رابعہ سرفراز اوراشفاق بابر کی شاعری
|
رابعہ سرفراز اوراشفاق بابر کی شاعری
|
![]() |
رابعہ سرفراز کی نثری نظموں کے مجموعے “محبت زمانہ ساز نہیں ” پر میں کچھ عرصہ پہلے اظہار خیال کرچکاہوں جوکچھ ایساپسندیدہ نہیں تھا اورنہ ہی خود مجھے اس کالم سے کوئی خوشی حاصل ہوئی تھی شاعری کوتو ویسے ہی غیرمعمولی ہوناچاہیے جبکہ نثری نظم کے اپنے حدود وقیود اس کے باوجود ہیں کہ اس میں ڈسپلن کی کوئی پابندی شاعر کے آڑے نہیں آتی ،تاہم کسی مضمون یاخیال کونثری ٹکڑوں میں بیان کردینے سے وہ شاعری نہیں بن جاتا بلکہ یہ بات غزل کے حوالے سے بطور خاص کہی جاسکتی ہے اور خیال کو محض ورسی فائی کردینا ہی کافی نہیں ہوتا شعر کوشعر بنانا بھی بے حد ضروری ہے ورنہ شعر،شعر کی پیروڈی بن کرہی رہ جاتا ہے نہ صرف یہ بلکہ سارے تردد اورمحنت پرپانی بھی پھر جاتاہے۔
کہیں پہلے بھی عرض کرچکاہوں کہ شاعری میں زبان اس طرح استعمال نہیں ہوتی جس طرح کہ نثر میں ہوتی ہے میرامقصد یہ نہیں ہے کہ آپ الفاظ کاسرکس ہی لگاکربیٹھ جائیں جبکہ اسی سلسلے کی بنیادی بات یہ ہے کہ جس زبان میں آپ شعر کہہ رہے ہیں وہ زبان آپ کو کافی مناسب حد تک آنی بھی چاہیے اس سے آگے چل کر اس کامطلب یہ نکلتا ہے کہ آپ کاخام مواد زبان یالفظ ہی ہے جس سے مکمل آشنائی اورہنر مندانہ استعمال اس کی اگلی منزل ٹھہرتی ہے کہ آپ شعر کہتے وقت کون سالفظ کس جگہ رکھتے ہیں اوریہیں سے لفظ کے غیر معمولی اورغیر متوقع استعمال کامیرا نظریہ ،یاطریق کار شروع ہوتا ہے کیونکہ روایتی خیال یامضمون کواگر آپ روایتی پیرایہ اظہار اورروایتی ہی انداز میں بیان کردیں گے تو مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوسکتے۔
البتہ ہم اگر لفظ کے استعمال کوروایتی اورغیر روایتی خانوں میں رکھ دیں تو بات نسبتاً آسان ہوجائے گی خیر یہ بحث میرے ہاں پہلے بھی بروئے کار آتی رہتی ہے جبکہ اس میں لفظ کے متبادل استعمال کامسئلہ شاید بنیادی طورپر غور طلب ہے یعنی ایک لفظ اگر ایسا آرہا ہے اوروہ بھی روایتی طریقے سے تو اس کاایک علاج یہ ہے کہ اس کے بجائے اس کاکوئی ایسامتبادل لفظ لایاجائے جو ہم معنی ہونے کے باوجود اتنا ہم معنی نہ ہوکیونکہ دیکھا یہی گیا ہے کہ متبادل ہونے کے باوجود بعض بلکہ اکثر الفاظ ایک ہی معنی نہیں دے رہے ہوتے۔ چنانچہ ایسا متبادل لفظ بھی وہ کام کرجاتا ہے جس کے آپ متمنی ہوں ویسے یہ اپنے اپنے حوصلے کی بات بھی ہے کیونکہ میں خود تو اکثر اوقات ایسامتبادل بھی تلاش اوراستعمال کر لیتا ہوں جو محض برائے نام ہی متبادل کہلایا جاسکتا ہے ایسالفظ نہ صرف معنی کووسعت دینے میں مدد گار ہوتا ہے بلکہ ایک حیرت انگیز تازگی بھی شعر کوارزانی کرتا نظر آتاہے۔
اس کادوسرا بڑافائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایسالفظ شعر میں ابہام کاایک ایساذائقہ پیداکردیتا ہے جوشعر کوکہیں کاکہیں پہنچادینے کی بھی توفیق اورطاقت اپنے اندر رکھتا ہے اورجو شعر کو دوجمع دو چار ہونے سے بھی بچاتا ہے علاوہ ازیں لفظ کوالٹ پلٹ کربھی دیکھنا ضروری ہے کہ ہرلفظ کاایک رخ ہوتا ہے اورجس کااپنا ایک انفرادی اثر یاتاثر بھی ہوتا ہے بعض اوقات یہ رخ لفظ کے غیرمعمولی یاغیر متوقع استعمال ہی سے تبدیل اوربار آور ثابت ہوتا ہے چنانچہ لفظ آشنائی کے بغیر نہ تو یہ سب کچھ کیا جاسکتا ہے اورنہ ہی اس کاکوئی نتیجہ ہی برآمد ہوسکتا ہے چنانچہ شاعر کیلئے لفظوں کاراز دار ہونا بہرحال ایک بنیادی شرط کی حیثیت رکھتا ہے خیر اس بحث کوفی الحال یہیں چھوڑتے ہیں ۔
ابھی کل ہی مجھے فیصل آباد سے “حرف جعفر” نامی چار صفحے کاایک اخباری ماہنامہ موصول ہوا ہے جس کے اندرونی صفحے پر رابعہ سرفراز اوراشفاق بابر کی اکٹھی غزلیں شائع کی گئی ہیں فیصل آباد کوایک باقاعدہ سکول آف تھاٹ کادرجہ بے شک نہ دیاجاسکتاہو تاہم کسی مخصوص نظریے کے بغیر بھی پاکستان کے اس سب سے بڑے صنعتی شہر میں قابل ذکر شاعری تخلیق کی جارہی ہے جس کاثبوت نہ صرف رابعہ سرفراز اور اشفاق بابر کی تخلیقات سے ملتا ہے بلکہ ان کے علاوہ بھی کچھ نوجوان خوب پرپرزے نکال رہے ہیں جن میں ثناء اللہ ظہیر، عماد اظہر، رفی اورکئی دوسرے شامل ہیں استاد ریاض مجید، اشرف یوسفی، انجم سلیمی اورمقصود وفاکوتوسنیارٹی کے حساب سے شاعری کے خلفائے راشدین کہاجاسکتا ہے پہلے رابعہ کے یہ شعر دیکھئے:
وہ مل ہی جائے گا اس ایک خوش گمانی میں
ہر ایک غم کو ہنسی میں اڑاتی رہتی ہوں
وہ اسی بھیڑ میں ملا خود ہی
معجزہ رونما ہوا خود ہی
اس کے دہلیز پر قدم رکھتے
جل اٹھا صحن کا دیا خود ہی
میری دستک کا انتظار نہ کر
تو مرا ہے تو باہر آ خود ہی
چلی گئی ہوں کہیں ،اب میں اپنی حد میں نہیں
میرا خیال میری قامت اور قد میں نہیں
تجھے خبر ہے کہ تیرے علاوہ کوئی بھی شے
مرے ازل میں نہیں اور مرے ابد میں نہیں
مانوس ہوا جاتا ہے دل بے طلبی سے
اس دشت میں پیدا کوئی طوفان ہی کر دے
مری زمین پہ بھی تجھ سا وجود ہے کوئی
میں روز کہتی ہوں یہ صبح کے ستارے سے
میری پرچھائیں کا وہ پیکر ہے
میں ہوں باہر ، وہ مہربان اندر
اپنی خواہش میں آ قیام کیا
دہر سے دل کی سمت ہجرت کی
سماہی جاؤں کبھی اس کی یاد میں شاید
سو اس کے سامنے میں آتی جاتی رہتی ہوں
اوراب اشفاق بابر کے یہ شعر
میں نے کیا ملال ، کوئی اور بھی کرے
اس شہر کا خیال کوئی اور بھی کرے
اس حسن سے گریز کیا میں نے جس طرح
پیش ایسی اک مثال کوئی اور بھی کرے
جب میں نے ہی کیا نہیں اپنا کبھی خیال
کیونکر میرا خیال کوئی اور بھی کرے
بھری زمین ، بھرا آسمان اضافی ہے
تجھے نکال کے سارا جہاں اضافی ہے
ہماری دھوپ ہمارے ہی ساتھ رہنے دو
کہ راہ زیست میں یہ سائباں اضافی ہے
کہانی میں تیرے کردار تک تسلسل تھا
اور اس سے آگے کی سب داستاں اضافی ہے
کیا خبر وہ بدن میں ہو کہ نہ ہو
ڈر رہا ہوں اسے جگانے سے
اب تیرے حسن کا خدا حافظ
Posted on April 19th, 2007 by adil
Filed under: General | No Comments »






