محمد اظہار الحق کی شاعری

 
محمد اظہار الحق کی شاعری

 
zafar-iqbal.jpg
 
 
 
 
 

ایک بات ابتداء ہی سے صاف ہو جانی چاہیے۔ میں  محض ایک غزل گو ہوں  اور اپنے حدود و قیود سے اچھی طرح واقف بھی ۔ اگرچہ غزل کے بارے میں  میری رائے کو کوئی استناد حاصل نہیں  ہے میں  نظم پر بھی اظہار رائے کچھ زیادہ شوق سے نہیں  کیا کرتا جبکہ نثری نظم تو کسی طوربھی میرے دائرہ خیال میں  نہیں  آتی اور اسے غیر متعلق ہی سمجھناچاہیے غالباً اپنی غزل کی ٹیوننگ کی وجہ سے میں  نظم سے بھی ایک طرح کے لطف سخن کا طلب گار رہتا ہوں  حالانکہ میں  نے دیکھا ہے کہ بہت کم نظم گو اس کا اہتمام کرنا ضروری خیال کرتے ہیں  تاہم الحمد اللہ میں  نظم کے حوالے سے کسی تعصب یا تنگ نظری میں  مبتلا نہیں  ہوں  ۔
 میرے سینئرز اور دیگر ہم عصر شعراء جو بنیادی طور پر غزل گو ہیں  پورے التزام کے ساتھ نظم پر بھی طبع آزمائی کرتے ہیں  لیکن فیض اور منیر نیازی کے علاوہ اور کوئی ایسا دستیاب نہیں  ہے جو ہر دور میں  اپنا لوہا منوا سکا ہویا غزل کے ساتھ ساتھ جس کی نظموں  کا حوالہ بھی دیا جاتا ہو۔ میں  اس بات کا بھی قائل نہیں  ہوں  کہ تنگنائے غزل نے انہیں  ساتھ ساتھ نظم گوئی بھی اختیار کرنے پر مجبور کیا ہو یا کچھ ایسی باتیں  موضوعات اور معاملات بھی ہو سکتے ہیں  جن کا غزل میں  اظہار نہیں  کیا جا سکتا ۔ وہ ایسا کسی بے بضاعتی کی وجہ سے کرتے ہوں  تو الگ بات ہے ورنہ کوئی ایسا مضمون یا معاملہ نہیں  ہے جو غزل کے احاطہ کار میں  نہ آتا ہو اسی لئے جن شعراء کی شناخت غزل کی وجہ سے قائم ہوئی وہ نظم میں  کوئی نتیجہ خیزی پیدا نہیں  کر سکے البتہ منہ کا مزہ بدلنے کی اور بات ہے ۔
محمد اظہار الحق شر وع ہی سے غزل کے ساتھ ساتھ نظم بھی کہہ رہے ہیں  لیکن جہاں  مجھے ان کی غزل میں  ایک امتیازی وصف نظر آیا ہے وہاں  ان کی نظم نے مجھے اس طرح سے کبھی متاثر نہیں  کیا ہے حتیٰ کہ وہ آزاد نظم کے علاوہ نثری نظم کی طرف بھی گئے یہ کام شہزاد احمد نے بھی کیا تھا اور اس کا بھی وہی نتیجہ نکلنا چاہیے تھا اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں  کہ میں  نظم یا نثری نظم سے الرجک ہوں  کیونکہ ڈاکٹر وحید احمد، ڈاکٹر جاوید اختر، عذراعباس ، کشور ناہید ، نسرین انجم بھٹی، نصیر احمد ،ناصر احمد ہمیش اور محمد سلیم الرحمان کی کوئی نظم میں  مس نہیں  کرتا جن میں  سے بیشتر نثر ی نظم لکھتے ہیں  ان میں  افضال احمد سید کے علاوہ یقینا کئی اور نام بھی شامل ہیں  ۔
ہر شاعر یہ فیصلہ خود کرتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں  پہلے وہ خود پر بطور شاعر ایمان لاتا ہے اور اس کے بعد اپنے سفر کا باقاعدہ آغاز کرتا ہے البتہ اصناف سخن کے حوالے سے ان پر کوئی پابندی عائد نہیں  ہوتی چنانچہ ہم دیکھتے ہیں  کہ خالص غزل گو ہونے کے باوجود ناصرکاظمی نے “پہلی بارش ” کے عنوان سے طویل نظم بھی لکھی جو اگر چہ غزل ہی کے پیرائے میں  تھی لیکن یہ ذکر ناصر کی غزل ہی رہی خود میں  نے 60ء کی دہائی میں  مجموعہ بھر نظمیں  لکھیں  جو مختلف رسائل میں  شائع بھی ہوئیں  لیکن چونکہ مجھے اصل چیلنج غزل ہی کی طرف سے درپیش تھا اس لئے میں  غزل ہی کا ہو کر رہ گیا اور ہم نے ایک دوسرے کو حتیٰ الامکان خراب بھی کیا چنانچہ میں  اظہار الحق کے حوالے سے بطور خاص یہ بات کہنے پر مجبور ہوں  کہ اس قدر بے عیب غزل لکھنے اور اس صنف کا پوری طرح سے رمزشناس ہوتے ہوئے اسے نظم لکھنے کی ضرورت ہی نہیں  تھی جبکہ اس کی زیادہ تر غزلیں  پہلے ہی نظم کا اندازرکھتی ہیں  ۔
 اظہار کی نظموں  کا پس منظر بھی بالعموم وہی ہے جو اس کا مرغوب ترین ہے اور جو اس کے مزاج کا حصہ بن چکا ہے اور جس کی ابتداء اس کی پہلی نظم بعنوان “اپنے لئے ایک نظم ” ہی سے ہوتی ہے اور جو کتاب کے آٹھ صفحات کو محیط ہے۔ اتنی طویل نظموں  کا بوجوہ اب کوئی رواج اور جواز نہیں  رہاجبکہ اسی موضوع پر بے حد اختصار سے بھی کام لیا جا سکتا تھا اور غزل پہلا سبق ہی ایجاز و اختصار کا دیتی ہے اساسی طور پر ایک غزل گو ہوتے ہوئے اظہار کو جس کا خیال رکھنا چاہیے تھا تاہم اس کے باجود یہ ایک لائق مطالعہ نظم ہے اور قاری پر ایک گہرا اثر چھوڑتی ہے اگرچہ ان نظموں  میں  کوئی آؤٹ سٹینڈنگ نظم دستیاب نہیں  ہوتی جس طرح سے کہ لوگوں  کو اظہار کے شعر یاد ہیں  ۔
 اس مجموعے میں  پابند ، آزاد اور نثری نظمیں  آپس میں  اس طرح شیر و شکر ہیں  کہ آسانی سے ایک دوسری  سے شناخت نہیں  کی جاسکتیں  اسی لئے میں  نے اپنے کسی گزشتہ کالم میں  عرض کیا تھا کہ اگر یہ نثری نظمیں  ہیں  تو انہیں  جملوں  میں  تقسیم کرنے کے بجائے پیرا گرافوں  میں  ہونا چاہیے تاکہ کم از کم ملی جلی نظموں  میں  ان کی تخصیص کی جا سکے ورنہ تو یہ ایک طرف تو قاری کو مشکل سے دوچار کرنے والی بات ہے کیونکہ نظم کا ایک قابل ذکر ابتدائی حصہ پڑھنے کے بعد ہی پتہ چلتا ہے کہ یہ نثری نظم ہے یا آزاد دوسرے اسی طرح ایک سراسر نثری ٹکڑے کو فقروں  میں  تقسیم کرکے اسے نظم کہنے پر اصرار کرناکچھ زیادہ مناسب نہیں  لگتا کہ اگر یہ نثری نظم ہے تو اس کا لباس بھی نثری ہی ہونا چاہیے ۔
 بظاہر ایک سکہ بند غزل گو جب نظم لکھتا ہے تو ورائٹی کی خاطر ہی ایسا کرتا ہے حالانکہ یہی تنوع وہ غزل میں  بھی پیدا کرسکتا ہے خاص طور پر اظہار جیسے قادر الکلام اور غزل کے اندر رچے ہوئے شاعر کيلئے یہ کوئی مسئلہ نہیں  ہو سکتا کیونکہ غزل کو وسعت آشنا کرنا بھی اسی کے فرائض میں  شامل ہے کہ غزل بہرحال اس کے پہلے معاشقے کی حیثیت رکھتی ہے ان تمام تر تحفظات کے باوصف اظہار کی ہر طرح کی شاعری آج بھی ایک نعمت سے کم نہیں  ہے جس کا یہ کتاب ایک اور ثبوت فراہم کرتی ہے ۔
کچھ اگر بے کنار ہے مجھ میں
کون یہ آر پار ہے مجھ میں 

“آنے والاکل” شہزاداحمدکاتازہ مجموعہ کلام

 والاکل” شہزاداحمدکاتازہ مجم“آنےوعہ کلام

zafar-iqbal.jpg

منیرنیازی کی رحلت کے بعدسینئرشعراء میں لے دے کے اب ہمارے پاس احمدفراز اورشہزاد احمدہی رہ گئے ہیں جن کی زندگی کی ہمیں دعائیں مانگتے رہناچاہیے یہ کتاب میرے پاس پچھلے سال سے پڑی تھی ادھرادھرسے جستہ جستہ دیکھی تو مجھ پرکوئی خاص اثر نہ ہواکیونکہ شاعری تواپنے آپ کوخود پڑھواتی ہے اورپڑھنے پرمجبورکرتی ہے چنانچہ عمدہ شاعری کامطالعہ کرتے وقت آپ شاعر پرکوئی احسان نہیں کررہے ہوتے بلکہ الٹااس کے احسان مندہورہے ہوتے ہیں میں کہیں پہلے بھی عرض کرچکاہوں  کہ عمدہ شاعری کرنے والاآپ کامحسن ہوتاہے کیونکہ یہی وہ جنس ہے جوروزبروز کمیاب ہوتی ہوئی اب بالکل ہی مفقود ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے اورکہیں کوئی چمکدار شعرنظر آجائے تونہال کرجاتاہے۔
“آنے والاکل”شہزاداحمد کاچودھواں مجموعہ کلام ہے جبکہ پندرھواں “مٹی جیسے لوگ” کے نام سے زیرترتیب ہے شروع میں کتاب کے ناشر اظہرغوری نے جوخودایک عمدہ اورجدیدنظم گو کی حیثیت سے معروف ہیں شہزاد سے متعلق جملہ کوائف بحسن وخوبی بیان کردیئے ہیں دیباچہ ہمارے دوست اورایک اورسینئر شاعراحمدجاوید نے لکھاہے جوکچھ ضرورت سے زیادہ ہی رسمی واقع ہواہے رسمی قسم کے دیباچے اب بھی لکھے جاتے ہیں لیکن اسے اتنارسمی بھی نہیں ہوناچاہیے کہ ایک گونہ اکتاہٹ پیداکرے۔شاعری کی کتاب کے لیے دیباچہ ضروری نہیں ہوتا اسی خیال سے میں  ني”آب رواں ” کواس سعادت سے محروم رکھاتھا البتہ بعد کے ایڈیشنوں  میں محمدسلیم الرحمن کادیباچہ شامل تھاجوخود بھی اس کتاب کے ناشرانہ اشتراک میں شامل تھے حتیٰ کہ بعد کے مجموعوں  میں بھی جودیباچے شامل ہوئے وہ ناشر ہی کی فرمائش اورضرورت کے تحت آئے تھے چنانچہ یہ دیباچہ بھی ناشر ہی کی ضروریات کاایک حصہ لگتاہے۔
میں ذاتی طور پراس تفصیل کے ساتھ شاعری کی تحسین اورتفہیم کے حق میں نہیں ہوں  بلکہ اس سلسلے میں میرا اپناتھیسس ہے جبکہ تقلیل اظہار کی ضرورت پرمیں اپنے ایک مضمون میں بھی زوردے چکاہوں  اس لیے میں  سمجھتاہوں  کہ جہاں شاعری کورمزیت اوراشاریت وایمائیت کاآئینہ دار ہوناچاہیے وہاں شاعری کے بارے خیال آرائی کوبھی اتنی تفصیل میں نہیں جاناچاہیے اورخودشاعری کی طرح اسے بھی ایمائیت اوراشاریت ہی پرانحصار کرناچاہیے جیسے  آدمی اپنے ساتھیوں  کی وجہ سے پہچاناجاتاہے اسی طرح شاعر بھی اپنے دیباچہ نگاروں  سے پہچانا جاسکتاہے کہ شاعراوراس کے مزاج کوپرکھنے کاایک پیمانہ یہ بھی ہے اندرون سرورق نصف  ڈاکٹرخورشید رضوی نے لکھاہے اورجس مزاج اورذائقے کے وہ شاعر اورنقاد ہیں  اس کااظہار اس مختصر تحریر سے بھی لگایاجاسکتاہے جبکہ باقی نصف پرناشر کی دیگر مطبوعات کی تفصیل درج ہے۔
“آنے والاکل” میں  ٹائٹل  کے اوپرلفظ کل پر باقاعدہ  ضرب لگائی گئی ہے شاید اس لیے کہ شہزاد احمد کے ایک گزشتہ مجموعہ کلام “ٹوٹاہواپل” کوعام طورپر ٹوٹا ہواپل، پڑھاجاتاتھا ،حتیٰ کہ اس کتاب کوایوارڈ دینے کی تقریب میں بھی اناؤنسر نے ٹوٹا ہواپل ہی پڑھا لیکن پل کو توپل پڑھا جاسکتاتھا جبکہ کل کوکسی اورتلفظ سے پڑھناممکن نہیں تھا تاہم یہ احتیاط ٹائٹل بنانے والے نے ازخود یاشاعر کی ہدایت اورفرمائش پر ضرورروا رکھی ہے پس سرورق شہزاد احمد کی رنگین تصویر کے ساتھ جناب عابدحسن منٹو کی تحریرشائع کی گئی ہے یہ کتاب جوغالباًایک اورناشر نیاز احمد(سنگ میل والے) کے نام منسوب  یا معنون ہے حسب معمول نظموں  اور غزلوں  کا مجموعہ ہے جبکہ بہت اعلیٰ گٹ اپ  کے ساتھ شائع ہونے والی 224 صفحات پرمشتمل اس کتاب کی قیمت دوسوروپے رکھی گئی ہے۔اس کتاب میں کوئی نئی بات اس لیے بھی دستیاب نہیں ہوتی کہ یہی باتیں شہزاد اپنے پہلے مجموعوں  میں بھی کہتاچلا آیاہے فلسفہ اورنفسیات اوراس سے متعلقہ موضوعات نے حصہ غزل کوڈل بناکررکھادیاہے کیونکہ ایک ہی طرح کی چودہ کتابوں  کابظاہر کوئی جواز نظر نہیں آتااگر وہ ایک ہی انداز میں تخلیق کی گئی ہوں میں  نے حال ہی میں ایک جگہ عرض  کیاہے کہ میرے سمیت اس عہد کے سینئر(غزل گو) شاعر پیرایہ اظہار کی فرسودگی کاشکارہیں  اوراسے اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے اورجس کی وجہ سے اس شاعری میں تازگی کاگزر کہیں بھی ہوتانظرنہیں آتا۔ میں مروت میں یہ سارامجموعہ ،بالخصوص حصہ غزل سارے کاسارا پڑھ گیاہوں اوراس نتیجے پر پہنچا ہوں   کہ معمولی نہ ہونے کے باوجود یہ معمول کی شاعری ہے قاری کی طرف سے تازگی اورتبدیلی کاتقاضا جائز بھی ہے اوراس کاخیال بھی رکھناچاہیے۔
اصل خرابی یہ بھی ہوئی کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ کچھ ضرورت سے زیادہ ہی لحاظ داری برت جاتے ہیں جس سے ہمیں اس صورتحال کاپتا نہیں چلتا جس میں  ہم یعنی ہماری شاعری مبتلاہوچکی ہوتی ہے تاہم شہزاد کی یہ کتاب پڑھ کرمیں مایوس اس لیے نہیں ہوا کہ وہ ابھی تواتر کے ساتھ لکھ رہاہے اوراگرایک منجھا ہوابلے باز کوئی سکورکیے بغیر بھی آؤٹ ہوجائے تواس کی وہ کلاس بہرصورت برقرار رہتی ہے جس سے وہ تعلق رکھتا ہے اورجس کی وجہ سے اسے دوسروں  میں ایک شان امتیاز بھی حاصل ہوتی ہے ڈاکٹر وزیرآغا نے حال ہی میں شہزاد کواس عہد کانمائندہ غزل گوقراردیاہے اوراس کمزور کتاب کے باوجود اس دعوے یاسند کے صحیح ہونے کوآسانی سے جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔اس لیے بھی کہ اگرشہزاد احمد نہیں تواس عہد کانمائندہ  اورکون ہوسکتاہے جونیئرشعراء میں کچھ لوگ ہاتھ پیر ضرور ماررہے ہیں لیکن ان کیلئے دلی ہنوز بہت دورہے۔
بیشک اس کتاب میں اپنی ڈھب کامجھے ایک شعر بھی دکھائی نہیں دیا لیکن یہی کیاکم ہے کہ شہزاد ابھی لکھ رہاہے جبکہ منیرنیازی نے اپنے انتقال سے پچیس سال پہلے تک لکھنابالکل ہی ترک کررکھاتھا اورمجھے یقین ہے کہ شہزاد خود بھی اس صورتحال پرفکرمندنہیں ہوگا کہ بقول خالد احمد وہ بہرحال جدیدغزل کاامام ہے اورہم سب کواس کامقتدی ہونے کااعزازحاصل ہے شاعر عمدہ شعرکہتاہے یانہیں  یہ اس کی مرضی اورموڈ پرمنحصر ہے اوراگر وہ ایسانہیں بھی کرتاتواس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ عمدہ شعر کہنے کی صلاحیت نہیں رکھتا بعض اوقات یہ بھی ہوتاہے کہ شاعر کی تازہ کتاب اس کے سابقہ اور آنے والے مجموعہ کلام کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتی ہو اس لیے بھی ہم شاعر کے کسی  کم زوردار حصے کونظرانداز نہیں کرسکتے نیزیہ بھی ہے کہ اس امکان کوبھی ردنہیں کیاجاسکتا  کہ ایسی کتاب کاآنے والے زمانے میں کوئی جواز نکل سکتاہو اورشہزاد احمدجیسے فیوچرسٹ شاعر کے کسی مجموعے سے اس بات کی توقع رکھناکوئی غیرمعمولی اوران ہونی بات بھی نہیں ہوسکتی۔
شہزاد احمد کی اصل شناخت اس کی غزل ہی بنتی ہے اگرچہ اس  نے نظمیں  بھی اسی تواتر سے لکھی ہیں  حتیٰ کہ اس کانثری نظموں  کامجموعہ بھی منظرعام پر آچکاہے اسے اس کاکوئی انفرادی تجربہ اس لیے قرارنہیں دیاجاسکتا کہ اس کے اردگرد پہلے ہی نثری نظم بڑے زوروشور سے لکھی جارہی تھی تاہم اس کی حیثیت  بھی ایک مجموعے سے زیادہ کی نہیں بن سکی ۔نظم میں بھی ،غزل ہی کی طرح حیات وکائنات کے موضوعات  شہزاد کوزیادہ مرغوب ہیں اسی لیے ان میں کوئی تنوع نظرنہیں آتا بلکہ حق بات تویہ ہے کہ اتنی نظمیں  تخلیق کرنے کے باوجود کوئی ایک بھی آؤٹ سٹینڈنگ نظم شہزاد احمد کے کریڈٹ میں دستیاب نہیں ہوتی جس کابطور خاص کبھی کوئی حوالہ بھی دیاگیا ہوجبکہ اس کے مقابلے میں اس کی غزل میں ایسے شعر مل جاتے ہیں  جواس لطف سخن کے حامل ہیں جوشعر کیلئے بنیادی حیثیت رکھتاہے خود مجھے اس کے متعدد  اشعار یاد ہیں جومیں لوگوں  کوسنایابھی کرتاہوں ۔

نثری نظم کے بارے میں کچھ مزید

نثری نظم کے بارے میں کچھ مزید


zafar-iqbal.jpg

محمد اظہار الحق میرے ان دوستوں میں سے ہیں جو ہمیشہ میرے دل کے قریب رہے ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کی مدح خوانی کا شرف بھی حاصل ہے شاید اسی لئے ہم ایک دوسرے کے بارے میں بے لاگ رائے کا بھی اظہار کر دیا کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایسی باتیں ہمارے قلبی تعلق پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں مثلاً شب خون (مرحوم) میں میری ایک طویل غزل پر اس کا تبصرہ یہ تھا کہ کیا یہ واقعی میری ہے ؟ اگلے روز اس کا فون آیا کہ اس نے نثری نظموں کے ایک مجموعے کے بارے میں میرا کالم پڑھا ہے جس میں اس کی نثری شاعری کا کوئی تذکرہ نہیں تھا اور یہ کہ کیا مجھے اس کا تازہ مجموعہ “پانی پہ بچھا تخت ” نہیں ملا تو میں نے کہا کہ ملا تو ضرور تھا لیکن شاید کتابوں کے انبار میں کہیں گم ہو گیا جس پر اس نے اپنی کتاب دوبارہ بھیجی ہے ۔
جیساکہ جملہ احباب جانتے ہیں نثری نظم کی بابت میرے اپنے خیالات وتحفظات ہیں نظم نثری ہویا موزوں بدقسمتی سے غزل ہمیشہ ان کے راہ کی دیوار بن کر کھڑی ہوتی ہے بنیادی وجہ یہ ہے اس انتہائی مصروف دنیامیں قاری کے پاس شعر و ادب کيلئے وقت ہی کم ہوا کرتاتھا اب مزید کم ہو گیا ہے چنانچہ غزل کا ہر شعر چونکہ دو مصروں کی ایک مکمل نظم ہوتا ہے اور غزل جتنے بھی اشعار پر مشتمل ہو قاری اپنے حساب سے ایک وقت میں اتنی ہی نظموں سے سرفراز ہو جاتا ہے جبکہ دویا تین صفحوں پر پھیلی نظم بالعموم اس کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوتی ماسوائے مستثنیٰ قسم کے قارئین کے ۔
چنانچہ نظم بھی اگر ذوق و شوق سے پڑھی جائے تو چار چھ مصروںکی مختصر  نظم قاری چونکہ بوجوہ غزل اورینٹڈ ہوتا ہے اس لئے وہ اختصارہی کو ترجیح دیتا ہے اس کی مثال ٹیسٹ میچ اور ون ڈے انٹر نیشنل کے تناظر میں نسبتاً زیادہ قابل فہم ہے کہ رش اور حد سے زیادہ رش ون ڈے میچ دیکھنے والوں ہی کا ہوتا ہے جبکہ ٹیسٹ میچوں میںسٹال زیادہ پررونق نہیں ہوتے اسی طرح منیر نیازی اور محمد علی فرشی کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان کی مختصر نظمیں ہی ہیں اور ون ڈے میچوں کی روز بروز بڑھتی ہوئی مقبولیت بھی اسی رجحان کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔
جہاں تک نثری نظم کا تعلق ہے اور اظہار نے اپنی کتاب پر یہ چٹ بطور خاص چسپاں کرکے بھیجی ہے کہ نثری نظمیں طالب توجہ ہیں تو میری ناقص رائے میں نثری نظم میں اگر وزن کا اہتمام نہیں کیا گیا ہوتا تو اس میں کم از کم شاعری تو ہونی چاہیے کیونکہ یہی چیز نثری نظم کو نظم بنا سکتی ہے محض ایک بیانیہ عبارت جس میںبے شک موضوع بھی قابل ذکر ہو اور اس کی کیفیت بھی موجود ہو تو بھی یہ چیزیں اسے نظم بنانے سے قاصر ہیں جب تک کہ اس میں شاعری نہ ہو کیونکہ شاعر اگر نثر ہی میں ہم کلام ہو رہا ہے تو کم از کم اتنا تو معلوم ہو کہ ایک شاعر بات کر رہا ہے ۔ دوسرے ،جیسے کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ اگر نثری نظم کہلانے کے باجود یہ نثر ہے تو اسے الگ الگ جملوں کی جگہ پیراگراف کی صورت میں کیوں پیش نہیں کیا جاتا کیونکہ ایک تحریر کو محض فقروں میں تقسیم کرنے سے تو نثری نظم نہیں بن سکتی میں نے ایک جگہ کہیں یہ بھی کہا ہے نثری نظم میں زور بیان بطورخاص بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ وہ وزن کی غیر موجوگی کی بھی کسی حد تک تلافی کر دیتا ہے اور اس صفت کو ایک جواز بھی فراہم کرتا ہے اس لحاظ سے وحید احمد کی نظمیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں مثلاً “ہم شاعر ہوتے ہیں ” جو اگر چہ موزوں نظم ہے ۔
بہت سے نثری نظم لکھنے والے شعرائے کرام کے علم میں یہ بات بھی ہونی چاہیے کہ نظم میں زبان کا استعمال اس طرح سے نہیں ہوتا جس طرح سے نثر میں ہوتا ہے چنانچہ نثری نظم کو جہاں شاعری ہونے پر اصرار ہے وہاں استعمال زبان کے اس فرق کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا بصورت دیگر اور کیا طریقہ ہوگا جس سے اسے نثر سے مختلف کہا جا سکے مثلاً نصف صدی پہلے بھی ہمارے ہاں یہ کام غالباً ادب لطیف کے نام پر ہوتا رہا ہے لیکن اس کے نظم ہونے کا دعویٰ کبھی نہیں کیا گیا زیادہ سے زیادہ یہ ایک طرح کے جذباتی اظہار کی ایک صورت ہوتی تھی جس کا اندازہ کسی حد تک شاعرانہ ضرور رہا ہے ۔
نثری نظم اپنے موزوں نہ ہونے کی کوتاہی کی بناء پر نہ صرف اپنے اندر ایک زور دار بہاؤ کی متقاضی ہے بلکہ قاری کو بھی اپنے ساتھ بہا لے جانے کی قدرت رکھتی ہو اور یہ اس سے کوئی ناجائز مطالبہ نہیں ہے ۔ کیونکہ اس کے علاوہ اس میں اور کوئی خوبی بمشکل ہی پیدا کی جاسکتی ہے نہ ہی یہ مطالبہ میں غزل گو کی حیثیت سے کررہا ہوں کیونکہ غزل اور غزل گوؤں سے میرے مطالبات الگ سے موجود ہیں اور نہ ہی میرا نثری نظم سے یہ تقاضا ہے کہ وہ قاری پر اسی طرح سے اثر انداز ہو جس طرح سے کہ غزل ہوتی ہے بلکہ یہ کہ نثری نظم اگر زور دار نہیں ہے اور شاعری سے بھی خالی ہے تو محض ایک نثر کا ٹکڑا ہے، اور ،بس ۔
ان نظموں میں ایک نظم …کی نذر بھی ہے جو کہ نظم کے ایک بہت عمدہ شاعر ہیں تاہم مجھے یہ اچھی طرح سے یا دنہیں ہے کہ وہ نثری نظم بھی لکھتے ہیں یا نہیں اسی طرح ایک نظم افتخار عارف کی نذر ہے لیکن افتخار کی کوئی نثری نظم شاید ہی کبھی میری نظر سے گزری ہو اس لئے بہتر ہوتا کہ اظہار کوئی موزوں نظم افتخار کی نذر کرتے ۔میں نے اپنے مذکورہ کالم میں نسرین انجم بھٹی کی نثری نظموں کا حوالہ دیا تھا اس کے علاوہ نصیر احمد کی بھی نثری نظمیں غالباً دنیا زاد ہی میں میری نظر سے گزری ہیں عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایسی ہی کاوشوں کی بناء پر میں نثری نظم کا قائل ہوا ہوں ۔یہ تو تھے نثری نظم کے حوالے سے میرے ابتدائی اور ناقص خیالات البتہ اظہار کی نثری نظموں پر اپنی رائے میں کسی اور موقعہ کيلئے اٹھا رکھتا ہوں ۔ بشرط زندگی۔

“محبت زمانہ سازنہیں”،نثموں کی ایک اورکتاب

رابعہ سرفراز نے اپنی نثری نظموں کایہ مجموعہ کوئی چارسال پیشتر مجھے فیصل آباد میں ایک مشاعرے کے دوران عنایت کیاتھا میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو نثری نظم کوصنف شاعری تسلیم نہیں کرتے جن میں احمد ندیم قاسمی جیسے ثقہ بزرگ بھی شامل ہیں جبکہ میں دیگر کئی جگہوں پراس کے بارے مثبت رائے دینے کے علاوہ جواز جعفری کے ایک اورطاہراسلم گوراکے دونثری نظموں کے مجموعوں کے دیباچے بھی لکھ چکاہوں ۔شاعری کی ہرصنف اپنی اپنی بساط کے مطابق اس میدان میں اپناکردار اداکررہی ہے چنانچہ صنف کوئی بھی ہو،بذات خود اچھی یابری نہیں ہوتی بلکہ دیکھایہی جاتاہے کہ وہ سامان رسانی کس حد تک کررہی ہے اوراس پر طبع آزمائی کرنے والااس کے ساتھ انصاف کس حد تک روا رکھ رہاہے کہ برے اوربھلے ،اعلیٰ اورادنیٰ کی پہچان بھی اسی حوالے سے قائم ہوتی ہے۔
کتاب کادیباچہ محمدحمید شاہد صاحب کاتحریرکردہ ہے جس میں انہوں نے صنف غزل اور غزل گوؤں کوسب وشتم کانشانہ بنایاہے اورجلے دل کے پھپھولے اس طرح پھوڑے ہیں جوبغض،استہزاد اورباقاعدہ تضحیک کی حدوں کوچھو رہے ہیں غالباً یہ وہی صاحب ہیں جن کے بارے ایک سہ ماہی رسالے کراچی کے ایڈیٹر آصف فرخی فون پربتارہے تھے کہ جواس رسالے میں شائع شدہ میری تحریر کے ضمن میں ان پربرہمی کااظہار کررہے تھے کہ انہوں نے کسی سازش کے تحت انتظار حسین کے خلاف لکھوانا اورچھاپنا شروع کردیاہے اس سلسلے میں جودلچسپ نتائج برآمدہوتے ہیں وہ اس طرح سے ہیں کہ اول تواس تحریر کوانتظار حسین کے خلاف قراردیناان کی دریادلی ہی سے موسوم کیاجاسکتاہے دوم ان کایہ حسن ظن کہ آصف فرخی باقاعدہ سازش کرکے انتظار حسین کے خلاف لکھوارہے ہیں سوم یہ کہ اگربفرض محال وہ تحریر انتظار حسین کے خلاف بھی ہے توکیاخود انتظار حسین اتنے بے استطاعت واقع ہوئے ہیں کہ اس کاجواب نہیں دے سکتے اوراس سلسلے میں انہیں خود حمیدشاہد صاحب کے تعاون اورمدد کی ضرورت ہو اورسب سے آخر پریہ کہ صاحب موصوف ہمیں یہ بھی جتلارہے ہیں کہ ادب میں اختلاف رائے ذاتی مخالفت اورکسی سازش ہی کانتیجہ ہوسکتاہے اوراس نارواسلسلے کوبندہوناچاہیے جبکہ خود انہوں نے آصف فرخی کی اس پرکچھ لکھنے کی دعوت کودرخوداعتنانہیں سمجھا۔
یہ میری نالائقی اورنااہلی ہے کہ میں محمدحمیدشاہد صاحب کے حدوداربعے سے زیادہ واقف نہیں ہوں ماسوائے اس کے کہ سال ڈیڑھ سال پہلے حلقہ ارباب ذوق (لاہور) کے ایک اجلاس میں ان سے علیک سلیک ہوئی تھی اگروہ سمجھتے ہیں کہ غزل اورغزل گوؤں کوبرابھلا کہنے ہی سے نثری نظم کا کوئی جواز نکلتاہے تویہ ان کی مرضی ہے حالانکہ اصل صورتحال شاید یہ ہے کہ ہرصنف سخن خود اپنے استحقاق میں اپنے پاؤں پرکھڑی ہوتی اوراپنے طورپر اپناجواز بھی پیش کرتی ہے شایدانہوں نے غزل اورغزل گوؤں کے ساتھ کوئی اپناحساب برابرکرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ ہماری محدودمعلومات کے مطابق صاحب موصوف شعر نہیں کہتے۔ہاں اگروہ خود نثری نظم میں طبع آزمائی کرتے ہوں توالگ بات ہے تاہم یہ ایک عجیب بات ہے کہ دیباچہ نگار کی اس غزل دشمنی کے باوجود خود شاعرہ نے اپنی کتاب کے سرورق کی پیشانی پرجوشعر سجارکھاہے وہ غزل کاشعر ہے۔
مزیدلطف یہ ہے کہ کتاب کاانتساب ریاض مجید کے نام ہونے کے ساتھ دیباچہ اول بھی انہی کے زورقلم کانتیجہ ہے جونثری نظم میں ہے یہ استاد ریاض مجید کی غالباً پہلی نثری نظم ہے اورشایدآخری بھی ہوکیونکہ چندبرس پہلے شہزاد احمد کی نثری نظموں کے مجموعے کی تقریب رونمائی کے موقع پرریاض مجید نے اسے شاعری ہی ماننے سے انکارکردیاتھاحالانکہ وہ تقریب کی صدارت کررہے تھے بہرحال ایسی تقریب کی صدارت کون کرے گا یاکتاب کادیباچہ کون لکھے گانیزیہ کہ اس کاانتساب کس کے نام ہوناچاہیے یہ خود مصنف ہی کادردسرہوتے ہیں اور ان فیصلوں کاجوبھی نتیجہ نکلتاہو کسی اورکااس کے ساتھ کیاسروکار ہوسکتاہے ماسوائے اس کے کہ مثلاً دیباچہ پڑھ کرایک قاری کے دل میں کتاب پڑھنے کابھی شوق پیدا ہوکیونکہ اس کے برعکس صورتحال خودشاعر کیلئے بھی مفیدثابت نہیں ہوسکتی۔
نثری نظم جسے اس کتاب میں اوراس کے علاوہ بھی کہیں کہیں نثم کانام دیاگیاہے کے بارے میں غلط یاصحیح میرے اپنے خیالات ونظریات ہیں جن کامیں اظہار بھی کرتارہتاہوں اورجس کااعادہ میں یہاں نہیں کرناچاہتا۔ اسے بجاطورپرنظم اسی لیے نہیں کہاجاتا کہ اس میں وہ ڈسپلن ہی مفقود ہے جس کی بناء پرنظم،نظم کہلاتی ہے کہ نظم کامطلب ہی نظم وضبط ہے میں یہاں صرف یہ عرض کرناچاہوں گا کہ اگریہ نظم ہے تواس میں ،نظم وضبط نہ سہی کم ازکم شاعری توہونی ہی چاہیے چنانچہ جن تخلیق کاروں کی کاوشوں کے سبب سے اسے شاعری کے طور پرماناجاتاہے کم ازکم ان تک ہرنئے نثری نظم گوکی رسائی ضرورہونی چاہیے۔مثلاً اسی”دنیا زاد” کے تازہ شمارے میں نسرین انجم بھٹی کی جوتین نثری نظمیں شائع ہوئی ہیں رابعہ سرفراز کوان پرایک نظرضرور ڈال لینی چاہیے اس سے شاعرہ کوفائدہ ہی ہوگا نقصان نہیں ۔
عرض کرنے کامطلب یہ ہے کہ محض نثرکے ایک ٹکڑے کوتوڑتوڑکرمختلف اورمتعدد سطروں میں تبدیل کردینے سے وہ نثرشاعری نہیں بن جاتی چنانچہ اگریہ نثر ہی کی ایک صورت ہے تواسے اعلیٰ اورعمدہ معیار کی نثرتو ہوناہی چاہیے کہ سپاٹ اوربے جان تحریر توعمدہ نثر بھی نہیں کہلاسکتی چہ جائے کہ اسے نظم یانثم ہی کارجہ تفویض کردیاجائے !شاعری جس صنف میں بھی ہواگراسے بیگار سمجھ کرپڑھناپڑے تو اسے کچھ بھی اورکہاجاسکتاہے شاعری نہیں ۔ بلکہ ایسی بعض تحریریں توایسی ہوتی ہیں کہ انہیں سزا سمجھ کرپڑھناپڑتاہے شاعری نروان حاصل کرنے یااپنی معلومات میں اضافہ کیلئے نہیں پڑھی جاتی ذہن وجذبات کی آسودگی کیلئے پڑھی جاتی ہے جس سے لطف اندوزی کابھی ایک پہلونکلتاہے مزیدیہ کہ تحریرگوئی بھی ہو نظم ہوخواہ نثر،اس کی عمدگی کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ قابل مطالعہ ضرور ہو ورنہ اس کاکوئی جواز نہیں ہے کہ بجائے اس کے وہ اکتاہٹ یابیزاری پیداکرے۔
چنانچہ اگرآپ دیباچہ نگار کوہنٹرتھمادیں جس سے وہ قاری کودھمکاتا اورخوفزدہ کرتارہے اورایک صنف کاجواز دوسری صنف کوگالی دے کرپیداکرنے کی کوشش کرے تو یہ صورتحال محض ردعمل پیداکرے گی جس کے ناگوارہونے کاامکان زیادہ ہے میں نہ صرف یہ بات تسلیم کرتاہوں کہ بری غزل بے حدوحساب لکھی جارہی ہے وہاں اس طرزعمل کی مذمت بھی کیاکرتاہوں جومیری مختلف تحریروں سے ظاہر ہے کہ اردوغزل تیزی کے ساتھ ایک کلثیے میں تبدیل ہوتی جارہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تسلیم کرناپڑے گاکہ بری نظم بھی ٹنوں کے حساب سے لکھی جارہی ہے جس میں نثری نظم یعنی نثم بھی شامل ہے تاہم جھگڑا اصناف کانہیں بلکہ جیساکہ اوپر عرض کرچکاہوں سامان رسانی کاہے لیکن محض کسی صنف کوبراکہہ دینایااس کامذاق اڑانامسئلے کاحل نہیں ہے کیونکہ آپ جس صنف کے حق میں کسی دوسری صنف کی برائی بلکہ تضحیک کریں گے تواس سے آپ کی پسندیدہ صنف سخن کابھی کوئی بھلانہیں ہوگا۔
مجھے نہیں معلوم کہ کسی غزل گونے نثری نظم کے خلاف کبھی اس طرح کاکوئی طورمارباندھاہو نہ ہی اس سے کسی بھی زوال آمادہ صنف سخن میں کوئی بہتری پیداہو سکتی ہے چنانچہ جہاں غزل گوؤں کی اس صنف کوروزبروز بگڑتی ہوئی صورتحال کانوٹس لینااوراسے اپٹوڈیٹ بنانے کے بارے میں سنجیدگی سے غورکرنے کی ضرورت ہے وہاں نثری نظم لکھنے والوں کوبھی چاہیے کہ اپنی کارگزاری کوبہتربنائیں اور مثبت راہ عمل اختیارکرنے کوترجیح دیں کہ یہ مسابقت کازمانہ ہے اور کسی بھی منفی طریقے سے کوئی مقام حاصل نہیں کیا جا سکتا کتاب میں 128نثمیں شامل ہیں اور200صفحوں کی صحافت کے ساتھ اس کی قیمت150روپے ہے اور جسے مضبوط جلداورہلکے کاغذ پرقرطاس فیصل آباد سے شائع کیاگیاہے البتہ جس کے متوقع ڈیلکس ایڈیشن کی قیمت200روپے ہوگی۔
آج کامقطع
بچھوؤں کے شہر کا احوال مت پوچھو ، ظفر
جس کی دم پر پاؤں رکھتا ہوں ، وہی سردارہے

“سمبل”2کی اشاعت


zafar-iqbal.jpg

“سمبل” کا دوسرا شمارہ وقت پر شائع ہو گيا ہے اور يہ بساغنيمت ہے ،حصہ غزل اور مضامين البتہ توقعات کے مطابق نہيں  غزليں  ايک ہی طرح کی ہيں  سپاٹ اور بے جان، کہ ايک ہی شاعر کی تخليق لگتی ہيں  غزل پر ايک عرصے سے جو برا وقت آياہوا ہے ،ميں  اس  پرحسب  توفيق حال دہائی کرتا رہتا ہوں  کہ يہ جو ٹريش کے انبار لگائے جارہے ہيں  اور ايک دوسرے کی جگالی کی جارہی ہے اس سلسلے ميں  قدرے خدا ترسی کا مظاہرہ کيا جائے اور اگر اس طرح کی اس انداز ميں  بلکہ اس سے بہتر شاعری پہلے کی جاچکی ہے تو اس شاعری کا آخر کيا جواز ہے جبکہ جہاں  تہاں  محض شعر موزوں  کر نے ہی کو شاعری سمجھا جارہا ہے شعر وادب ميں  رعايتی نمبر نہيں  چلتے جيسا کہ پروفيسر گوپی چند نارنگ نے جيت پر کار کی غزلوں  کی تحسين کے سلسلے ميں  کيا ہے اور اس بات سے صرف نظر کر گئے ہيں  کہ ان کے ممدوح شاعر سے شعر بن بھی پاتا ہے يا نہيں  بيشک نارنگ صاحب بنيادی طور پر نثر کے آدمی ہيں  ليکن شاعری پر بھی وہ گہری نظر رکھتے ہيں  ۔
شعبہ مضامين بھی کم وبيش ايک جيسا ہے جس ميں  ادق موضوعات کو مزيد ادق انداز ميں  زير بحث لايا گيا ہے ادب کو اگر ذہنی مشق يا بيگار بنا ديا جائے تو اس سے اديب کا اپنارعب داب تو قائم ہو جاتا ہے ليکن اس کے ساتھ ساتھ ادب پارے کی تخليق کا مقصد بھی فوت ہو جاتا ہے جبکہ مضمون نگار کا کمال بلکہ غرض تو يہ ہے کہ وہ مشکل مضمون کو بھی عام فہم طريقے سے بيان کر ے تاکہ زيادہ سے زيادہ قارئين اس سے مستفيد ہو سکيں  انگريزی ادب کے حوالوں  کی بھرمار سے اديب کااپنا شوق تو پورا ہو جاتا ہے ليکن تحرير بھی گنجلگ اور ناقابل مطالعہ ہو کر رہ جاتی ہے غالب کے فارسی خطوط کے تراجم سے بھی ماسوائے بوريت کے کچھ حاصل نہيں  ہوتا البتہ غالب کی پيچيدہ بيانی کی دھاک ضرور بيٹھ جاتی ہے آخر مضمون نگار نارنگ کا سااسلوب تحرير کيوں  اختيار نہيں  کر سکتے کہ کم از کم ابلاغ کا تردد تو روا رکھا جاسکے …شاعری ميں  جو جادو جگاتا ہے نثر ميں  ايسا نہيں  کرسکتا نہ ہی قاری اس کے لئے تيار ہوتا ہے کہ مضمون کے ساتھ مضمون نگار کا اپنا بوجھ بھی اس پر لاد ديا جائے ناصر عباس نےئر کی تحرير سميت پہلے چار مضامين اس کی واضح اور افسوس ناک مثاليں  ہيں  جنہيں  سز ا کے طور پر پڑھا جاسکتا ہے شمس الرحمن فاروقی، ڈاکٹر خورشيد رضوی اور ذکريا شاز وغيرہ جو کچھ کہہ رہے ہيں  کم از کم اس کی سمجھ تو آتی ہے جبکہ محولہ بالا تحريریں  قاری کے لئے بھی پريشانی کا باعث بنتی ہيں  وہ عام قاری ہو يا خاص۔
حصہ نظم البتہ بسا غنيمت ہے اور ماسوائے چند ايک کے ،سبھی نظميں  رسالے کے معيار کے مطابق ہيں  ناصرشہزاد کے دونوں  گيت بطور خاص بہت خوبصورت ہيں  تشويشناک امر يہ ہے کہ گيت کی روايت ہمارے ہاں  سے مفقود ہوتی جارہی ہے جس کی جگہ غالباً حمد، نعت اور سلام ومنقبت وغيرہ نے لے لی ہے گيت اگر باقی ہے تو پنجابی کے لوک گيتوں  کی حد تک، جن سے شاديوں  اور ديگر تہواروں  پر بھی کام چلايا جاتا ہے اردو ياہندی کے بھی وہی پرانے گيت ہی چل رہے ہيں  جو شادی کی مختلف رسومات پر کام آتے ہيں  بلکہ ان مواقع پر بھی متعلقہ فلمی گيتوں  کا چلن عام ہو چکا ہے مزيد براں ،ناصر شہزاد کے علاوہ گيت شايد کسی اور شاعر کا سروکار بھی نہيں  رہ گيا ہے ناصر شہزاد کی غزل بھی ايک الگ اور قدرے مختلف پيرايہ اظہار کی حامل ہے۔
پرچے ميں متعدد نثری نظميں  بھی شامل ہيں  نظم نثری ہو يا آزاد، اس کا سائز مزيد مختصر ہونا بيحد ضروری ہے علی محمد فرشی کو اگر علی محمد فرشی بنايا ہے تو اس کی مختصر نظموں  نے جو اس کی پہچان کا بھی درجہ رکھتی ہيں  قاری اپنی بے پناہ مصروفيات کی وجہ سے روز بروز اختصار پسندی کی طرف آرہا ہے اور وہ ڈيڑھ دوصفحوں  کی نظم کا متحمل نہيں  ہو سکتا غزل کی بڑھتی ہوئی مقبوليت کی ايک وجہ يہ بھی ہے کہ اس کا ہرشعردو  مصرعوں  کی ايک مکمل نظم کی حيثيت رکھتا ہے نثری نظم بہرحال اپنا جواز مانگتی ہے اور يہ جواز ماسوائے ابرار احمد کے ديگر شعراء کی نظموں  ميں  موجود بھی ہے کہ جو زور اور وفور نثری نظم کا متقاضی ہے وہ ابرار احمد کی نظموں  ميں  دستياب نہيں  ہوتا نيز يہ نظميں  تو عمدہ نثر کی بھی تشکيل نہيں  کرتيں   چہ جائيکہ  يہ نثری نظميں  کہلا سکيں  علاوہ ازيں  نثری نظم کو نثری ترتيب ميں  ہونا چاہيے جيسا کہ مثلاً احمد ہميش کی نظم ہے  کيونکہ نثری ترتيب ميں  نہ ہو تو يہ آزاد يعنی موزوں  نظم کا دھوکہ ديتی ہے اور قاری کو خاصی پريشانی کے بعد پتا چلتا ہے کہ يہ تو نثری نظم ہے ۔
ڈاکٹر احسن فاروقی پر آصف فرخی ،نوشاد علی پر آفتاب اقبال شميم کا مضمون اور ذکريا شاز کے قلم سے نوبل انعام يافتہ برطانوی نژاد اديب ہيرلڈ پنٹر کا تعارف اور ايوارڈ وصول کر نے کے موقعہ پر اس کی تقريرخاصے کی چيزيں  ہيں  گے بی کے عنوان کے تحت لکھی گئی علی محمدفرشی کی نظم کا تجزيہ يسٰين آفاقی نے کيا ہے بہتر ہوتا اگر ايڈيٹر کے بجائے کسی دوسرے شاعر کی نظم کو اس کا موضوع بنايا جاتا ۔
يا کم از کم ان کا آغاز کسی اور شاعر سے کيا جاتا افسانے میں نہيں پڑھ سکا جبکہ رشيد امجد اور طاہر ہ اقبال وغيرہ کے نام ہی اس بات کے ضامن ہيں کہ معياری ہوں گے 400صفحوں پر مشتمل اس نہايت عمدہ رسالے کی قيمت 150روپے رکھی گئی ، ہے جو مناسب  ہے  اب چند منتخب اشعار:۔
نام پر تيرے رگ جاں سے صدا آتی ہے
ورنہ يہ ساز تو چھڑتا نہيں مضراب سے بھی
(ثمينہ راجہ)
ہم وہ معصوم پرندے ہيں ترے گنبد کي
جن کو دنيا نے خطرناک سمجھ رکھا ہے
(خاور اعجاز)
بادل      با رش والے    موسم خواہش والے
آسمان خوش نہيں زمين سے کچھ
ہو گيا ہے غلط کہيں سے کچھ
( زکريا شاز)
زندگی خرچ ہوئی اپنی صفائی ديتے
ايک دن ميں نہيں منظور کيا ميں نے مجھے
(انجم سليمی)
پھر اس کے بعد کہاں ديکھ پاؤں گا خود کو
ميں اپنا آخری ديدار کرنے آيا ہوں
( شہاب صفدر)
پس اک تماشائے بود و نابوود چل رہا ہے
بدن سے ہوتا ہوا کہانی سے جا رہا ہوں
(

منیر نیازی انتقال کرگئے

munir_niyazi_tasweer.jpg

منیر نیازی انتقال کرگئے

منیر نیازی

zafar Zafar Iqbal

فیض احمد فیض کے انتقال کے بعد اتنے تھوڑے عرصے میں یہ بہت بڑا صدمہ ہے جس سے معاصر شاعری دو چار ہوئی ہے۔ میں نے محُبی افتخار عارف سے کہا کہ نماز جنازہ دو بجے بعد دوپہر ہے اگر آ سکو تو ضرور آنا کہ یہ منیر نیازی جیسوں ہی کی جُوتیوں کا صدقہ ہے جو اچھا شعر کہہ رہے ہو۔ وہ خود شوکت صدیقی کے لیے تعزیتی اجلاس میں پھنسے ہوئے تھے، بتایا کہ دفتر جا رہا ہوں ، وہاں جا کر صورت حال دیکھوں گا کہ کیا بنتی ہے۔ گزشتہ شام اِدھر الحمرا میں سعیّد محمد جعفری کی کتاب”تیر نیم کش” کی رُونمائی تھی جس کی صدارت منیر نیازی کو کرنا تھی لیکن وقت ہونے پر بھی وہ نہ آئے تو میرے استفسار پر اس جلسے کے ناظم اصغر ندیم سیّد نے بتایا کہ “ان کی طبیعت خراب ہے اس لیے وہ نہیں آرہے۔ چنانچہ صدارت کی ذمہ داری انتظار حسین کو سونپی گئی۔ اُس وقت، بلکہ اس اجلاس کے خاتمے تک کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ اس وقت جناح ہسپتال میں ہیں اورزندگی موت کی کشمکش میں مبتلا۔
کج شہر دے لوک وی ظالم سن،
کچھ مینوں مرن دا شوق وی سی
ابھی چند ہی روز پہلے وہ اولڈ راوینز کی طرف سے منعقد کیے گئے ایک مشاعرے کی صدارت کر رہے تھے جس کا مختصر احوال میں بیان کر چکا ہوں ۔ حسبِ معمول مضمحل تھے لیکن بظاہر بشاش بھی نظر آ رہے تھے، مگر وہ اگلی سی بات نہیں رہ گئی تھی کہ جس محفل میں بیٹھے ہوں ، برجستہ جملے بازی سے اپنی موجودگی کا پورا پورا احساس دلا رہے ہوں ۔ سانس کی تکلیف بڑھ گئی تھی، اور گاہے گاہے استعمال کے لیے سانس کو سہولت دینے والا آلہ جیب میں رکھتے۔ فرشی مشاعروں میں بھی کُرسی کا تقاضہ کرتے کہ فرش پر بیٹھنے میں دشواری محسوس کرتے۔ اگرچہ کافی عرصے سے شعر کہنا ترک کر رکھا تھا لیکن اُن کی موجودگی ہی بہت تھی کہ وہ ہیں تو سہی۔ پڑھتے ہوئے اکثر بھول جاتے لیکن سامعین کو چونکہ اُن کا سارا ہی کلام بالعموم،بعض معروف و مقبول نظمیں بالخصوص اَزبر ہوتیں ، اس لیے زیادہ مشکل پیش نہ آتی۔ پھر وہ اس قباحت سے بچنے کے لیے اپنا کوئی مجموعہ کلام بھی ساتھ لانے لگے۔
یہ دلدوز خبر اچانک سنی اور اندر ہی ایک فلم سی چلنے لگی اور ساٹھ کی دہائی میں شروع ہونے والا وہ دور تصویریں بن کر چمکنے دمکنے لگا جو ساہیوال میں ، (جو اس وقت منٹگمری تھا) اس کے ساتھ گزرا تھا اور “جوگی ہوٹل “جن کی صُحبتوں سے آباد ہُوا کرتا تھا۔ منیر نیازی اُن دنوں اپنا رسالہ: “سات رنگ” وہاں سے نکالتے تھے۔ مجید امجد کی طویل تعیناتی وہاں سونے پر سہاگہ تھی۔ ان دو بڑے شاعروں کے علاوہ بھی وہ شہر اُن دنوں کافی پُر رونق رہا کرتا کہ جعفر شیرازی، بشیر احمد بشیر، گوہر ہوشیار پوری، یٰسین قدرت، اکرم خاں قمر اور کئی دوسرے حضرات اسی کہکشاں کے ستارے تھے۔ کچھ عرصے کے لیے نذیر ناجی کا قیام بھی وہاں رہا جبکہ اسرار زیدی جو مفتی ضیاء الحسن کا روزنامہ “خدمت” ایڈٹ کیا کرتے تھے، ابھی اُن دنوں وہیں تھے۔
منیر نیازی کی مثال اس لیے نہیں دی جا سکتی کہ وہ بے مثال اور اپنی مثال آپ تھا۔ شاعری کی معلوم تاریخ میں اس جیسے شاعر کا کوئی سراغ نہیں ملتا اور ایسا لگتا ہے کہ آئندہ کے لیے بھی یہ باب ایک طویل عرصے تک بند ہی رہے گا۔ اپنی شعری فضا کا خالق وہ خود تھا، حالانکہ اس وقت اور اب بھی، یار لوگ بنی بنائی اور پامال راہوں ہی کے مسافر چلے آرہے ہیں ۔ فیض کے بعد وہ واحد شاعر ہے جس نے اپنے ہم عصروں کے علاوہ بعد میں آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کیا، حتٰی کہ آنے والی نسلیں بھی اس کی سحر کاریوں سے متاثر اور مستفید ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گی۔ وہ خود پسند ضرور تھا لیکن اس کے لیے ایسا ہونا بھی بے جواز ہر گز نہیں تھا۔ جو اپنے میدان میں یگانہ ویکتا تھا،اُسے خود پسند بھی اتنا ہی ہونا تھا۔ اُسے کوئی اپنے جیسا نظر نہیں آتا تھا، اس لیے کہ کوئی اُس جیسا تھا ہی نہیں ۔ چنانچہ انتہائی خوش طبع ہونے کے باوجود وہ ایک حد تک مردم بیزار بھی تھا، اور جس کا وہ اظہار بھی کرتا ۔
عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اُکتائے ہوئے رہنا
شعری مصروفیات نہ ہونے کے باوجود وہ گھر سے کم کم ہی نکلتا اور اپنی کم آمیزی کا شعار برقرار رکھتا۔ وہ مشاعروں میں اپنے شاعر ساتھیوں سے خود تو داد وصول کرتا لیکن خود یہ کام فیاضی سے نہیں کرتا تھا جس سے دیگر شعراء اس سے کھنچے کھنچے بھی رہتے جبکہ کئی بار تو مشاعرے میں شریک شعراء نے یہ فیصلہ کیا کہ انہوں نے منیر نیازی کو داد نہیں دینی، لیکن اس نے کبھی اس کی پروا نہیں کی۔ اس لحاظ سے وہ کوئی سر چشمہ فیض نہیں تھا لیکن اس کی شاعری بجائے خود اتنا بڑا منبع فیض تھی کہ جس کا جی چاہے اس سے سیراب ہو سکتا تھا۔ فقرے باز ایسا کہ اس کے کہے، بلکہ کسے ہوئے بے شمار جُملے تو ضرب المثل کی حیثیت اختیا ر کر چکے ہیں ۔ ان کے علاوہ متعدد الفاظ اور تراکیب ایسی تھیں جو اُس نے گھڑ رکھی تھیں اور جنہیں وہ اپنی گفتگو میں استعمال بھی کرتا تھا، اُسی سے مخصوص تھیں ۔
حق تو یہ ہے کہ وہ کسی کو اپنے علاوہ شاعر سمجھتا ہی نہیں تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ ایک طرح سے اُس نے یہ اعلان بھی کر رکھا تھا جو بہت حد تک غلط نہیں تھا کیونکہ شاعری ایک طویل عرصے سے جس تیزی سے زوال پذیر ہو رہی ہے، وہ واحد شاعر تھا جو ان مشکل حالات میں نہ صرف ڈیلیور کر رہا تھا، بلکہ سب کے لیے ایک نمونہ اور چیلنج بھی بنا ہوا تھا۔ اس کے کلام میں جو تاثیر اور طبّاعی تھی وہ بہت کم لوگوں کے نصیب میں آئی ۔ اُسے خوب معلوم تھا کہ وہ کتنا بڑا شاعر ہے، جیسا کہ ہر شاعر کو پتا ہوتا ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔ چونکہ شعر اور مزاح کا تعلق بنیادی ہے، اس لیے وہ ان دونوں نعمتوں سے مالا مال تھا جبکہ کسی زمانے میں اس نے نیم فکاہی کالم بھی اخبارات میں لکھے، اور یہ سلسلہ اس نے ساہیوال میں اپنے رسالي”سات رنگ” ہی میں شروع کر دیا تھا۔
اس نے کچھ عرصہ پبلشنگ کا کام بھی کیا جو آگے نہ چل سکا جبکہ اس نے زندگی میں کوئی کام ٹک کرکیا ہی نہیں ، شاید اس لیے کہ شاعری اور ایسی شاعری جو وہ تخلیق کر رہا تھا، ایک اتنا بڑا کام تھا کہ اُسے اور کسی کام کا خیال ہی کب آ سکتا تھا۔ چنانچہ معاشی مشکلات بھی اُسے ہمیشہ درپیش رہیں اور وہ اپنے پبلشرز کا بھی ہمیشہ شاکی رہا بلکہ بعض تو اُسے بتائے بغیر ہی اس کے مجموعے چھاپ دیتے تھے۔ چنانچہ کتابوں کی تھوڑی بہت رائلٹی جو اُسے میسّر آتی، اُسی پر اُس کاگزارہ تھا یا ٹیلی ویثرن کی مشاورت سے چند ہزار روپے اُسے ہر ماہ مل جاتے، علاوہ ازیں مشاعروں سے اُسے جو”زرِ کثیر” دستیاب ہوتا۔ اچھے وقتوں میں ، بلکہ اپنی آبائی اراضی فروخت کر کے البتہ اس نے لاہور میں ایک خوبصورت گھر ضرور بنا لیا تھا۔مزید برآں ، اس کی سہولت کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایک نئی گاڑی معہ پٹرول و ڈرائیور عطاکر رکھی تھی جس سے بھی اپنی گوشہ نشینی کے باعث زیادہ لطف اندوز نہ ہو سکا تھا۔ وہ اولاد سے محروم تھا اور اسکی ہمیشہ زندہ رہنے والی کتابیں ہی صحیح معنوں میں اُس کی اولاد کا درجہ رکھتی ہیں ۔ منیر نیازی پر ہمیشہ اور بہت کچھ لکھا جاتا رہے گا۔ یہ تو کوئی باقاعدہ تعزیتی کالم بھی نہیں کیونکہ فوری طور پر تو ایسے صدمے کا اظہار بھی کچھ آسان نہیں ہوتا، چنانچہ منیر نیازی کا یہ قرض مجھ پر بھی واجب ہے، خدا اس کی ادائی کی توفیق عطا کرے!

Zafar Iqbal’s Urdu Poems and Writeups

Click here to download PDF of Zafar Iqbal’s Urdu Poems and Writeups.

Introducing ZafarIqbal.org

Zafar Iqbal

Zafar Iqbal
74 B.F. Gor 3
Shadman, Lahore
Pakistan
Residence: 92-42-756-4818
Mobile: 92-333-437-4597