکھنے والوں  میں انتظار حسین،شمس الرحمن فاروقی، فہمیدہ ریاض،شہریار ،کشورناہید ،محمدعمر میمن اورمحمد عاصم بٹ شامل ہیں  اپنی روایتی آب وتاب  کے ساتھ شائع ہوکرمارکیٹ میں آگیاہے معمول کے مطابق اس میں تراجم کاحصہ بھی زوردار ہے جس میں اسماعیل کادرے،اورمان پاٹک، امین معلوف ،الیاس خوری،دیبی ایلیٹ،فریدرک ولم خاں  ایدرک، حلیم بروہی،عاطف ابوسیف اورحاتم قاسم زلزلاکاتعارف اورتراجم شامل ہیں ۔
کراچی کے ماہنامہ”ادبی دنیا”  جس کی مجلس مشاورت میں  اظہر عباس ہاشمی، صابر ظفر، صبا اکرام اورافضال صدیقی شامل ہیں  عبدالحسیب خان کی سرپرستی میں شمارہ فروری،مارچ2007ء شائع ہواہے جس کے مدیران عارف شفیق اورافضل منگلوری ہیں  اسے بھی معروف لکھنے والوں  کاتعاون حاصل ہے جن میں شمس الرحمن فاروقی، پروفیسر سحرانصاری، شاکر علی،ڈاکٹر نجیب جمال ،ڈاکٹر روبینہ ترین اوردوسرے شامل ہیں  جبکہ منوررانا نے “مشاعرے میں لیے پھرتے ہیں جسے شاعر” میں بھارت میں ہونے والے مشاعروں  سے متعلق ایک چشم کشارپورٹ پیش کی ہے جبکہ”روشن خیالی یامحض حکمت عملی” کے عنوان سے عابدحسن منٹوکامضمون خاصے کی چیز ہے ۔دیگر مضامین بھی اہمیت کے لحاظ سے کم نہیں ہیں ۔
مہینہ وارپنجابی رسالہ”پنچم” جسے مقصود ثاقب لاہور سے شائع کرتے ہیں  اس کاتازہ شمارہ بھی حال ہی میں شائع ہواہے اور جوپنجابی جریدوں  کی صف اول میں نہ صرف شامل ہے بلکہ اپنے معیار کے حوالے سے اپناکوئی ثانی بھی نہیں رکھتا۔ اس کے قلمی معاونین میں  نجم حسین سید، عابدعمیق، پروفیسر کشن سنگھ، مشتاق صوفی، دیوندرستیارتھی، افضل  توصیف اورزاہد حسن شامل ہیں  حسب معمول نہایت اعلیٰ ٹائٹل اوراپنے روایتی اوریگانہ ویکتا سلیقے میں شائع ہوا ہے مکھ بولی کے عنوان کے تحت مقصود ثاقب کا ابتدائی مضمون”ماں  بولی دی بنت گھڑے: حق جاں دھکا”پنجابی زبان کے حوالے سے ایک ٹھوس اورجاندارتحریر ہے اس شمارے میں “اک دروازہ ” کے عنوان سے شائع ہونے والی افضل راجپوت  کی یہ نظم دیکھیں :
اک دروازے کولوں  لنگھدیاں
اج وی قدم کھلو رہندے نیں
دل اندر ای ہس پینداے
نین اندر ای رو پیندے نیں
اک دروازے اتے پاٹیاں
ہوئیں  دو تصویراں  نیں
اک دروازے اتے رُسیاں
ہوئیاں  دو تقدیراں  نیں
اک دروازے اتے لمکیاں  ہوئیاں
دو زنجیراں  نیں
زنجیراں دے حلقے سانوں
اپنے وچ کھبو لیندے نیں
اک دروازے کولوں ل لنگھدیاں
اک دروازے پچھے کوئی جادوگرنی رہندی سی
چپ کر کے موہ لیندی جگ نوں
موہوں  حرف نہ کہندی سی
اسماناں  دیاں سیلاں کرکے آن دلاں تے لہندی سی
اویدیاں  یاداں  آلے گجرے
سنجے ہتھ پرو لیندے نیں
اک دروازے کولوں  لنگھدیاں
اک دروازے آلیاں  جھیتاں
جنت آلی باری نیں
اک دروازے اتوں  ساڈیاں
جاناں  صدقے واری نیں
اک دروازے دے صدقے ای
ساڈیاں  ساہواں  جاری نیں
خواب دے پنچھی پیاسیاں  چنجھاں
لہودے وچ ڈبو لیندے نیں
اک دروازے کولوں  لنگھدیاں
کتابی سلسلہ “معاصرشاعری” کادوسرا شمارہ زیرنظرہے اس پرچے کی خصوصیت بلکہ خوبی یہ ہے کہ اس میں یاتوشاعری شائع کی جاتی ہے یاشاعری کے حوالے سے مضامین۔ ایک خاص طبقہ قارئین کوایسے رسالے کی بے حدضرورت تھی جوصرف شاعری میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ اس کے مدیران سعیداحمداورتابش کمال خودبھی شاعر ہیں  ۔اس کی ابتدا میں  سعیداحمد نے رلکے کی ایک نظم”صرف ایک نظم کی تلاش میں ” کوانگریزی سے ترجمہ کیاہے جبکہ تنقید میں ڈاکٹر نجیب عارف کامضمون”ان۔ م راشد کے ازل گیروابدتاب خواب” ایک عمدہ تحریر ہے جوراشد کی شاعری کی تفہیم میں مدد دیتاہے جبکہ عالمی ادب کے عنوان سے راشد سلیم نے لڈیاویانوکے مضمون کاترجمہ پیش کیاہے ۔بے شمار اورعمدہ نظمیں  غزلیں اس کاطرہ امتیاز ہیں ۔اس میں  شامل نئے شعراء کی غزلوں  میں سے منتخب اشعار:۔
میں  سرِبازار لے آیا ہوں  دست بے ہنر
باز کو تصویر کرنا تھا کبوتر بن گیا
(منورعزیز)
ہزار طرح کے روگ اس کے ساتھ آتے ہیں
یہ عشق بے سروسامان تھوڑی ہوتاہے
(حسن عباس رضا)
بے جان پڑادیکھتا رہتا تھا میں اس کو
اک روز مجھے اس نے اشارے سے اٹھایا
(انجم سلیمی)
ایک ہی عشق میں سب خاک ہوئی عمر مری
ایک ہی جست مقررتھی شرارے کیلئے
(لیاقت علی عاصم)
پھر اس کے بعد سمندر ہے پھر سمندر ہے
کوئی بھنور میں  رہے یا کوئی عبور کرے
(افضال نوید)
خاک کردے گا ہمیں  تیری زمینوں  کا طلسم
شوق پرواز بھی ہے،پاؤں  اکھڑتے بھی نہیں
(علی افتخار جعفری)
بھربھرے جسم کی مٹی نے بہت خوارکیا
اپنے ہونے پہ جب اصرار کیاہے میں  نے
(افضل گوہر)
اٹھ گیاہے مراپانی سے بھروسہ شاہد
کھیل دریا نے وہ کھیلاہے مری پیاس کے ساتھ
(شاہدذکی)
دل سے گزر رہاہے  کوئی ماتمی جلوس
اوراس کے راستے کو کھلا کر رہے ہیں  ہم
اک ایسے شہر میں  ہیں  جہاں  کچھ نہیں  بچا
لیکن اک ایسے شہرمیں  کیا کر رہے ہیں  ہم
کب سے کھڑے ہوئے ہیں  کسی  گھرکے سامنے
کب سے اک اور گھر  کا پتا کر رہے ہیں  ہم
(ذوالفقار عادل)
سہ ماہی ادبیات ماہنامہ بیاض اور”ادب دوست” کے تازہ شمارے بھی شائع ہوگئے ہیں جن کاذکر پھرکبھی سہی۔

Urdustreet.com poetry Adab Gah
Adabi
Poet
Adab
Books
Interviews
Urdu Poet
Adabi Column
Urdu Literary Magazine
Cartoons
 
Uncaot
Guest
Safarnama
Novel
Urdu Adab  
Faiz Ahmed Faiz
News
Right
Adab
Nazam
Ghazal
Afsana
Tanqeed
Urdu
Latifah
Urdustreet.com
Marsia
   
History
Urdu Poets
Story
 Mazah
Upcoming Poets  
Net
Marsiya
Adabgah, Adab Gah Allomgah, Aloom Gah Webhosting Webhost Webmail Funkada Urdu News, Roznamasadiq Urdustreet.com
Urdustreet Urdu Books Radio Shadidaftar, Shadi Daftar Mall, Obaid Shopping Mall Sports Tamseelgah, Tamseel Gah

ظفر اقبال — اوراب کچھ تازہ کلام:۔

اوراب کچھ تازہ کلام:۔

کوئی بھی اختیار اچھا برا چلنے نہیں دیتا
وہ سب کچھ کر رہا ہے اورپتاچلنے نہیں دیتا
اندھیرا بھی ہے،پتوں  پرپسینہ بھی،مگراس نے
سحر روکی ہوئی ہے اور ہوا چلنے نہیں دیتا
کبھی اٹھوا رہاہے  سارا سودا ہی دکانوں  سے
کبھی بازار میں  سکہ مرا چلنے نہیں  دیتا
وہاں  درپیش ہے سارے سمندر کا سفر ہم  کو
سفینے کو جہاں  خود ناخدا چلنے نہیں  دیتا
ہمارے   ہاتھ  ہی اس نے  نہیں  باندھے ہوئے  وہ  تو
کسی کی بھی یہاں  اپنے سوا چلنے نہیں دیتا
بہت کچھ بند ہے اوراس گھڑی کچھ کہہ نہیں سکتے
کہ چلنے دے رہاہے کیا توکیاچلنے نہیں دیتا
وہ لے کرچل رہاہے سب کواپنی سرپرستی میں
کسی کواپنی مرضی سے جدا چلنے نہیں  دیتا
کھڑا ہوں  اور مرے آگے رکاوٹ بھی نہیں  کوئی
جو سچ پوچھیں  تو مجھ کوراستہ چلنے نہیں دیتا
ظفر،زنجیر میرے پاؤں  میں  ہے میری اپنی ہی

مجھے آگے مرا رنگ نوا چلنے نہیں  دیت

ظفر  اقبال

ا

ماہنامہ”پارسا” اور وحید اختر قریشی کی غزل

ماہنامہ”پارسا” اور وحید اختر قریشی کی غزل

zafar-iqbal.jpg

ماہنامہ کیا ہے ماہنامے  کی معذرت ہے کہ صرف اخباری سائز کے چار صفحوں  اور دو اوراق  پر مشتمل ہے جبکہ اس میں  روایتی ماہناموں  کی کوئی جھلک نظر نہیں  آتی لیکن یہی کیا کم ہے کہ بوریوالہ جیسی غیر اہم اور دور افتادہ جگہ سے سید تحسین گیلانی اسے نکالتے ہیں  جس کی یہ جلد 16 اور شمارہ نمبر 4 یعنی اپریل کے مہینے کا ہے۔ ایسی جگہوں  سے کوئی سا بھی پرچہ نکالنا محض اپنی جان پر کھیلنے کے مترادف ہے البتہ یہ معلوم نہیں  کہ جان تحسین گیلانی کی ہے یا چیف ایڈیٹر غفار پاشا کی۔ بہرحال ہمیں  دونوں  کے ساتھ دلی ہمدردی ہے کہ ایک قصبے سے صرف ادبی خبروں  تبصروں  اور تحریروں  پر مشتمل یہ پرچہ نکال رہے ہیں  جس میں کسی اشتہار کا بھی سراغ نہیں  ملتا کہ جس سے چار پیسے  کی توقع ہوجس سے پرچے  کا خرچہ ہی نکل آئے۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ہے یہ ایک ادبی خبرنامہ ہے جو جنوبی پنجاب کے ایک معقول  حصے کا حسب  استطاعت احاطہ کرتا ہے چنانچہ اس میں  کہیں  کسی تازہ شعری  مجموعے  کی رونمائی کی تقریب  کا احوال ہے  تو کہیں  کسی مجموعے  پر مقامی ادیبوں کا مکالمہ ہے جبکہ حال ہی میں  انتقال کرجانيوالے ہمارے شاعر دوست محسن بھوپالی کے لئے بھی ایک گوشہ مخصوص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ موصول ہونے والے رسائل اور کتابوں  کا تذکرہ ہے اور ایک حصہ شاعری کے لئے وقف ہے، حتیٰ کہ ایک کونہ پنجابی تحریروں  کیلئے بھی  مختص  ہے جبکہ ادبی معاملات کے علاوہ اس میں  اور کسی چیز کی گنجائش نہیں  رکھی گئی۔ یہ کسی حد تک ہمارے دوست ڈاکٹر اختر شمار  کے ماہنامہ بجنگ آمد کی کمی بھی پوری کرتا ہے جو ایک عرصے سے نظر نہیں  آیا لیکن “بجنگ آمد” کا ایک اضافی ذائقہ یہ بھی تھا کہ اس میں  پنجاب بھر کے ادباء کے بارے تازہ ترین اطلاعات بھی دستیاب تھیں  جن میں  ان کے سیکنڈلز کا بھی ذکر اذکار رہتا تھا۔ ایسے ایک دو اور پرچے بھی لاہور ہی سے نکلتے رہے لیکن ان میں  وہ بات پیدا نہ ہوسکی چونکہ ہمارے ہاں  مختلف وجوہ کی بنا پر بڑے بڑے پرچے اپنا وقت پورا کرنے پر یاقبل ازوقت ہی بند ہوتے رہتے ہیں  اس لئے  بجنگ آمد  کے اس طرح منظر سے غائب ہونے  کا زیادہ نوٹس نہیں  لیا گیا۔ دراصل میں  توحید اختر قریشی کی ایک غزل کا ذکرکرنا اور آپ کو سنانا چاہتا تھا جس  کے چار ہی شعر اس پرچے میں  شائع ہوئے ہیں  اور جو مجھے اچھی لگی ہے لیکن اس سے پہلے ایک لطیفہ اور وہ یہ کہ چند ماہ پہلے میں  نے اپنے دوست اے جی جوش کے ماہنامہ ادب دوست میں  کسی طالب انصاری کی غزل پڑھی جو اتنی اچھی لگی کہ میں  نے اس حوالے سے ایک مختصر مضمون لکھ کر ادب دوست کو بھیج دیا۔ اس کے بعد پرچے میں  طالب  انصاری نے اسی رسالے میں  شائع ہونے والی میری ایک حمد پر اپنی ناپسندیدہ رائے کا اظہار کیا جس کے بعد جوش صاحب کا فون آیا کہ وہ اس خط کی وجہ سے میرا مضمون نہیں  چھاپ رہے    حالانکہ میں  نے انہیں  کہا بھی کہ مکتوب نگار کی رائے اس کا حق تھا اور میرا مضمون میرے فرض کی ادائی  تھی کہ میں  تو کبھی نئے شاعر کی کوئی چیز پسند کر بیٹھوں  تو اس کا  مقروض ہوجاتا ہوں  بہرحال انہوں  نے وہ مضمون ان حالات میں  چھاپنا  مناسب نہیں  سمجھا اور میں  ان  سے وہ تحریر  واپس منگوا رہا ہوں  تاکہ کہیں اور چھپوا کر یہ قرض ادا کردوں  کیونکہ اگر وہ عمدہ شاعر ہے تو مجھ سے اختلاف کرنے پر میری نظر میں  وہ برا شاعر نہیں  ہوجاتا۔
بہرحال اب آپ وحید اختر قریشی کے شعر سنیے جس کا کوئی شعر پہلے میری نظر سے نہیں  گزرا تھا۔
یہ زمین بھی تھی وہاں   پر آسمان موجود تھا
ہاں  مجھے معلوم ہے سب، میں  وہاں  موجود تھا
کس طرح سیلاب میں  وہ لوگ سارے بہہ گئے
کشتیاں  مضبوط تھیں  اور بادباں   موجود تھا
مشرق و مغرب  میں  بھی کب ڈھونڈ پایا میں  اسے
وہ مری سانسوں  کے لیکن درمیاں  موجود تھا
کھو چکا ہوں  راستہ میں  اک پرندے کی طرح
مل نہ پایا آشیاں  پر آشیاں  موجود تھا
ہمارے دوست  ابراراحمد  جو نظم  وغزل  کے ممتاز شاعر ہونے کے ساتھ  ساتھ  ایک معروف  نقادبھی ہیں  کہا کرتے ہیں  کہ ظفر صاحب آپ کو وہی غزل اچھی لگتی ہے  جو آپ کے رنگ میں  کہی گئی ہو لیکن میں  اس سے اتفاق  اس لئے نہیں  کرتا کہ میں  تو آئے دن اپنا رنگ اور اسلوب تبدیل کرتا رہتا ہوں ، اس لئے مجھے کسی مخصوص رنگ یا لہجے میں  قید نہیں  کیا جانا چاہئے چنانچہ میری ناقص رائے میں  یہ اشعار اس شاعری سے بالکل مختلف  ہیں  جو ٹنوں  کے حساب سے ہمارے قرب وجوار  میں   تخلیق  کی جارہی ہے اور ان اشعار میں پیرایہ اظہار کی جو تازگی  موجود ہے اس کی وجہ ا س کے سوا کوئی اور نہیں  ہوسکتی  خدا کرے وحید اختر  قریشی اسی طرح کے شعر کہتا رہے۔

سلیم شہزاد کی پنجابی شاعری

         
zafar-iqbal.jpg
 
       

سلیم شہزاد ہمارے سینئر اور متنوع شعراء میں  شمار ہوتے ہیں  جن کی تخلیقات پنجابی سے لے کر اردو، اور سرائیکی تک پھیلی ہوئی ہیں ۔ “کاں  بنیرے سکن” انکا پہلا پنجابی شعری مجموعہ ہے جبکہ “ماسوا” کے نام سے اردو نظموں  کا مجموعہ زیور طبع سے آراستہ ہو چکا ہے اور “قسم ہے کنارے کی” کے عنوان سے اردو نظموں  کا مجموعہ زیر طبع ہے۔ “کریلی” کے نام سے سرائیکی ناول اور “کانڈھا” کے عنوان سے سرائیکی نظموں  کی کتاب بھی شائع ہو چکی ہے۔ زیر نظر کتاب سچیت کتاب گھر لاہور نے کوئی سوا دو سال پہلے چھاپی جس کی ضخامت پونے تین سو صفحات سے زیادہ ہے اور جس کی قیمت 175 روپے رکھی گئی ہے۔
اس کتاب کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ اس کی نظم و نثر آمنے سامنے گورمکھی اور شاہ مکھی رسم الخط سے مزئین ہے تاکہ مشرقی پنجاب میں  رہنے والے شائقین بھی اس سے استفادہ کر سکیں  جو شاہ مکھی سکرپٹ سے آشنا نہ ہوں ۔ کتاب کا بیحد خوبصورت سرورق ہمارے دوست ذوالفقار تابش نے بنایا ہے، ایک بہت عمدہ شاعر ہونے کے علاوہ خطاطی اور مصوری میں  انہوں  نے ہمارے لیجنڈ حنیف رامے کی ہدایت کو اس طور سینے سے لگا رکھا ہے کہ انہیں  حنیف رامے کی توسیع کہا جا سکتا ہے۔ کتاب مجلد ہے اور عمدہ گٹ اپ میں  شائع کی گئی ہے جبکہ پس سرورق شاعر کی رنگین تصویر اور غلام حسین راجہ، نسرین انجم بھٹی اور اظہر جاوید کی مختصر آراء شائع کی گئی جو ان کے دیباچوں  سے ماخوذ ہیں ۔
جس طرح آدمی اپنے دوستوں  سے پہچانا جاتا ہے، اسی طرح کتاب بھی اپنے دیباچوں  اور فلیپ کی تحریروں  سے پہچانی جاتی ہے۔ اول تو دیباچہ لکھوانا ہے ہی ایک فضول اور بے معنی کام جو میرے سمیت تقریباً سبھی کرتے ہیں  جبکہ اکثر اوقات وہ خوبیاں  کتاب میں  ہوتی ہی نہیں  جو دیباچوں  اور تقریضوں  میں  بیان کی گئی ہوتی ہیں  جو قاری کو مایوس کرنے کا سبب بنتی ہیں  حالانکہ شاعر کو دیباچہ نگار کی نسبت قاری ہی پر انحصار کرنا چاہئے۔ نیز ان فارمولا قسم کے دیباچوں  کو پڑھتا بھی کوئی قسمت کا مارا ہی ہو گا کیونکہ بوجوہ انہیں  زیادہ سے زیادہ ناقابل مطالعہ بنانے کی کوشش کی گئی ہوتی ہے، حالانکہ 
حاجت مشاط نیست روئے دلا رام را
سلیم شہزاد کا پہلا امتیاز وہ زندہ زبان ہے جو انہوں  نے اپنی نظموں  میں  استعمال کی ہے اور جو یقینی طور پر اربنائز ہونے سے کافی حد تک بچی ہوئی ہے اور ہمارے دیہات ہی میں  پورے جوش و جذبے سے بولی جاتی ہے، بلکہ اگر یہ بھی کہا جائے تو کچھ ایسا غلط نہ ہو گا کہ ہماری ماں  بولی  کو باقاعدہ دو حصوں  میں  تقسیم کر دیا گیا ہے یعنی ایک تو وہ جو شہروں  میں  آ کر اپنی تاب و تواں  کھو بیٹھی ہے اور لازمی طور پر خون کی کمی کا شکار ہے اور دوسری وہ جو شہر کی ہوا لگنے سے بچ گئی ہے۔ چنانچہ شاعری بھی دو ہی طرح کی ہو رہی ہے اور جس میں  یہ دونوں  لہجے الگ الگ برتے جا رہے ہیں  اس کتاب کی چنانچہ اصل شناخت اس کی غیر آلودہ زبان ہی ہے۔ اگرچہ ضخامت میں  اضافے کی وجہ گورمکھی سکرپٹ کا اہتمام بھی ہے تاہم ایک اور سبب یہ بھی کہ اکثر نظمیں  بیحد مختصر ہیں  جو کہ بجائے خود بہت اچھی بات ہے، لیکن طرز ترتیب کی وجہ سے بھی یہ اضافہ ہوا ہے کیونکہ اوپر نیچے مصرعے لکھنے سے کم از کم دو تہائی جگہ ہر صفحے پر بچائی جا سکتی تھی جہاں  مصرعوں  کو قوس بنا کر عموماً ہر لفظ اوپر تلے درج کیا گیا ہے۔ کتاب کا انتساب محمد آصف خان، احمد رشید بھٹی اور علی اشرف قریشی کے نام ہے۔
افضل راجپوت کے شعری مجموعے “ہڑھ آون تو پہلاں ” پر میں  کہیں  اور اظہار خیال کر چکا ہوں ۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ میری طرح افضل راجپوت کی پیدائش بھی بہاولنگر کی ہے اور وہ وہیں  پر رہائش پذیر بھی ہے، جبکہ سلیم شہزاد کی جنم بھومی کا تو علم نہیں  لیکن رہائش اس کی بھی بہاول نگر ہی کی ہے جو میرا ننھیال ہے۔ سلیم شہزاد کی نظموں  میں  صحیح زبان کے علاوہ گہرائی اور پیچیدگی بھی دستیاب ہے جبکہ نظریاتی طور پر اس کا قبلہ بھی بظاہر درست لگتا ہے نیز ابہام بجائے خود شاعری کا حسن ہے۔ میری پوری اور ذاتی رائے میں  شاعری کے اندر دوسری یعنی محولہ بالا خوبیوں  کے علاوہ تازگی اور لطف سخن کا ہونا بھی بیحد ضروری ہوتا ہے، اور جس کا زیادہ سے زیادہ اہتمام سلیم شہزاد کر بھی سکتے تھے کیونکہ قاری، شاعری کو اپنے علم و دانش اور آگاہی میں  اضافے کے لئے نہیں  بلکہ ایک ذہنی اور وجدانی آسودگی کے لئے پڑھتا ہے اس لئے شاعری اپنی دیگر بہت سی خوبیوں  کے باوجود اگر لطف سخن ہی مہیا نہیں  کرتی، یا اس سلسلے میں  اس کا ہاتھ تنگ رہتا ہے تو شاعری کو اس پر فکر مند ہونے کی ضرورت ہے، اگرچہ     %04%F2
قبول خاطر و لطف سخن خدا دادست
مجھے اس کتاب میں  سے جو دو نظمیں  بطور خاص اچھی لگی ہیں ، ان میں  سے ایک جس کا عنوان “نظم” ہے، ملاحظہ کریں ۔
ٹھنڈے برف وجوداں  اندر بندے
شل پے جاندے نیں
کدی کدی تے کوڑے رشتے
اپنے گل پے جاندے نیں
اپنیاں  گنجھلاں  کھولن لگیا
بہتے ول پے جاندے نیں
دوسری نظم جس کا عنوان ہے “افصل راجپوت لئی” یوں  ہے
تیرے دھونے دھو نہیں  سکدا
میتھوں  تے ایہہ ہو نہیں  سکدا
تو وی ہو کے ہاواں  ڈک لے
جیوندیاں  نوں  میں  رو نہیں  سکدا
بظاہر چار مصرعوں  کی یہ نظم دو صفحوں  پر پھیلائی گئی ہے، اور اسی طرح گورمکھی سکرپٹ میں  بھی۔
آج کا مقطع
کیہہ دساں  عشق دا حال ، ظفر