رابعہ سرفراز اوراشفاق بابر کی شاعری

 
رابعہ سرفراز اوراشفاق بابر کی شاعری

 
zafar-iqbal.jpg
 
 
 
 
 

رابعہ سرفراز کی نثری نظموں  کے مجموعے “محبت زمانہ ساز نہیں  ” پر  میں کچھ عرصہ پہلے اظہار خیال کرچکاہوں  جوکچھ ایساپسندیدہ نہیں تھا اورنہ ہی خود مجھے اس کالم سے کوئی خوشی حاصل ہوئی تھی شاعری کوتو ویسے ہی غیرمعمولی ہوناچاہیے جبکہ نثری نظم کے اپنے حدود وقیود اس کے باوجود ہیں  کہ اس میں ڈسپلن کی کوئی پابندی شاعر کے آڑے نہیں  آتی ،تاہم کسی مضمون یاخیال کونثری ٹکڑوں  میں  بیان کردینے سے وہ شاعری نہیں  بن جاتا بلکہ یہ بات غزل کے حوالے سے بطور خاص  کہی جاسکتی ہے اور خیال کو محض ورسی فائی کردینا ہی کافی نہیں ہوتا شعر کوشعر بنانا بھی بے حد ضروری ہے ورنہ شعر،شعر کی پیروڈی بن کرہی رہ جاتا ہے  نہ صرف یہ بلکہ سارے تردد اورمحنت پرپانی بھی پھر جاتاہے۔
کہیں  پہلے بھی عرض کرچکاہوں  کہ شاعری میں زبان اس طرح استعمال نہیں ہوتی جس طرح کہ نثر میں ہوتی ہے میرامقصد یہ نہیں  ہے کہ آپ الفاظ کاسرکس ہی لگاکربیٹھ جائیں  جبکہ اسی سلسلے کی بنیادی بات یہ ہے کہ جس زبان میں  آپ شعر کہہ رہے ہیں   وہ زبان آپ کو کافی مناسب حد تک آنی بھی چاہیے اس سے آگے چل کر اس کامطلب یہ نکلتا ہے کہ آپ کاخام مواد زبان یالفظ ہی ہے جس سے مکمل آشنائی اورہنر مندانہ استعمال  اس کی اگلی منزل ٹھہرتی ہے کہ آپ شعر کہتے وقت  کون سالفظ کس جگہ رکھتے ہیں  اوریہیں  سے لفظ کے  غیر معمولی اورغیر متوقع استعمال کامیرا نظریہ ،یاطریق کار شروع ہوتا ہے کیونکہ روایتی خیال یامضمون کواگر آپ روایتی پیرایہ اظہار اورروایتی ہی انداز میں  بیان کردیں گے تو مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوسکتے۔
البتہ ہم اگر لفظ کے استعمال کوروایتی اورغیر روایتی خانوں  میں رکھ دیں تو بات  نسبتاً آسان ہوجائے گی خیر یہ بحث میرے ہاں  پہلے بھی بروئے کار آتی رہتی ہے جبکہ اس میں لفظ  کے متبادل استعمال کامسئلہ شاید بنیادی طورپر غور طلب ہے یعنی ایک لفظ اگر ایسا آرہا ہے اوروہ بھی روایتی طریقے سے تو اس کاایک علاج یہ ہے کہ اس کے بجائے اس کاکوئی ایسامتبادل لفظ لایاجائے جو ہم معنی ہونے کے باوجود اتنا ہم معنی نہ ہوکیونکہ دیکھا یہی گیا ہے کہ متبادل ہونے کے باوجود بعض بلکہ اکثر الفاظ  ایک ہی معنی نہیں دے رہے ہوتے۔ چنانچہ ایسا متبادل لفظ بھی وہ کام کرجاتا ہے جس کے آپ متمنی ہوں  ویسے  یہ اپنے اپنے  حوصلے کی بات بھی ہے   کیونکہ میں خود تو اکثر اوقات ایسامتبادل بھی تلاش اوراستعمال کر لیتا ہوں  جو محض برائے نام ہی متبادل کہلایا جاسکتا ہے ایسالفظ نہ صرف معنی کووسعت دینے میں مدد گار ہوتا ہے بلکہ ایک حیرت انگیز تازگی بھی شعر کوارزانی کرتا نظر آتاہے۔
اس کادوسرا بڑافائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایسالفظ شعر میں ابہام کاایک ایساذائقہ پیداکردیتا ہے جوشعر کوکہیں  کاکہیں  پہنچادینے کی بھی توفیق اورطاقت اپنے اندر رکھتا ہے اورجو شعر کو دوجمع دو چار ہونے سے بھی بچاتا ہے  علاوہ ازیں  لفظ کوالٹ پلٹ کربھی دیکھنا ضروری ہے کہ ہرلفظ کاایک رخ ہوتا ہے اورجس کااپنا ایک انفرادی اثر یاتاثر بھی ہوتا ہے بعض اوقات یہ رخ لفظ کے غیرمعمولی  یاغیر متوقع استعمال ہی سے تبدیل اوربار آور ثابت ہوتا ہے چنانچہ لفظ آشنائی کے بغیر نہ تو یہ سب کچھ کیا جاسکتا ہے اورنہ ہی اس کاکوئی نتیجہ ہی برآمد ہوسکتا ہے چنانچہ شاعر کیلئے لفظوں  کاراز دار ہونا بہرحال ایک بنیادی شرط کی حیثیت رکھتا ہے خیر اس بحث کوفی الحال یہیں چھوڑتے ہیں ۔
ابھی کل ہی مجھے فیصل آباد سے “حرف جعفر” نامی چار صفحے کاایک اخباری ماہنامہ موصول ہوا ہے جس کے اندرونی صفحے پر رابعہ سرفراز اوراشفاق بابر کی اکٹھی غزلیں  شائع کی گئی ہیں  فیصل آباد کوایک باقاعدہ سکول آف تھاٹ کادرجہ بے شک نہ دیاجاسکتاہو تاہم کسی مخصوص نظریے  کے بغیر بھی پاکستان کے اس سب سے بڑے صنعتی شہر میں قابل ذکر شاعری تخلیق کی جارہی ہے جس کاثبوت نہ صرف رابعہ سرفراز اور اشفاق بابر کی تخلیقات  سے ملتا ہے بلکہ ان کے علاوہ بھی کچھ نوجوان خوب پرپرزے نکال رہے ہیں  جن میں  ثناء اللہ ظہیر، عماد اظہر، رفی اورکئی دوسرے شامل ہیں  استاد ریاض مجید، اشرف یوسفی، انجم سلیمی اورمقصود وفاکوتوسنیارٹی کے حساب سے شاعری کے خلفائے راشدین کہاجاسکتا ہے  پہلے رابعہ کے  یہ شعر دیکھئے:
وہ مل ہی جائے گا اس ایک خوش گمانی میں
ہر ایک غم کو ہنسی میں  اڑاتی رہتی ہوں
وہ اسی بھیڑ میں  ملا خود ہی
معجزہ رونما ہوا خود ہی
اس کے دہلیز پر قدم رکھتے
جل اٹھا صحن کا دیا خود ہی
میری دستک کا انتظار نہ کر
تو مرا ہے تو باہر آ خود ہی
چلی گئی ہوں  کہیں ،اب میں  اپنی حد میں  نہیں
میرا خیال میری قامت اور قد میں  نہیں
تجھے خبر ہے کہ تیرے علاوہ کوئی بھی شے 
مرے ازل میں  نہیں  اور مرے ابد میں  نہیں
مانوس ہوا جاتا ہے دل بے طلبی سے
اس دشت میں  پیدا کوئی طوفان ہی کر دے
مری زمین پہ بھی تجھ سا وجود  ہے کوئی
میں  روز کہتی ہوں  یہ صبح کے ستارے سے
میری پرچھائیں  کا وہ پیکر ہے
میں  ہوں  باہر ، وہ مہربان اندر
اپنی خواہش میں  آ قیام کیا
دہر سے دل کی سمت ہجرت کی
سماہی جاؤں  کبھی اس کی یاد میں  شاید
سو اس کے سامنے میں آتی جاتی رہتی ہوں 
اوراب اشفاق بابر کے یہ شعر
میں  نے کیا ملال ، کوئی اور بھی کرے
اس شہر کا خیال کوئی اور بھی کرے
اس حسن سے گریز کیا میں  نے جس طرح
پیش ایسی اک مثال کوئی اور بھی کرے
جب میں  نے ہی کیا نہیں  اپنا کبھی خیال
کیونکر میرا خیال کوئی اور بھی کرے
بھری زمین ، بھرا آسمان اضافی ہے
تجھے نکال کے سارا جہاں  اضافی ہے
ہماری دھوپ ہمارے ہی ساتھ رہنے دو
کہ راہ زیست میں  یہ سائباں  اضافی ہے
کہانی میں  تیرے کردار تک تسلسل تھا
اور اس سے آگے کی سب داستاں  اضافی ہے
کیا خبر وہ بدن میں  ہو کہ نہ ہو
ڈر رہا ہوں  اسے جگانے سے
اب تیرے حسن کا خدا حافظ

سہ ماہی “قرطاس” گوجرانوالہ کا تازہ شمارہ

 
سہ ماہی “قرطاس” گوجرانوالہ کا تازہ شمارہ

 
zafar-iqbal.jpg
 
 
 
 
 

زیر نظر پرچہ نواں  شمارہ ہے جو سالنامے کے طور پر شائع کیا گیا ہے جو کم و بیش ساڑھے پانچ سو صفحات پر مشتمل ہے، اور جسے شاعر جان کاشمیری گزشتہ دو برسوں  سے باقاعدگی کے ساتھ چھاپ رہے ہیں ۔ مراکز سے دور ایسی کاوشیں  انتہائی قابل تعریف ہیں ۔ بیشک اکثر جریدے ایڈیٹر حضرات اپنی ہی پروجیکشن کے لئے نکالتے ہیں ، لیکن اگر ایسا ہو بھی تو اس سے بہت سے دوسرے ادباء شعرا کی گنجائش ساتھ ساتھ نکلتی رہتی ہے۔ جان کاشمیری ہمارے سینئر شعراء میں  شمار ہوتے ہیں  اور اگر ان کا چلن یہی رہا تو امید ہے کہ وہ بہت جلد گوجرانوالہ مکتب فکر کی بھی بنیاد رکھتے نظر آتے ہیں ۔ نیز اس پرچے کی صحت مندانہ صحافت سے اندازہ ہوتا ہے کہ گوجرانوالہ جہاں  ایک بڑا صنعتی مرکز ہے وہاں  ادب کے میدان میں  بھی پیچھے نہیں  ہے۔
پچھلے چند برسوں  میں  متعدد معیاری رسائل کا اضافہ ہوا ہے اور کچھ بند ہوئے ہیں ۔ ہمارے دوست اور مختصر نظم کے بہت عمدہ شاعر نصیر احمد ناصر معاملات دل میں  کچھ ایسے الجھے کہ “تسطیر” کو بند کرتے ہی بنی حالانکہ اس نے معیاری ادبی رسائل میں  اپنا ایک مقام اور شناخت بنالی تھی۔ لیکن اسی نواح سے ہمارے ایک اور شاعر دوست علی محمد فرشی نے “سمبل” کے نام سے ایک ضخیم اور خوبصورت پرچہ نکال کر سب کو حیران کر دیا اور “تسطیر” کی کمی پوری کر دی۔ ایڈیٹر اگر خود بھی کسی صنف ادب میں  طبع آزمائی کرتا ہو تو ادیب برادری کے ساتھ اس کا تعلق پہلے ہی سے استوار رہتا ہے اور معیاری تخلیقات حاصل کرنے کے لئے اسے کچھ زیادہ دقت پیش نہیں  آتی۔ زیادہ تر مدیر حضرات تو اپنی جان ہی پر کھیلتے ہیں  اور پانچ سات ایشو نکال کر اور تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں  جبکہ کچھ شمارے ایڈیٹر کے بیمار پڑ جانے یا انتقال کر جانے کے سبب بند ہو جاتے ہیں ۔ “تسطیر” کا ذکر اوپر آ چکا ہے۔ اس کی دوسری مثال مشہور ممتاز جریدے “فنون” کی ہے جو احمد ندیم قاسمی صاحب کی رحلت کے باعث کم و بیش بندش ہی کی صورت حال سے دو چار ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق “فنون” کا سارا حساب کتاب منصورہ احمد کے پاس تھا، جنہیں  پوچھا گیا تو انہوں  نے بتایا کہ “فنون” تو پہلے ہی خسارے میں  جا رہا تھا، حساب کتاب کیسا؟ تیسری مثال معروف رسالے “اوراق” کی ہے جو “فنون” ہی کے ہم قدم چلا آ رہا تھا لیکن ڈاکٹر وزیر کی مسلسل علالت اور پیرانہ سالی کے باعث سست روی کا شکار ہو کر سال میں  بمشکل ایک شمارہ چھپ جاتا ہے جو بھی بہت غنیمت ہے۔
حصہ مضامین میں  ڈاکٹر وزیر آغا، ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر انور سدید اور ڈاکٹر ضیاء الحسن سمیت بہت سے وقیع نام شامل ہیں  اور اس مختصر کالم میں  ان مضامین کا فرداً فرداً تذکرہ ناممکن ہے جبکہ اس شمارے کی خصوصیت اظہر جاوید میر ماہنامہ “تخلیق” لاہور کا گوشہ ہے جو ان کی شاعری سمیت نثری و ادبی خدمات کا تفصیلی مطالعہ پیش کرتا ہے جسے صاحب موصوف کی مختلف شخصیتوں  کے ساتھ اتروائی گئی متعدد تصاویر سے مزین کیا گیا ہے اور جس کے لئے آرٹ پیپر کا خصوصی استعمال کیا گیا ہے۔ اظہر جاوید خاموشی اور خوداری سے اردو ادب کی جو خدمت سالہا سال سے کر رہے ہیں  یہ گوشہ ان کی مذکورہ کاوشوں  کے مناسب اعتراف کی حیثیت رکھتا ہے جس میں  متعدد خواتین و حضرات نے نظم و نثر میں  اپنا اپنا خراج تحسین ادا کیا ہے۔
افسانوں  کے علاوہ حصہ نثر میں  خالد فتح محمد نے وزیر آغا کی مشہور نظم “بارہواں  کھلاڑی” کا تجزیہ پیش کیا ہے جبکہ تراجم کا حصہ بھی برقرار ہے۔ شعرائے کرام کی فہرست حسب توقع بہت طویل ہے جو محسن احسان سے لے کر افتخار عارف اور احمد صغیر صدیقی تک پھیلی ہوئی ہے یہ صرف غزل گو حضرات ہیں  جبکہ نظموں  کی اشاعت میں  بھی کنجوسی سے کام نہیں  لیا گیا۔ حصہ غزل میں  سے قارئین کی تفنن طبع کے لئے کچھ اشعار
یہ دشواری تو آسانی کا خمیازہ ہے، ورنہ
بہت ہی سہل تھا ہم کو بہت دشوار ہونا
حرف تردید سے پڑ سکتے ہیں  سو طرح کے پیچ
سادہ ایسے بھی نہیں  ہیں  کہ وضاحت کریں  ہم
دن نکلنے کو ہے، چہروں  پہ سجا لیں  دنیا
صبح سے پہلے ہر اک خواب کو رخصت کریں  ہم
(افتخار عارف)
کہاں  گئے وہ لہجے دل میں  پھول کھلانے والے
آنکھیں  دیکھ کے خوابوں  کی تعبیر بتانے والے
کسی تماشے میں  رہتے تو کب کے گم ہو جاتے
اک گوشے میں  رہ کر اپنا آپ بچانے والے
ایک بے یقیں  لہجہ خوف سے لرزتا تھا
اک چھپی ہوئی حیرت حیرتوں  سے باہر تھی
(عزم بہزاد)
کوئی غم ہے مری خوشیوں  پہ نظر ہے جس کی
کوئی دریا مرے شہروں  کے پتے پوچھتا ہے
کسی صورت نہیں  تھا سر جھکا دینے پہ تیار
شجر کو دیر تک طوفان میں  رہنا نہیں  تھا
(احمد صغیر صدیقی)
میں  اگلی بار تجھے ساتھ لے کر جاؤں  گا
مجھے ابھی تو کہیں  اور ہو کے جانا ہے
یہ لوگ مجھ سے ترا بار بار پوچھتے ہیں
مجھے بتا تو سہی ان کو کیا بتانا ہے
(رانا سعید دوشی)
پہلے یہ منظر نظر آتا تھا مجھ کو دور سے
اب میں  خود موجود ہوں  منہ زور طغیانی کے بیچ
(عاطف کمال رانا)
تجھے یہ دستکیں  دینے کا شوق کب سے ہوا
ہمارا در تو تجھے دیکھ کر کھٹکتا ہے
(ساگر احمد)
جان کاشمیری کو اپنے پاس پڑوس کے نئے اور عمدہ شعراء شاہین عباس، نوید رضا اور اظہر عباس وغیرہ کا تعاون بھی حاصل کرنا چاہئے اس سالنامے کی قیمت صرف سو روپے ہے اور جان کاشمیری اس کاوش پر مبارکباد کے مستحق ہیں ۔

محمد حمید شاہد کا ناول “مٹی آدم کھاتی ہے”

 
 
محمد حمید شاہد کا ناول “مٹی آدم کھاتی ہے”

 
zafar-iqbal.jpg
 
 
 
 
 

پچھلے دنوں  محمد شاہد حمید کا افسانہ “برشور” پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں  کردار سازی کا ہنر دیکھتے ہوئے مجھے منٹو یاد آ گیا کہ یہ کام اس سے خاص ہو کر رہ گیا تھا، اور، آپ کو کوئی تحریر پڑھ کر منٹو یاد آجائے تو بلاشبہ یہ کریڈٹ کی بات ہے۔ میری بدقسمتی یا خوش قسمتی یہ ہے کہ فکشن میں  زیادہ شوق سے نہیں  پڑھتا۔ ناول تو شاید ایک آدھ ہی میں  پڑھ سکا ہوں  گا کچھ تو درمیان ہی میں  چھوڑنا پڑے۔ مثلاً “آگ کا دریا” بڑے شوق سے شروع کیا اور تقریباً نصف پوری محویت سے پڑھ گیا، لیکن جب گوتم کی کہانی ختم ہو گئی اور جدید عہد شروع ہوا تو یہ کچھ پہلے بھی کافی حد تک نظر سے گزر چکا تھا۔ اس لئے آگے نہ جا سکا حالانکہ اسے برصغیر کا سب سے بڑا یا بہت بڑا ناول قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح عبداللہ حسین کا مشہور و معروف ناول “اداس نسلیں ” بھی میں  نے کہیں  بیچ ہی میں  چھوڑ دیا تھا۔ اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں  کہ فکشن کے معاملے میں  میرا ہاتھ کس قدر تنگ ہے۔ البتہ افسانے کی بات اور ہے کہ یہ دس پندرہ منٹ میں  ہی نمٹ جاتا ہے اور آپ فارغ۔ جبکہ انتظار حسین کا ناول “آگے سمندر ہے” واحد تصنیف ہے جسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسے میں  پورا پڑھ گیا۔ خاص وجہ شاید یہ بھی ہو کہ اس میں  حسب معمول عمدہ نثر کا جادو جاگ رہا ہے کہ انتظار حسین تو اس لحاظ سے واقعی جادو گر ہے، ہاں  یاد آیا، مستنصر حسین تارڑ کا ناول “بہاؤ” بھی ان خوش قسمت ادب پاروں  میں  شامل ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ اور ناول بھی اس فہرست میں  ہوں  جو مجھے یاد نہیں  آ رہے۔
اب آپ سوال کر سکتے ہیں  کہ اگر حالات یہ ہیں  تو میں  اس پر لکھنے کیوں  بیٹھ جاتا ہوں ۔ تو، اس کا جواب ایک اور سوال میں  موجود ہے کہ میں  کالم کیوں  لکھتا ہوں ؟ اگر آپ کی تسلی ہو گئی ہو تو اب ہمیں  آگے چلنا اور شاہد حمید کے ناول پر بھی بات کرنی چاہئے اگرچہ کالم تنقید کی ذیل میں  نہیں  آتا لیکن تنقید واحد صنف ادب ہے، اگر اسے ادب کہا جا سکتا ہو، جس میں  طبع آزمائی کے لئے کسی کوالیفکیشن کا ہونا ضروری نہیں  ہوتا۔ یعنی اگر آپ واجبی اردو جانتے ہیں  اور جس صنف ادب پر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں ، اس کی واجبی شد بدھ آپ کو حاصل ہے تو آپ بڑی آسانی سے نقاد کہلا سکتے ہیں ۔ اس لئے کہ اب وہ لوگ چکھنے کے لئے بھی دستیاب نہیں  جو تنقید کو تخلیق بنا دینے کا ہنر جانتے تھے۔ کیونکہ ہر صنف ادب کی طرح تنقید بھی، میں  سمجھتا ہوں ، کہ کم از کم قابل مطالعہ ضرور ہو، جو کہ یہ اکثر اوقات نہیں  ہوتی۔ بیشک اسے فکشن کی طرح نہیں  پڑھا جانا چاہئے۔
پروپیگنڈے کا جدید روسی نظریہ یہ ہے کہ اگر مثلاً کسی فلم میں ، چلتے چلتے، کوئی اشارہ سا ہو جائے تو وہ پوری فلم سے زیادہ کام کر جاتا ہے۔ اسی طرح اس ناول کا ایک کردار ہے، جو نہایت مختصر ہونے کے باوجود ذہن میں  دیر تک جگمگاتا رہتا ہے۔ میری ذاتی رائے میں  ناول کے اندر کرداروں  کی تعداد جتنی کم ہو گی، وہ اتنا ہی زیادہ اثر انگیز ثابت ہو گا۔ کیونکہ کردار اگر زیادہ بھی ہوں  تو ایسے کہ قاری کے ذہن میں  محفوظ ہوتے جائیں ۔ یہ نہ ہو کہ کسی کردار سے مانوس ہونے کے لئے آپ کو ناول کے کچھ حصے دوبارہ پڑھنا پڑیں ۔ اکثر اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ مرکزی کردار ہی اتنا جاندار ہوتا ہے کہ باقی بہت سے کردار ثانوی حیثیت اختیار کرتے ہوئے اپنا نقش قاری کے ذہن میں  زیادہ دیر تک کے لئے قائم نہیں  کر پاتے۔
میرے ساتھ ایک خرابی یہ بھی ہے کہ میں  زیر نظر تصنیف کا تجزیہ نہیں  کرتا۔ شاید یہ میرے بس کا روگ بھی نہیں  ہوتا کیونکہ میں  تو شاعری کا تجزیہ بھی بالعموم نہیں  کرتا کیونکہ میرے نزدیک اس چیر پھاڑ سے شاعری کا سارا حسن ہی ماند پڑ جاتا ہے، جبکہ میرے خیال میں  شاعری سمجھنے کے لئے کم، اور لطف اندوز ہونے کے لئے زیادہ ہوتی ہے۔ میں  تو اپنے کالم میں  یہ اطلاع ہی دیتا ہوں  کہ فلاں  کتاب چھپ گئی ہے، اور مجھے کیسی لگی ہے۔ چنانچہ اس کالم کی افادیت بیشک اتنی سی ہی کیوں  نہ ہو کہ محمد شاہد حمید کے شائق بہت سے پڑھنے والوں  کو علم ہو جائے گا کہ ناول شائع ہو گیا ہے اور، ایک اخباری کالم سے اس سے زیادہ کی توقع بھی نہیں  کرنی چاہئے۔
یہ ناول اس صنف کی عام ٹیکنیک سے ہٹ کر لکھا گیا ہے۔ یعنی یہ صاف سیدھا بیان نہیں  ہے اور اس میں  شاعری کی طرح کچھ پیچیدگیاں  جان بوجھ کر بھی پیدا کی گئی ہیں ۔ نہ صرف یہ بلکہ واقعات کا بیان اس طرح سے ہے کہ اپنے وقوع کے حساب سے آگے پیچھے کر دیئے گئے ہیں ، اور اس لئے قاری کے لئے ذہنی مشقت کا بھی سامان پیدا کیا گیا ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان اس کے پس منظر میں  نہ صرف موجود ہے بلکہ اس کا اختتامیہ بھی بنتا ہے۔ چنانچہ اس میں  تشدد کا بیان بھی ہے، اور، ڈرامہ بھی۔ شاعری میں  تازگی لانے کے لئے جہاں  بہت سے پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں  وہاں  فکشن کو مرغوب اور دلچسپ بنانے کے لئے بھی بہت سے طریقے آزمائے جاتے ہیں  جن میں  سے ایک اس ناول میں  بروئے کار لایا گیا ہے۔
اس خصوصی ٹیکنیک کے باوجود ناول میں  قاری کی دلچسپی آخر تک برقرار رہتی ہے جو کہ کامیاب فکشن کے ایک بنیادی وصف اور شرط کی حیثیت رکھتی ہے جبکہ اس کے کردار بھی قاری کو متوجہ کئے رکھتے ہیں ۔ زیادہ تر افسانے اور، ناول بھی، چلتے چلتے اپنے منطقی انجام کو خود ہی پہنچتے ہیں  اور مصنف کو اس کے لئے کوئی خاص تردد نہیں  کرنا پڑتا، نہ ہی وہ یہ طے کر کے افسانہ یا ناول شروع کرتا ہے کہ وہ اسے فلاں  انجام سے دو چار کرے گا۔ محمد حمید شاہد کے تین افسانوی مجموعوں  کے بعد ان کی طرف سے یہ پہلا ناول آیا ہے جس کا پس سرورق شمس الرحمان فاروقی کے قلم سے ہے اور کوئی سوا سو صفحات کی ضخامت کو محیط یہ ناول”اکادمی بازیافت” کراچی نے پوری آب و تاب سے شائع کیا ہے جس کی قیمت 150 روپے رکھی گئی ہے۔ کتاب آدمی کے نام ہے جو مٹی کی محبت میں  دیوانہ ہو چکا ہے۔ مصنف کی دیگر تصانیف معہ زیر طبع کتابوں  کی فہرست کے علاوہ موصوف پر اب تک جو کام ہو چکا ہے اور جو اعزازات مصنف نے اب تک حاصل کئے ہیں ، ان کا تعارف بھی شامل ہے۔

اب ایک بسنتی غزل۔

اب ایک بسنتی غزل۔
طلسم ہوش ربا میں  پتنگ اڑتی ہے
کسی عقب کی ہوا میں  پتنگ اڑتی ہے
چڑھے ہیں  کاٹنے والوں  پہ لوٹنے والے
اسی ہجوم بلا میں  پتنگ اڑتی ہے
پتنگ اڑانے سے کیا منع کر سکے زاہد
کہ اس کی اپنی عبا میں  پتنگ اڑتی ہے
کہیں  چھتوں  پہ بپا ہے بسنت کا تہوار
کہیں  پہ تنگئی جا میں  پتنگ اُڑتی ہے
کہیں  فلک پہ سرکتی ہے سرسراتی ہوئی
کہیں  دلوں  کی فضا میں  پتنگ اڑتی ہے
کھلا ہے اس پہ کچھ ایسے بہار کا موسم
ہے رخ پہ رنگ، قبا میں  پتنگ اڑتی ہے
یہ خواب ہے کہ الجھتا ہے اور خوابوں  سے
یہ چاند ہے کہ خلا میں  پتنگ اُڑتی ہے
امید وصل میں  سو جائیں  ہم کبھی تو، ظفر
ہماری خواب سرا میں  پتنگ اڑتی ہے

اور اب يہ تازہ ترين۔

اور اب يہ تازہ ترين۔
بيٹھے رہے اور بن نہ سکی بات ہماری
کيا کيجئے اتنی ہی تھی اوقات ہماری
کچھ اپنے سوا ہم کو دکھائی نہيں  ديتا
رہتی ہے فقط پيش نظر ذات ہماری
دشنام ہے ، رسوائی ہے اور طعنہ اغيار
ہوتی ہے تو اضع يہی دن رات ہماری
خوش فہم ہوں  جتنے بھی زيادہ ،مگر اے کاش
تصديق تو کرتے کبھی حالات ہماری
ممکن ہی نہيں  اپنے مقدر کا بدلنا
جب تک کہ بدلتی نہيں  عادات ہماری
سو جوتے  بھی کھانا پڑے ، سو پياز بھی ہم کو
اکثر رہی ايسی ہی مدارات ہماری
اب ان کے اشارات کی تکميل ہے لازم
جن کے لئے ہونا تھيں  ہدايات  ہماری
دشمن کو يہ مژدہ ہو کہ زحمت نہ اٹھائے
خود اپنے مخالف ہيں  مہمات ہماری
اوروں  سے چلن کوئی الگ ہے ظفر ، اپنا
مشہور ہیں  عالم میں  حکایات ہماری

قاضی صاحب کے لئے ایک کالم

 
قاضی صاحب کے لئے ایک کالم

 
zafar-iqbal.jpg
 
 
 
 
 

شعر و شاعری کا شوق کم و بیش ہر شخص کو ہوتا ہے بلکہ حق تو یہ ہے کہ ہر تھوڑا بہت پڑھا لکھا آدمی بھی عمر کے کسی حصے ، خصوصی زمانہ طالب علمی میں  خواہ وہ کتنے بھی مختصر عرصے کيلئے کیوں  نہ ہو، شاعر ہوتا ہے یا کم از کم اپنے آپ کو ایک شاعرانہ فضا میں  محسوس ضرور کرتا ہے زیادہ تر حضرات تو تخلص اختیار کرنے تک ہی محدود رہتے ہیں  جو زیادہ تر زمانہ طالب علمی میں  فرداً فرداً طلباء کو ان کے کسی صاحب ذوق ٹیچر نے عطاء کر دیا ہوتا ہے مثلاًتم غلام رسول آزاد ہو، تم صابر علی کمال ہو وغیرہ وغیرہ جبکہ بعض حضرات تمام عمر نہیں  تو ایک مدت تک بے وزن شاعر ی کرتے رہتے ہیں  جو زیادہ تر وہ اپنے یا اپنے دوستوں  تک ہی محدود رکھتے ہیں  جو اس حد تک خود بھی شاعر ہوتے ہیں  ۔
 نثر لکھنے والے، خاص طور پر صحافی حضرات یا اخبارات کے غیر صحافی مضمون نویس حضرات کی اکثریت اپنی تحریروں  کو برمحل اشعار سے مزین کرنا ضروری سمجھتی ہے البتہ اکثر اوقات شعر غلط نقل کیا گیا ہوتا ہے یا اس کی ترتیب اس طرح سے رکھی گئی ہوتی ہے کہ شعر یا مصرع خارج از وزن ہو جاتا ہے لیکن چونکہ ان کا اصل مسئلہ شاعری نہیں ہوتا اس لئے وہ شعر کو صحیح پڑھنے یا درست طور پر نقل کرنے میں  بھی کوئی خاص ترددروا نہیں  رکھتے حتیٰ کہ بعض مضامین کے عنوان تک مصرعوں  کی صورت میں  ہوتے ہیں  جن میں  مصرع  کا حلیہ بگاڑ کر ہی پیش کیا گیا ہوتا ہے اور جانکاری رکھنے والے حضرات بھی یا تو اس کا نوٹس نہیں  لیتے یا خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتے ہیں  ۔
 یہ تو صورت احوال ہے ایسے زعماء کی جو شاعری کا درک نہیں  رکھتے یا اس کی باریکیوں  کی پروا نہیں  کرتے افسوس تو ان حضرات پر آتا ہے جو خود صاحب کتاب شاعر ہونے کے باوجود اس سلسلے میں  لاپروائی سے کام لیتے ہیں  اب کافی عرصے سے اخبارات میں  جہاں  کالموں  کی بھر مار نظر آتی ہے وہاں  پر اخبار میں  قطعے کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے اور بعض شعراء کی خدمات مستقل طور پر حاصل کی جاتی ہیں  ۔ہمارے ایک سینئر دوست جو ایک کثیر الاشاعت قومی روزنامے میں  عرصہ دراز سے قطعہ نویسی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں  اور متعدد شعری مجموعوں  کے مصنف بھی ہیں  اکثر اوقات ان کے قطعے کا کوئی نہ کوئی مصرع خارج از وزن ہوتا ہے شاید وہ سمجھتے ہوں  کہ قطعہ تو بہر حال قطعہ ہی ہوتا ہے اس میں  اتنی باریکیاں  چھانٹنے کی کیا ضرورت ہے حالانکہ ہزاروں  بلکہ لاکھوں  کی تعداد میں  شائع ہونے والے اخبار کو اس زیادتی کا مرتکب نہیں  ہونا چاہیے مشاعرے میں  تو بے وزن مصرع یا شعر پکڑا جاتا ہے لیکن ایڈیٹر یا مالک اخبار کيلئے شعر شناس ہونا ضروری نہیں  ہوتا نہ ہی ہر ظفر علی خان یا شورس کا شمیری ہوتا ہے کئی برس پہلے جب میں  اسی اخبارمیں  لکھتا تھا تو میں  نے اس برزگ قطعہ نویس کا نوٹس لیتے ہوئے ایک تحریر اپنے کالم کے بجائے ڈپٹی ایڈیٹر کو دی تو انہوں  نے اسے چھاپنے سے معذرت کردی تھی شاید ان کی مصلحت کا تقاضا بھی یہی تھا میرا خیال ہے کہ صاحب کے ساقط الوزن اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے پوری کتاب تحریر کی جا سکتی ہے اور یہ بھی  کہ ایک شاعر کو اس صورت حال پر آزردہ ہونے کا پورا پورا حق حاصل ہے ۔
 اس طولانی تمہید کا مقصد اس کے برعکس ہی سمجھ لیجئے کہ آج مورخہ 20فروری کے اخبار میں  ہمارے دیرینہ کرم فرما محترم قاضی حسین احمد صاحب کا ایک مضمون بعنون “عالم اسلام کے خلاف ایک خطرناک منصوبہ ” شائع ہوا جس میں  صاحب موصوف نے علامہ اقبال کا یہ فارسی قطعہ نقل کیا ہے ۔
 شبے پیش خدا بگر بستم زار
 مسلمانان چرا زارند و خوارند
 ندا آدو نمی دانی کہ ایں قوم
 دلے دارندو محبوبے ندار ند
 جو حالات اوپر بیان کئے گئے ہیں  ان کے پیش نظر ایک سیاسی لیڈر سے ہرگز یہ توقع نہیں  کی جا سکتی کہ وہ قاعدہ اور بر محل قطعہ اتنی صحت کے ساتھ پیش کریں  گے اسی سے یہ بات بھی ذہن میں  آئی کہ قاضی صاحب اگر شعر وادب کا ایسا اعلیٰ ذوق رکھتے ہیں  تو کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ سیاست کی  وادی پرخار میں  کشٹ اٹھانے کے بجائے وہ کوئی ادبی کیرئیر اختیار کرتے جس پر وہ اپنی آزادانہ مرضی کوبھی بروئے کار لا سکتے تھے چہ جائے کہ اب انہیں  ہر مسئلے پر اپنے رفیق کار مولانا فضل الرحمان صاحب کا نہ صرف مرہون منت ہونا پڑتا ہے بلکہ قاضی صاحب کوئی آزادنہ قدم اٹھانا بھی چاہتے ہیں  تو مولانا انہیں  ایک دیوار کی طرح سامنے کھڑے نظر آتے ہیں  اور لوگ حضرت مولانا کے ساتھ ساتھ قاضی صاحب قبلہ کو بھی شک و شبہ کی نظروں  سے دیکھنے لگتے ہیں  بہرحال یہ تازہ غزل قاضی صاحب ہی کے حسن ذوق کی نذر ہے …
انکار ہمارا ہے نہ اقرار ہمارا 
ہونا ہی یہاں  اب تو ہے بے کار ہمارا
فرمان ہی اپنے کی نہیں  ہے کوئی توقیر
اونچا تو بہت ہے یہاں  دربار ہمارا
زخموں  سے گزرتے ہوئے جھونکے سحر و شام
رکھتے ہیں  یہ گھر خوب ہوا دار ہمارا
لیتا ہے کوئی چیز نہ دیتا ہے کوئی دام
ٹھنڈا ہے لگایا ہوا بازار ہمارا 
ہم دوسروں  کے کام بھلا آئیں  گے کیونکر
خود سے ہی نہیں  کوئی سرو کار ہمارا 
لاچار سے بیٹھے ہیں  اس امید پہ کب سے 
ہو جائے کوئی آکے مددگار ہمارا 
ٹھہرائے ہوئے قافلے کو دھوپ میں  اور خود
سوتا ہے کسی سائے میں  سالار ہمارا 
اب پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں  باقی
احوال ہے ایسا ہی لگاتار ہمارا 
دشمن کے ظفر، دوست ہیں  اوردوست کے دشمن
اب آن کے پختہ ہوا کردار ہمارا 

“نہ قفس نہ آشيانہ” شبنم شکيل کے افسانے

 
“نہ قفس نہ آشيانہ” شبنم شکيل کے افسانے

 
zafar-iqbal.jpg
 
 
 
 
 

راہ چلتے دو مسافراکٹھا ہوئے تو ايک نے دوسرے سے پوچھا “تم نے کبھی بھوت ديکھا ہے ؟”
“نہيں، تم نے کبھی ديکھا  ہے ؟” دوسرے نے پوچھا
“ہاں ” يہ کہہ کر وہ غائب ہو گيا !
اسے دنيا کا مختصر ترين افسانہ قرار ديا گيا ہے ويسے افسانے کو شارٹ سٹوری يا مختصر افسانہ ہی کہا جاتا ہے کيونکہ اگر وہ اس مدار سے نکل جائے تو طويل مختصر افسانہ ،يا  اگر بات اس سے بھی بڑھ جائے تو ناول کہلاتا ہے ہم نے بھوت تو کبھی نہيں ديکھا ليکن شبنم شکيل کے افسانوں کا مجموعہ” نہ قفس نہ آشيانہ”  ضرور ديکھا ہے اور ہميں يقين ہے  کہ وہ بھوت نہيں ہے ورنہ کب کا غائب  ہو چکا ہوتا  کيونکہ يہ ميرے  پاس کافی عرصے سے پڑا ہے اور اسی طرح سے موجود ہے البتہ اس کی باری ذرا دير سے آئی ہے ليکن شايد اسے دير آید درست آید بھی نہ کہا جاسکے کيونکہ ايماندار انہ خدشہ يہی ہے کہ يا تو شبنم نے اتنا انتظار کرنے کے بعد مجھ پر لعنت بھيج دی ہوگی يا اس کا خون کھولنا شروع ہو چکا ہوگا تاہم ناراض خواتين راضی عورتوں سے زيادہ اچھی لگتی ہيں ۔
اسی طرح پچھلے دنوں ميں نے ثمينہ راجہ کے نئے شعری مجموعے پر کالم بنايا تو اس نے پڑھ کر مجھے فون کيا اور باقاعدہ  ڈانٹ پلائی کہ آپ نے ميری نظموں پر کوئی اظہار خيال ہی نہيں کيا اور يہ کہ اگر آپ نے ميری نظم “عشقيں” پڑھ لی ہوتی تو آپ اس پر اظہار خيال کئے بغير نہ رہ سکتے ميں کھسيانا تو ضرور ہو گيا کہ ميری چوری پکڑی گئی تھی تاہم شايد ميں ياسمين حميد  والے کالم ميں کہہ چکا ہوں کہ ميں کتاب اتنی ہی پڑھتا ہوں جتنی کالم لکھنے کے لئے کافی ہو کيونکہ کالم ہوتا ہے کوئی باقاعدہ تبصرہ نہيں ہوتا چنانچہ ميں نے اس کا ادھار چکانے کے لئے کتاب کو ادھر ادھر کافی ڈھونڈا ليکن ملی نہيں۔ شايد اس کا کوئی مداح اٹھا ہی لے گيا ہو پھر بھی اميد ہے کہ کتاب کہيں نہ کہيں سے مل ہی جائے گی اور اس ميں وہ نظم بھی پڑھ گزروں گا واضح رہے کہ ميں نے ياسمين حميد کی نظموں ہی کا ذکر کيا تھا  اور اس  کی غزلوں پر  پھر کبھی بات  کر نے کا کہہ  کر وقتی  طور پر سرخرو ہو گيا تھا۔
 شبنم کی يہ کتاب  بھی کوئی اٹھالے گيا تھا جو مجھے دوبارہ منگوانا پڑی لوگ دراصل بغير اجازت کے کتاب اٹھالے جانے بلکہ چرا لے جانے کو بھی چوری نہيں سمجھتے ايک صاحب لکھتے ہيں اکثر لوگ کتاب ادھار لے جا کر واپس نہيں کرتے ميری لائبريری ايسی کتابوں سے بھری پڑی ہے بلکہ بعض کتابيں تو ايسی ہوتی ہيں کہ آپ کی زبردست خواہش ہوتی ہے کہ کوئی انہيں اٹھالے جائے يا چرالے جبکہ آپ آنے جانے والوں کو اس کا موقع بھی فراہم کرتے ہيں يا خشوع وخضوع سے دست بہ دعا ہو جاتے ہيں کہ کوئی ہاتھ کی صفائی دکھا ہی جائے تو کتاب سے  گلو خلاصی ہو کہ آخر آپ آنے جانے والوں کو زيادہ سے زيادہ کتنی کتابيں تحفے  کے طور پر دے سکتے ہيں ؟
حال ہی ميں متعدد شاعرات نے افسانہ نويسی کی وادی ميں قدم رکھا ہے  جن ميں شبنم شکيل کے علاوہ بشریٰ اعجاز کا نام بھی ذہن ميں آرہا ہے جبکہ بشریٰ تو پنجابی زبان ميں بھی شعر کہتی ہيں اس لئے ظاہر ہے کہ انہوں نے پنجابی ميں بھی کہانياں لکھی ہوں گی شعر کہنے والوں سے بجا طور پر يہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ عمدہ نثر ہی لکھيں گے اور يہ توقع اکثر اوقات  پوری بھی ہو تی ہے  اس کتاب ميں کل گيارہ افسانے شامل ہيں اور لطيفہ يہ ہے کہ اپنی کم فرصتی کے باوجود ميں يہ پوری کتاب پڑھ گيا ہوں حالانکہ اس سے بھی  کوئی خاص فرق نہيں پڑتا  کيو نکہ  فکشن پڑھنے  کے معاملے  ميں  خاصا تنگ دست واقع  ہوا يوں جبکہ اس پر کوئی معقول رائے ظاہر کر نا تو ميرے لئے اور بھی مشکل ہے لہٰذا اس کتاب کے بارے ميں بھی ميری رائے فکشن کے ايک باقاعدہ قاری ہی کی ہو سکتی ہے ۔
جس طرح شعراء بلکہ نوجوان شعرا بالخصوص  اپنی عمدہ غزل يا دوچار بہتر غزليں آغاز ميں رکھ ديتے ہيں تاکہ پہلا تاثر قاری پر ذرا بہتر طور پر جم سکے اسی طرح شبنم نے بھی يہ چالاکی ضرور روا رکھی ہے کہ اپنی بہترين کہانی بعنوان ايک سيارے کے لوگ” اس نے پہلے نمبر پر رکھی ہے جو بلاشبہ اس کی بہترين کہانی ہے بلکہ  اگر ايک قاری کی رائے کوئی اعتبار رکھتی ہو تو اس کہانی کو دنيا کی بہترين کہانيوں ميں رکھا جاسکتا ہے کيونکہ انسان کے اندر، وہ جيسا بھی ہو، جونيکی، خير اور ہمدردی کا جذبہ قدرتی طور پر  موجود ہوتا ہے اس کی عکاسی نہايت خوبصورت طريقے اور ہنر مندی سے کی گئی ہے “وہ دو گھنٹے” بھی ايک عمدہ افسانہ ہے جس کے کريکٹر زرينہ سے سعادت حسين منٹو کی کردار سازی ياد آتی ہے جو کہ اس نے اسی طرح کے لاتعداد اور زبردست کردار اردو افسانے کو دئيے ہيں دراصل ہوتا يہ ہے  کہ جب ايک غير معمولی شاعر يا اديب ظہور پذير ہوتا ہے تو وہ دوسرے شاعروں يا اديبوں کا راستہ ايک طرح سے بند کر ديتا ہے اور منٹو نے بھی يہی کچھ کيا تھا۔
“سودا” ايک اور عمدہ افسانہ ہے بلکہ اگر دوسرے افسانے غير معمولی نہيں تو کسی لحاظ سے معمولی بھی نہيں ہيں اصل خوشی کی بات تو يہ ہے کہ تجرید اورعلالت کے رطب ویابس کو جھيلتی ہوئی کہانی اب اپنے اصل کی طرف لوٹ رہی ہے ورنہ تو افسانہ ايک بجھارت اورچیستاں ميں تبديل  ہو کر رہ گيا تھا بيشک شعر وادب کا صحيح حسن ابہام ہی ميں پوشيدہ ہے ليکن شاعری کی طرح افسانے کی شرط بھی يہ ہے کہ وہ عوام اور خواص، دونوں کی سطح پر اپيل کرتا ہو جبکہ قاری کا کم ازکم تقاضا، جو اس کا حق بھی ہے يہ ہے کہ افسانہ قابل مطالعہ ضرور ہو اور ايک دلچسپ  ريڈنگ ضرور ليا کرے يہ نہيں کہ آدمی افسانہ پڑھنا شروع کرے اور سرپکڑ کر بيٹھ جائے حال  ہی ميں “دنيا زاد” کراچی ميں جناب خالد مسعود خان کے تين افسانے پڑھنے بلکہ ايک مشقت سے گزرنے کا اتفاق ہوا اور اسی نتيجے پر پہنچا  کہ اگر موصوف کے پاس کہنے کو کچھ نہيں تھا تو اتنے صفحے سياہ کر نے کی کيا ضرورت تھی ہوسکتا ہے کہ فکشن کا کوئی نقاد اٹھے اور انہيں شاہکار افسانے قرار دے  دے کيونکہ ميں تو اپنے حدود وقيود کا اظہار پہلے  ہی کر چکا ہوں۔
چنانچہ ان افسانوں کی کاميابی يہی کيا کم ہے کہ يہ قاری کو ساتھ لے کر چلتے ہيں اور کہيں  اکتاہٹ کا احساس نہيں ہوتا اس مجموعے میں اور بھی قابل  ذکر افسانے ضرور موجود ہيں ليکن عرض کيا ناکہ يہ کوئی تبصرہ يا تجزيہ نہیںہے  اور مجھے يقين ہے کہ آپ اسے کالم ہی سمجھ کر پڑھ رہے ہيں کتاب کا انتساب شبنم کے مياں شکيل کے نام ہے جبکہ پس سرورق پر شبنم کی عمدہ تصوير اور ڈاکٹر سليم اختر کی تحسينی رائے درج ہے اسے سنگ ميل پبلی کيشنر لاہور نے نہايت عمدہ گيٹ  اپ اور ميک اپ ميں شائع کيا ہے اور کوئی سوا سو صفحات پر مشتمل  تحفہ کتاب 180روپے ميں دستياب ہے خدا کرے شاعری کے ساتھ ساتھ شبنم شکيل يہ سلسلہ بھی جاری رکھے ۔

منیر نیازی کے حوالے سے کچھ مزید

 
منیر نیازی کے حوالے سے کچھ مزید

 
zafar-iqbal.jpg
 
 
 
 
 

ایک روسی شاعر کے بارے میں  منقول ہے کہ ایک دفعہ وہ ایک بہت بڑے  مجمع کے سامنے اپنی ایک طویل نظم سنارہا تھا کہ بیچ میں  کسی جگہ بھول گیا اور چپ ہو گیا لیکن کم و بیش تمام حاضرین نے یک زبان ہو کر وہ نظم جو انہیں  زبانی یاد تھی سنانا شروع کر دی اور اس وقت تک سناتے رہے جب تک وہ ختم نہیں  ہوگئی۔
منیر نیازی کی نظمیں  اورغزلیں  بھی اکثرسامعین اور ناظرین کو ازبرہوا کرتی تھیں ۔ منیر نیازی بھی سناتے سناتے اکثر بھول جاتے تو لوگ خود انہیں  یاد دلاتے بیشک یہی چیز کسی شاعر کی بڑائی کا واحد پیمانہ ہو سکتی ہے اور مقبول ہوجانا بھی کسی شاعر کو عارضی اور وقتی طور پر ہی سند عطا کرتا ہے لیکن لوگوں  کے دلوں  میں  کسی شاعر کا گھر کر جانا بھی کوئی معمولی بات نہیں  ہوتی کہ وہ شاعر کو اور کچھ نہیں  تو ایک امتیازی شان ضرورفراہم کرتی ہے منیر نیازی کی شخصیت اور ان کے حوالے سے ہمیں  اختلاف کرنے کا پورا حق حاصل ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے میرٹ کو بھی نظر انداز کرنے کا کوئی جواز نہیں  ۔ اس سلسلے میں  دوسری مثال احمدفراز کی ہے جس کی شائقین ادب میں  غیر معمولی مقبولیت سے صرف نظر نہیں  کیا جا سکتا بلکہ ایک زمانے تک تو اسے باقاعدہ ایک کریز کی بھی حیثیت حاصل رہی ہے ۔
 جہاں  تک آپسی اختلافات کا تعلق ہے تو ان کا معاملہ یوں  ہے کہ سب بہر طور زندگی تک ہی کے چونچلے ہیں  دولوگ جب تک زندہ ہوں  ان کی حیثیت دودروازوں  کی سی ہوتی ہے جس میں  سے پھول بھی جھڑتے ہیں  اور چاند ماری بھی ہوا کرتی ہے لیکن اگر ان میں  سے ایک اس دنیائے فانی سے سدھار جائے تو ایک دروازہ بند ہو جاتا ہے اور قدرتی طور پر چاند ماری کا سلسلہ بھی موقوف ہوجاتا ہے اور اگر نہیں ہوتا تو اسے ہوجانا چاہیے اس لئے بھی کہ دوسرا فریق اس چاند ماری کا جواب دینے کيلئے موجود نہیں  ہوتا اور وہ اپنے تمام تر اسلحے بارود سمیت منوں  مٹی کے نیچے پہنچ چکا ہوتا ہے ہمارے کچھ دوست ایسے ضرور ہوں  گے کہ مرحوم اپنی زندگی میں  یا تو انہیں  تسلیم نہیں  کرتے تھے یا ان کی بول چال ان کے ساتھ بند تھی بلکہ یہ بھی ہو سکتاہے کہ منیر نیازی نے ان کے بارے میں  کچھ ناروا کلمات بھی کہہ رکھے ہوں  ۔
ہماری روایات اور چلن تو یہ ہے کہ آدمی کوزندگی ایسے گزارنی چاہیے کہ اس کے مرنے کے بعد لوگ اچھے لفظوں سے یاد کریں  لیکن یہ کلیہ بالعموم عام لوگوں  کيلئے ہے جبکہ ایک بڑے شاعر پر اس کلیئے کا اطلاق اس لئے بھی نہیں  کیا جا سکتا کہ اس کا کام ہی ایسا ہوتا ہے کہ آپس میں  رقابت اور اعتراف و عدم اعتراف کی لہربھی ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے جو بالآخر افسوسناک حد تک راسخ بھی ہو کر رہتی ہے لیکن ایک جینوئن تخلیق کار کو اس ضمن میں  بھی بالعموم لائسنس ہی دیا جاتاہے جو خود لائسنس دینے والے کی بھی کشادہ ظرفی کا مظہر ہوتا ہے حالانکہ ایک اصیل شاعر کو جیسا کہ منیر نیازی  بہر حال تھا اس کی چند اں  ضرورت بھی نہیں  ہوتی بلکہ خود تلخیاں  فراموش کر دینے والے کی عزت میں  اس سے اضافہ ہوتاہے ویسے بھی یہ تقسیم اس طرح کی ہوتی ہے کہ ایک فر یق کی زندگی کی صف لپیٹے جانے کے بعداسے خود بخود ہی ختم  ہو جانا چاہیے عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی کے مرجانے کے بعد اس کے فن کا اعتراف اگر بنتا ہے تو اسے زندگی کے دوران جاری رہنے والی شکر رنجیوں  بلکہ مخاصمتوں  کے باوجود کر گزرنا چاہیے ۔
 منیر نیازی کا پلس پوائنٹ ہونے کے ساتھ  ساتھ یہ اس کا قصور بھی ہے کہ وہ ایسے ہم عصروں  سے اتنا بڑا کیوں  تھا کیونکہ اگر آپ واقعتا اتنے بڑے ہوں  بھی توآپ کا عصر اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت اور تسلیم کرنے پر تیار نہیں  ہوتا  المیہ یہ ہے کہ کم و بیش ہر شاعر اپنے آپ کو اپنے عہد کا سب سے بڑا شاعر سمجھتا ہے حالانکہ اکثر اوقات ایسا نہیں  ہوتا ہے لیکن اس کی مجبوری بھی ہے کیونکہ یہی احساس اسے اپنا سفر جاری رکھنے پر بھی اکساتا رہتا ہے چنانچہ اگر بدقسمتی سے کوئی بڑا یعنی اس سے بڑا شاعر نکل بھی آئے تو وہ اس کيلئے اس حد تک باعث پریشانی ہوتا ہے کہ یہ پریشانی رفتہ رفتہ باقاعدہ نفرت میں  تبدیل ہو جاتی ہے اور نہیں  تو کم از کم اسے یہ گمان ضرور ہوتا ہے کہ اس کے عہد میں  کوئی بڑاشاعر پیدا بھی کیونکر ہو سکتا ہے اور پھر خود اس  سے بھی بڑا یہ ایک تشویش انگیز بلکہ افسوسناک روش ہے کیونکہ بالآخر ہم سب نے مر جانا ہے کسی نے آگے اور کسی نے پیچھے کتنا آگے اور کتنا پیچھے اس کی خبر کسی کو نہیں  ہوتی معاف کردینا بہت اچھی بات لیکن ایک ستم ظریف کا کہنا یہ بھی ہے کہ معاف کر دینا بڑی بات ہے لیکن معاف نہ کرنا اس سے بڑی بات ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ دوست اس مقولے پر عمل پیرا ہوں  ۔
 منیر نیازی کا جنازہ اتنا بڑا تھا کہ گاڑیاں  کنٹرول کرنے کے لئے باقاعدہ ٹریفک پولیس کا انتظام کرنا پڑا وہ ایک جشن کا سماں  تھا اور شہر کا ہر چھوٹا بڑا ادیب اس میں  شامل دکھائی دیتا تھا میں  نے اجمل نیازی سے کہا کہ نہ صرف یہ تمہارا اور میرا ذاتی نقصان ہے بلکہ اس سارے ہجوم کا فرداً فرداً بھی ذاتی نقصان ہے اور ان سب لوگو ں  کو جن میں  شاید کوئی بھی اس کا رشتے دار نہیں  تھا اس کا میرٹ ہی قریب  و دور سے کھینچ کر لا یا تھا ورنہ ہمارے معاشرے میں  ایک آرٹسٹ کی جو قدرورمنزلت پائی جاتی ہے وہ اسی ایک بات سے ظاہر ہے کہ نور جہاں  جیسی بڑی فنکارہ جو اپنی زندگی میں  ملکہ ترنم کے خطاب سے سرفراز کی گئی کراچی میں  اس کے جنازے میں  بمشکل دو درجن افراد شریک ہو پائے تھے اور  یہ وہ نورجہاں  تھی جس کے پاؤں  کی مٹی لتا منگیشکر اپنی مانگ پر چھڑکتی تھی چنانچہ منیر نیازی جتنا جنازہ اگر میسر آسکتا تو اس موقعے پرکس کامرجانے کو جی نہ چاہتا ہوگا ؟
میرے اور منیر نیازی کے بھی آپس میں  اختلافات تھے اور ہم اپنے انٹرویوز اور تحریوں  میں  اس کے اظہار میں  بخل سے کام نہ لیتے تھے لیکن اس کے فن سے منحرف ہونے کا میں  تصور بھی نہیں  کرسکتا اور وہ اگر اپنے سوا کسی کو شاعر نہیں  سمجھتا تھا تو اس کا بھی اسے حق حاصل تھا اوراس صورت میں  بھی اس کے ہنر سے منحرف ہونا میرے لئے ممکن نہیں تھا احمدندیم قاسمی اپنے آخری دنوں  میں  مجھ سے سخت کبیدہ خاطر تھے جس پر انہوں نے نہایت درشت بلکہ توہین آمیز ردعمل کااظہار بھی کیا تھا لیکن میرا ایک تعزیتی کالم “روزنامہ جناح” اور ایک مضمون سہ ماہی “ادبیات” کے ندیم نمبرمیں  شائع ہوا جبکہ میرے کالم پر عطاء الحق قاسمی کا تبصرہ یہ تھا کہ ندیم کی موت پر لکھی جانے والی تحریروں  میں  سے وہ بہترین تھی حالانکہ میں  بھی ان کے خلاف لکھ کر اپنا سکور برابر کرسکتا تھا لیکن میں  نے ایسا نہیں  کیا البتہ ان کے فن پر میرے جو اپنے خیالات اور تحفظات ہیں  انہیں  ظاہر کرنے کا مجھے ہر وقت حق حاصل ہے جبکہ یہی اصول منیر نیازی پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔
 چنانچہ اپنے پہلے بیان کی طرف لوٹتے ہوئے اگر منیر نیازی کے کھاتے میں  قبول عام کے نمبر کاٹ بھی لئے جائیں  تو خواص کے لئے  بھی وہ اتنا ہی البیلا شاعر تھا اور جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک طباع اور رجحان ساز شاعر تھا اور طبقہ شعراء میں  وہ سردار مانا جاتا تھا ماسوائے چندنہایت قلیل مستشنیات کے حتیٰ کہ اردو اور پنجابی دونوں  زبانوں  میں  اس کے اسلوب کے پیروی کرنے کے بھی کوشش کی جاتی رہی مختصر نظم جہاں  اس کا طرہ امتیاز رہی وہاں  غزل میں  بھی مصحفی جیسے اساتذہ سے براہ راست متاثر ہونے کے باوجود وہ اس صنف سخن میں  بھی اپنی ایک طرز نکالنے میں  کامیاب رہا چنانچہ روایت کی مضبوط زمین پر کھڑا ہونے کے باوصف اس کے اشعار میں  جو جدید طرز احساس وافر مقدار میں  پایا جاتا ہے یہ اس کا خصوصی کنٹری بیوشن تو ہے ہی اس کی شان امتیاز بھی  اسی سے قائم ہوئی ۔
بدلہ لیا  حسرت اظہار سے ہم نے
آغاز کیا اپنے ہی افکار سے ہم نے

دوسری زندگی ……..یاسمین حمیدکا کل کلام

 
دوسری زندگی ……..یاسمین حمیدکا کل کلام

 
zafar-iqbal.jpg
 
 
 
 
 

میں ایک کاہل ، غیر منظم اورغیر ذمہ دار آدمی ہوں ۔ کتابیں جو میرے پاس آتی ہیں ان کی رسید دینا میری سرشت ہی میں شامل نہیں ۔ ہر کتاب بھیجنے والا میری رائے کا طلب گار ہوتا ہے جسے میں ہرگز سند نہیں سمجھتا اور نہ ہی دوسروں کو سمجھنا چاہیے ظاہر ہے کہ رائے مجھے اپنے کالم ہی کے ذریعے دینا ہوتی ہے چنانچہ کچھ کتابیں اس سعادت سے محروم بھی رہ جاتی ہیں اصولی طور پر ادارتی صفحہ پر سیاسی اور معاشرتی مسائل پر مشتمل تحریریں ہی شائع ہونی چاہئیں لیکن اخبار کی مروت کی وجہ سے مہینے میں میرے دو چار اس طرح کے کالم بھی نکل جاتے ہیں جس سے میرے منہ کا ذائقہ بھی تبدیل ہو جاتا ہے اور شاید قاری کا بھی۔ بہرحال ہر کتاب پر رائے دینا میرے لئے ممکن بھی نہیں ہوتا نہ ہی یہ کوئی تبصرہ یا تجزیہ ہوتا ہے بلکہ کتاب کا صرف ذکرہو جاتا ہے یہ چھپ گئی ہے اور مجھے کیسی لگی ہے وغیرہ وغیرہ ۔
 یاسمین حمید اب ہمارے ممتاز اور سینئر لکھنے والوں میں شمار ہوتی ہیں غزل،نظم اور نثری نظم میں اہل ادب سے اپنا لوہا منواچکی ہیں میں پہلے بھی ان کے مجموعوں پر گاہے بگاہے اپنی رائے دے چکا ہوں اب “دوسری زندگی “کے عنوان سے انہوں نے اپنے چاروں شعری مجموعوں کو یکجا کردیا ہے تاہم سن اشاعت کے حوالے سے انہوں نے ان کی ترتیب کو الٹا دیا ہے چنانچہ جو قاری ان کے فن کاارتقائی جائزہ لینا چاہے وہ اس کتاب کو الٹی طرف سے بھی شروع کر سکتا ہے کتاب کا پس سرورق نامور نقاد شمس الرحمان فاروقی نے لکھا ہے جبکہ فلیپ ہماری سربرآوردہ افسانہ نگار خالدہ حسین کا تحریر کردہ ہے۔ عمدہ گیٹ اپ اور انتہائی خوبصورت سرورق کے ساتھ سات سو صفحات پرمحیط یہ کتاب دانیال کراچی نے شائع کی ہے جس کی قیمت ساڑھے سات سو روپے رکھی گئی ہے ان دونوں بڑی شخصیات نے شاعرہ کی کھل کر دی جس کے اعادہ کی ضرورت ہے نہ گنجائش ۔
مذکورہ بالا ہرسہہ اصناف سخن پر میں بساط بھر اپنے خیالات اور تحفظات کا اظہار کرتا ہوں ایسا لگتا ہے کہ آج کل لکھی جانے والی غزل کا معتدبہ حصہ نزع کے عالم میں ہے جبکہ نظم اپنے جواز کيلئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے بلکہ اگر یہ بھی کہا جائے تو کچھ ایسا غلط نہ ہوگا کہ اپنی درماندگی کے باوجود غزل نظم کے راستے کی دیوار بنی ہوئی ہے کیونکہ ہمارا قاری جو بنیادی طور پر غزل اور ئنٹیڈ ہے نظم اس کے گلے سے ٹھیک طرح سے اتر نہیں رہی بے شک نظم نے اپنی روایتی اور پابند حیثیت اور ہیت کو ترک کرکے اپنے آپ کو اپ ڈیٹ کیا ہے لیکن یہ صنف بوجوہ رعایتی نمبروں ہی کے بل بوتے پرکھڑی ہے اور غزل کی طرح ہمارے  لہو میں رچنے بسنے کيلئے اسے ایک مزید اور مناسب عرصہ درکار ہوگا نیز جیسا کہ میں پہلے بھی کہیں عرض کر چکا ہوں غزل کو اس گئی گزری حالت میں بھی نظم کے مقابلے میں سہولت حاصل ہے کہ اس کا شعر دومصرعوں ہی میں اپنا حساب بے باک کر دیتا ہے جبکہ نظم پانچ سے لے کر پچاس مصروں پرمشتمل ہو سکتی ہے اس صورت میں کہ قاری کے پاس شاعری کو دینے کيلئے بہت کم وقت رہ گیا ہے اور جو روز بروز مزید کم ہورہا ہے ۔
عمدہ شاعری کيلئے وہ نظم ہو یا غزل قاری تلاش نہیں کرنا پڑتا بلکہ قاری خود اس کی تلاش میں رہتا ہے اور کہیں نہ کہیں سے اسے ڈھونڈ بھی نکالتا ہے چنانچہ بری غزل اور بری نظم کی طرح اعلیٰ درجے کی نظم اور غزل بھی کہی جارہی ہے لیکن مقدار میں آٹے میں نمک کے برابر ہے اور شاعری اس بات سے صرف نظر کرکے تخلیق کی جارہی ہے کہ اس کا کوئی جواز اور ضرورت بھی ہے یا نہیں اچھی شاعری اور اچھا تاثر مل جاتا ہے لیکن عمدہ شاعری اوراعلیٰ درجے کا شاعر خا ل خال  ہی نظر آئے گا۔ بے شک ہمارے ہاں ہر طرح کی شاعری کا قاری دستیاب ہے لیکن زندہ رہنے والی تازہ مختلف اور جاندارشاعری جو وقت کی ضرورت ہے اس کے حوالے سے ہمارا ہاتھ خاصا تنگ ہے شاعر جس اندرونی مجبوری کے تحت شعر کہتا ہے اس کے مظاہرے نت نئے شائع ہونے والے مجموعوں میں دیکھے جا سکتے ہیں جو شعر کی صورتحال سے مایوس کرنے کيلئے کافی ہیں بہت سی خواتین و حضرات عمر بھر موزوں گوئی ہی کو شاعری سمجھ کر اپنااور اپنے جیسے قارئین کا کام چلاتے رہتے ہیں ۔
تاہم اچھے  ،بہت اچھے اوربرے اور بہت برے کا حساب ساتھ ساتھ ہوتا رہتا ہے لیکن شاعری کا عموعی معیاریقینی طور پر رو بہ زوال ہے جو بھی شعری مجموعہ دیکھیں عام طور پر فنی نقائص سے پاک اور نک سکھ سے درست ہونے کے باوجود مطلوبہ تازگی سے محروم نکلتا ہے اور یار لوگ پامال راستوں پرہی سفر کرتے نظر آتے ہیں جبکہ اصل شاعری ہمیشہ سے نئے راہ گزاروں  کی مقتضی رہی ہے لیکن نیا راستہ نکالنا بھی کوئی آسان کم نہیں ہے اس کيلئے جرأت بھی درکار ہوتی ہے اور قوانین بھی اصل مسئلہ بھی یہی ہے کہ شاعری ہر پندرہ بیس سال کے بعد اپنا فیشن تبدیل کرنے پر مجبور ہوتی ہے اور اس کے کھیتوںکی سیرابی کيلئے نئے پانیوں کی ضرورت درپیش رہتی ہے جس کيلئے شاعر کو خود ہی چشمہ کھودنا ہوتا ہے جبکہ شاعری کو اخلاقی اقدار میں بھی محبوس کردیا گیا ہے ۔ حضرت امیر خسرو ؒ کا قول ہے کہ نیک طبع شاعر اپنی تازہ غزلوں سے ایک سفینہ تیار کرتا ہے لیکن وہ سفینہ دریا پار نہیںکرسکتا چنانچہ شاعر جب تک کسی طوفان سے آشنا نہیں ہوتا اس کی موجوں میں اضطراب نہیں آسکتا۔
یاسمین حمید کی شاعری ایسی ہی ہے جیسے اسے ہونا چاہیے تھا بلکہ یوں کہناچاہیے کہ جیسی ایک خاتون کی شاعری ہونی چاہیے یعنی نہایت شریفانہ ، متین اور نجیب الطرفین لہذا اسے اسی تناظر میں دیکھناچاہیے اپنے جن مسائل و خصائل کا میں نے ابتداء میں ذکر کیا ہے ان میں ایک یہ بھی ہے کہ اکثر کتابیں میں پوری پڑھ بھی نہیں پاتا اور اتنی ہی پڑھتا ہوں جتنی میں کالم آرائی کيلئے ضروری اور کافی سمجھتا ہوں اور اگر شاعری پڑھے جانے کے قابل ہو تو یہ سلسلہ بعد میں بھی چلتا رہتا ہے اس کتاب کے سرسری مطالعہ سے مجھي” تھوک دی میں نے یہ نظم” بطور خاص اچھی لگی جو کچھ اس طرح سے ہے ” تھوک دی  میں نے یہ نظم “لوچاٹ لو اسے ، اپنی لمبی زبان سے ، میں نے صبر کیا ، اور تمہارا نام بدل دیا، میں نے آگ پھانک لی ، اورتمہیں سمندر نہ سمجھا ، میں نے اپنے خاکستری رنگ پر غور کیا ، اور  تمہارے خون کی رنگت پر ہنسی ، پی لیا میں نے اپنا آنسو ، اور سوکھ گئی صحرا کی طرح ، کاٹ لی میں نے رات، اور صبح کا انتظار نہ کیا، پھوڑ دئیے چراغ ، اور جلالئے اپنے ہاتھ ، اڑا دی ان کی راکھ ، ساتویں آسمان پر ،جہاں سے کوئی پلٹ کر آنا نہیں چاہتا ، سیپیوں سے موتی چن کر ، اچھال دئیے میں نے سمندر میں ، اور بھرلیں کانچ سے اپنے مٹھیاں ، تم نے کبھی خالص خون کی رنگت دیکھی ہے ؟ نہیں ، یہ زخم نہیں، ڈھانپ دیا  زخم کو ، اوربھر دیا گھاؤکو اپنے ہی گوشت سے دان کر دیں اپنی آنکھیں ، اور اپنے جسم کے ٹکروں سے ، ایک اور انسان بنایا ، اگر میں خدا ہوتی  تو اس میں روح پھونک دیتی ، سبحان اللہ کیا نظم ہے نثری نظم کہنے والوں کيلئے ایک مثالی نمونہ ہو سکتی ہے اب اس کو ایک مختصر آزاد نظم بعنوان “تکمیل “دیکھئے۔
“بلا کی بھیڑمیں ، میں نے جو تم سے بات کی ، بے لفظ تھی، لیکن مجھے معلوم ہے ، تم سن رہے تھے ” یاسمین حمید کی غزلوں پر بات ادھارر ہی۔

اوراب ایک تازہ غزل۔

اوراب ایک تازہ غزل۔
گم ہوتے گئے آپ ہی امکان ہمارے
مشکل ہوئے جو کام تھے آسان ہمارے
بکھرے ہو کہاں  ، اے خس و خاشاک  تمنا
غائب ہو کدھر ، اے سروسامان ہمارے
دریاؤں  سے اب سوکھتا ہی جائے گا پانی
اور پھیلتے جائیں گے بیابان ہمارے
ہوگا نہیں  موجود تواضع کیلئے کچھ
رک جائیں گے اب آپ ہی مہمان ہمارے
بازار ہیں  اب ان کی جگہ رونق ہر شہر
یوں  ختم ہوئے خود ہی گلستان ہمارے
بندے بھی درآمدکیے جائیں گے کہ سارے
شیطان ہوئے جاتے ہیں  انسان ہمارے
باہر سے ہی مضبوط نظر آتے ہیں  لیکن
اندر سے یہی جسم ہیں  بے جان ہمارے
 معصوم ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اب تک
دشمن ہیں  ان احوال سے ان جان ہمارے
چوروں  کی ، ظفر ، کوئی ضرورت نہیں  باقی
مامور ہیں  اب خود ہی نگہبان ہمارے